سکھوں کی تنظیم ’’سکھزفار جسٹس‘‘ نے خالصتان کا نیا نقشہ جاری کر دیا

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):سکھز فار جسٹس (ایس ایف جے) نامی تنظیم نے بھارت کا نیا نقشہ جاری کیا ہے جس میں نہ صرف پنجاب بلکہ ہریانہ ، ہماچل پردیش اور راجستھان اور اتر پردیش کے کئی اضلاع کو خالصتان کا حصہ دکھایا گیا ہے۔

سکھز فار جسٹس ایک امریکہ میں قائم سکھ تنظیم ہے جو خالصتان کے قیام کے لیے بھارت سے پنجاب کی علیحدگی کی حمایت کرتی ہے۔ اس تنظیم کے پہلے سربراہ وکیل گورپونت سنگھ پنن تھے۔ اور بھارت میں 2019 میں غیر قانونی ایسوسی ایشن کے اس طور پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

یہ پابندی اس وقت لگائی گئی جب اس نے 2019 میں پنجاب میں آزادی کے لیے ریفرنڈم کی مہم شروع کی تاکہ ایک علیحدہ خالصتان بنایا جائے۔یہ تنظیم 2011 سے سکھوں کے خلاف 1984 کے مہلک آپریشن میں ملوث بھارتی حکومت اور سیاستدانوں کے خلاف ایک طویل پرامن قانونی جنگ لڑ رہی ہے۔

سکھزفار جسٹس تنظیم نے گولڈن ٹیمپل قتل عام میں ملوث کانگریس پارٹی کے اہم رہنمائوں کے خلاف امریکی عدالتوں میں فوجداری اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق کیسز دائر کررکھے ہیں۔فروری 2014 میں ، تنظیم نے 1990 کے دہائی میں بھارت کے وزیر خزانہ کی حیثیت سے اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ ( جو خود ایک سکھ ہیں ) کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مقدمہ دائر کیا تھا جس میں ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے “انسانیت کے خلاف جرائم کے لئے فنڈنگ ​​کی ہے۔ “. انہوں نے 1984 کے سکھ مخالف فسادات پر اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق کو ایک رپورٹ بھی پیش کی۔

سکھز فار جسٹس تنظیم نے بھارتی پنجاب کی ریاست سے علیحدگی کے لیے ’’ریفرنڈم 2020‘‘ کے لیے ایک مہم کا انعقاد شروع کیا تاہم کوویڈ 19 وبائی امراض کی وجہ سے مہم میں تاخیر ہوئی۔

پنجاب قانون ساز اسمبلی کے ایم ایل اے اور اس وقت اپوزیشن لیڈر سکھ پال سنگھ کھیرا نے کہا ، “سکھ ریفرنڈم 2020 بھارت میں پے در پے حکومتوں کی جانب سے سکھوں کے ساتھ تعصب ، امتیازی سلوک اور ظلم و ستم کی مسلسل پالیسی کا نتیجہ تھا”۔نئے نقشے میں واضح طور پر دکھایا گیا ہے کہ یہ علاقہ بھارت سے منقطع ہو جائے گا اور سکھ ملک کو “خالصتان” بنا دیا جائے گا۔

ایس ایف جے نے ان علاقوں کو نامزد کیا ہے جو خالصتان کے قیام کے لیے بھارت سے الگ کیے جائیں گے۔ نقشے میں راجستھان میں دور دراز علاقے بنڈی اور کوٹہ کو بھی ’’خالصتان‘‘ کے طور پر شمار کیا گیا ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ حصے بھارت سے کٹ جائیں گے۔یہ نقشہ تنظیم کی جانب سے دنیا بھر میں غیر جانبدار پرامن ریفرنڈم کے حوالے سے کوششوں سے پہلے جاری کیا گیا تاکہ اگلے ہفتے 31 اکتوبر سے لندن میں کوئین الزبتھ سنٹر میں خالصتان کی تخلیق کی حمایت کا اندازہ لگایا جا سکے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم میں بھارت کے سکھوں کے منصفانہ نصب العین اور مطالبات کے لیے بڑی حمایت جمع ہونے کا امکان ہے۔سکھ مسلسل بھارتی حکومتوں کے ہاتھوں منظم ظلم و ستم اور مسلسل استحصال کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ تحریک خود بھارت کے سیکولر چہرے پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

پوری دنیا میں سکھوں کی مکمل حمایت یافتہ تنظیم کا تازہ ترین اقدام بھارت میں اقلیتوں کی انتہائی جانبدارانہ اور سفاکانہ ہندوتوا حکومت کی گرفت سے نکلنے کی مایوسی کی واضح علامت ہے۔سکھوں کے مطالبات یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت کی اقلیتیں اب واضح طور پر سمجھ گئی ہیں کہ ان کی آنے والی نسلوں کا مستقبل شدید خطرے میں ہے۔

عالمی برادری اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز/ تنظیموں کو لازمی طور پر مسلمانوں اور اقلیتوں اور خاص طور پر کشمیریوں کے لیے آنے والی انسانی تباہی سے بچنے کے لیے مناسب اقدامات کرنے چاہئیں۔