مسلم ریاستوں کو نشانہ بنانا اور عدم تعمیل کے مرتکب مغربی ممالک کو خوش کرنا، اعداد و شمار نے ایف اے ٹی ایف کے “سیاسی” انداز کو بے نقاب کر دیا

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) بغیر کسی اثر و رسوخ کے کام کرنے کے اپنے دعووں کے برعکس خصوصی طور پر مسلم ریاستوں کو نشانہ بنانے کے اپنے “سیاسی” نقطہ نظر کو آگے بڑھانے کے حوالے سے بے نقاب ہوگیا۔

فیٹف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان سے کہا کہ وہ ایکشن پلان کو مکمل کرے حالانکہ وہ پہلے ہی 34 میں سے 30 تجویز کردہ نکات پر عمل کر چکا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کے صدر ڈاکٹر مارکس پلیئر نے میڈیا کو بتایا کہ مجموعی طور پر پاکستان اس نئے ایکشن پلان پر اچھی پیش رفت کر رہا ہے، اب سات میں سے چار نکات مکمل یا بڑی حد تک حل ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آر آئی) کے مرتب کردہ انفولیٹکس ایشوز کے مطابق پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کی عدم تعمیل کا تناسب سب سے کم ہے۔

لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی قیادت میں جنگ میں شامل ہونے کے بعد 80 ہزار جانیں قربان کرنے اور 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانے کے باوجود ملک گرے لسٹ میں موجود ہے۔ پاکستان کے برعکس ایف اے ٹی ایف ہیڈ کوارٹرز والے ملک فرانس کی عدم تعمیل کا تناسب 25 فیصد ہے لیکن فیٹف نے اس پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔

اسی طرح دیگر ممالک بشمول امریکہ کی عدم تعمیل کی شرح 22.5 فیصد ، جاپان 27.5 فیصد ، نیوزی لینڈ 30 فیصد ، جارجیا 32.5 فیصد ، جنوبی کوریا 20 فیصد اور روس 12.5 فیصد ہے لیکن وہ سب گرے لسٹ سے باہر ہیں۔ پاکستان طویل عرصے سے مشاہدہ کر رہا ہے کہ فیٹف کو کچھ ممالک کے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے سیاسی آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور حال ہی میں ترکی کی گرے لسٹ میں شمولیت نے اس دعوے کی تصدیق کی ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان مسلم دنیا کے مسائل جیسے کشمیر ، فلسطین اور خاص طور پر اسلامو فوبیا پر مغربی طاقتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ اسی طرح وزیر اعظم عمران خان بھی چند مسلم دنیا کے رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سمیت پوری دنیا میں اسلامو فوبیا کا مقدمہ جرات سے لڑا۔

وہ واحد رہنما ہیں جنہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نام نہاد سب سے بڑی جمہوریت بھارت کو غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر پامالیوں کے حوالے سے بے نقاب کیا۔حال ہی میں بھارتی وزیر خارجہ نے پاکستان کو “گرے لسٹ” میں رکھنے کے لیے ایف اے ٹی ایف پر اثرانداز ہونے کا اعتراف کیا ہے جس نے اس ادارے کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خلاف تنگ نظری پر مبنی سیاسی عزائم کے لیے ایک اہم تکنیکی فورم کو استعمال کرنا شرمناک عمل ہے لیکن یہ مودی سرکار کے حوالے سے کوئی حیران کن بات نہیں ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے اتوار کے روز بھارتی وزیر خارجہ کے بیان کا حوالہ دیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ہماری وجہ سے پاکستان ایف اے ٹی ایف کی زد میں ہے اور اسے گرے لسٹ میں رکھا گیا ہے۔ اس کے ردعمل میں پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارتی بیان نہ صرف اس کی اپنی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ ایف اے ٹی ایف میں بھارت کے منفی کردار پر پاکستان کے دیرینہ موقف کی بھی تصدیق کرتا ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی رؤف حسن نے ٹوئٹر پر پاکستان کے بارے میں ایف اے ٹی ایف کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایف اے ٹی ایف نے جو بھی ساکھ حاصل کی تھی اسے کھو دیا ہے۔

اب یہ منصفانہ ثالث نہیں ہے۔ اس کے بجائے یہ مغربی سامراجی ایجنڈے کا دست و بازو بن گیا ہے تاکہ کم طاقتور ممالک کو تابع کیا جا سکے ، پاکستان ان میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ چھیڑ چھاڑ بند کی جائے، اب وقت آگیا ہے کہ حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔

ایک حکومتی ترجمان کے بیان کے مطابق ایکشن آئٹمز جو مکمل ہوچکے ہیں ان میں باہمی قانونی معاونت ایکٹ 2020 میں ترمیم ، نامزد غیر مالی کاروباری اداروں اور پیشوں (DNFBPs) کی انسداد منی لانڈرنگ و دہشت گردی کی مالی معاونت کے سدباب کے حوالے سے نگرانی ، فائدہ مند ملکیت کی معلومات کی شفافیت اور DNFBPs کی طرف سے ہدف شدہ مالی پابندیوں پر عمل درآمد شامل ہیں۔

علاوہ ازیں 2021 ایکشن پلان میں بقیہ ایکشن آئٹمز میں منی لانڈرنگ کیسز کی تفتیش اور پراسیکیوشن ، اثاثے ضبط کرنا اور اقوام متحدہ کی لسٹنگ شامل ہیں۔ دونوں ایکشن پلانز کے بقیہ نکات پر پہلے ہی کافی کام ہو چکا ہے۔ ایف اے ٹی ایف فروری 2022 میں پاکستان کی پیش رفت کا اگلا جائزہ لے گا۔

ایک ٹویٹ میں وزیر توانائی اور چیئرمین ایف اے ٹی ایف کوآرڈینیشن کمیٹی حماد اظہر جنہوں نے ایف اے ٹی ایف کے ورچوئل اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی، نے کہا کہ اب صرف کچھ ممالک ٹی ایف ایکشن پلان پر پاکستان کی پیش رفت پر اکثریت سے متفق نہیں ہیں۔ ہم “چیلنجز” کے باوجود اتفاق رائے حاصل کرنے کے قریب ہو رہے ہیں، ہمارا تکنیکی موقف جلد درست ثابت ہو گا۔ ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل حسن اسلم شاد، جنہوں نے فیٹف کے کام کا سالہاسال تجزیہ کیا ہے، نے کہا ہے کہ اگر وہ تمام ممالک کے ساتھ اپنے سلوک میں منصفانہ ہوتے تو وہ برطانیہ کو ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ میں ڈال دیتے، لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے، کیونکہ انہوں نے اپنا ذہن بنا لیا ہے اور پہلے سے تشکیل دیئے گئے تصورات ان کے فیصلوں کو آگے بڑھاتے ہیں۔

ایف اے ٹی ایف کے پاکستان کے متعلق فیصلے نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ طاقتور ممالک کس طرح عالمی منی لانڈرنگ کے نگران کو متاثر کر رہے ہیں۔ حسن اسلم شاد نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف انتہائی سیاسی بن گیا ہے۔