وزیراعظم عمران خان نے ملک کے وسیع تر مفاد میں جرات مندانہ پوزیشن لی ہے، فضائی حدود کے معاملے پر بھی پاکستان کے مفاد کو پیچھے نہیں چھوڑیں گے،وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب

وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب کا اقوام متحدہ امن مشن کے تحت میں وسطی افریقہ میں تعیناتی کے دوران شہید ہونے والے حوالدار محمد شفیق کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ دفتر خارجہ نے فضائی حدود کے حوالے سے امریکی میڈیا کے دعویٰ کو مسترد کر دیا ہے،

وزیراعظم عمران خان نے ملک کے وسیع تر مفاد میں ایک پوزیشن لی ہے اور فضائی حدود کے معاملے پر بھی وہ پاکستان کے مفاد کو پیچھے نہیں چھوڑیں گے، حکومت ملک میں قانون کی بالادستی قائم کرنے، عوام کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے اوپر کام کر رہی ہے، اس حوالے سے کرمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات اہم سنگ میل ثابت ہو گا، اپوزیشن کی مثبت تجاویز کا خیرمقدم کریں گے،

ماضی کی حکومتوں کے ادوار میں این آر او، مک مکائو اور کرپشن ہوتی تھی تاہم وزیراعظم عمران خان نے بدعنوان عناصر اور مافیا کے خلاف آواز اٹھائی، اپوزیشن جماعتیں احتساب کے عمل کو روکنے کیلئے اپوزیشن عدم اعتماد، لانگ مارچ اور استعفوں کی دھمکیاں دے رہی ہے لیکن وزیراعظم عمران خان بدعنوان عناصر کے خلاف بلاتفریق احتساب اور لوٹی ہوئی قومی دولت کی بازیابی کیلئے پر عزم ہیں، موجودہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے اور ملک میں غذائی تحفظ یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے۔

ہفتہ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کا امریکہ کے ساتھ پہلے سے کوئی معاہدہ چل رہا ہے تو اسے عوام کے سامنے لانے میں ہمیں کسی قسم کی عار نہیں ہے، آج وہی بریگیڈ بات کر رہی ہے جو پہلے کہتی تھی کہ امریکہ نے پاکستان سے اڈے مانگے ہی نہیں ہیں،

انہوں نے پہلے ہی ایبسولیوٹلی ناٹ کہہ دیا ہے، اس ملک میں وزیراعظم عمران خان واحد لیڈر ہیں جو 20 سال مسلسل کہتے رہے کہ افغان مسئلہ کا حل جنگ نہیں، بات چیت کے ذریعے مسئلہ کو حل کیا جائے اور انہوں نے ملک میں ڈرون حملوں کے خلاف عملی طور پر آواز اٹھائی۔ فرخ حبیب نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے ادوار میں پاکستان میں ڈرون حملے ہوتے رہے،

دونوں جماعتوں کا معذرت خواہانہ رویہ رہا، کسی نے دنیا کو یہ نہیں بتایا کہ ڈرون حملوں میں پاکستان کو 80 ہزار جانوں اور 160 ارب ڈالر معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، آج پاکستان کا رویہ معذرت خواہانہ نہیں ہے، وزیراعظم عمران خان حقائق سامنے رکھتے ہیں اور وہ پرچیاں بھی نہیں لے کے جاتے، انہیں تمام حقائق ازبر ہیں،

وزیراعظم عمران خان نے پہلے بھی اور افغانستان کے موجودہ حالات کے بعد بھی حقائق دنیا کے سامنے رکھے، پاکستان نے جب اڈوں کے حوالے سے ایبسولیوٹلی ناٹ کہہ دیا تو فضائی حدود بھی کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ پاکستان اپنے مفاد کو پیچھے چھوڑ دے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ پر امن افغانستان کا خواہاں رہا ہے، افغانستان میں امن سے پاکستان کو وسطی ایشیائی ممالک تک تجارت کیلئے رسائی ملے گی، افغانستان کو اس وقت امداد کی ضرورت ہے کیونکہ وہاں پر 90 لاکھ لوگوں کے غربت کی لکیر سے نیچے جانے کا خدشہ ہے، پاکستان چاہتا ہے کہ افغان سرزمین نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، اس سلسلے میں دنیا کو قائل کر رہے ہیں کہ افغانستان کو تنہا نہ چھوڑے، اس کے ساتھ بات چیت کے سلسلے کو برقرار رکھے اور افغانستان میں انسانی بحران سے بچائیں۔

ورلڈ جسٹس پروجیکٹ رول آف لا انڈیکس سے متعلق سوال کے جواب میں فرخ حبیب نے کہا کہ یہ معاملہ پاکستان کے اندر گزشتہ کئی دہائیوں سے چل رہا ہے، جسٹس سسٹم کے اندر خامیاں موجود ہیں، بنچ، بار اور حکومت کو اس کا ادراک ہے، موجودہ حکومت ملک میں قانون کی حکمرانی قائم کرنے، عوام کو فوری اور سستا انصاف مہیا کرنے کیلئے قانون سازیوں کے اوپر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کرمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات کے اوپر کام کر رہی ہے جو اہم پیش قدمی ہے، اس سلسلے میں تمام سٹیک ہولڈرز کے مشاورت کے بعد ان کی ان پٹ کو شامل کیا ہے، قانون تیار ہے اور اس میں 600 کے قریب ترامیم ہیں، اصلاحات سے عدالتوں سے غیرضروری التواﺅں کی حوصلہ شکنی ہو گی اور کیسز فاسٹ ٹریک پر چلیں گے، اپوزیشن کی مثبت تجاویز کا خیرمقدم کریں گے۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیر مملکت نے کہا کہ اصلاحات کوئی راتوں رات کا ایجنڈا نہیں ہے، یہ ایک مستقل پراسیس ہے اور اسے مکمل ہونے میں وقت لگے گا، سابقہ حکومتوں کے ادوار کے اندر نیب نے 16 سالوں میں صرف 200 ارب روپے کی ریکوری کی جبکہ ہمارے دور حکومت کے دوران نیب نے ساڑھے پانچ سو ارب روپے ریکور کئے، موجودہ حکومت نے تین سالوں کے دوران پیرنٹس پروٹیکشن بل، خواتین کیلئے وراثتی حقوق کا بل سمیت متعدد قانون سازیاں کی ہیں اور بہت ساری عوامی مفادات کی قانون سازیاں ابھی پائپ لائن میں ہیں جو عوام کیلئے سنگ میل ثابت ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو بدعنوانی کیسز میں سزا ہو چکی ہے، وہ ملک سے بھاگ گئے ہیں اور اب وہ ملکی قوانین کو ماننے کو تیار نہیں ہے، ان کی بیٹی جو پاکستان میں موجود ہیں ایک سال کے اندر اپنی ہی دائر کی ہوئی اپیل کے اولر بارہ التوائیں لے چکی ہیں، یہ پہلی مجرمہ دیکھی ہیں جو اپنی ہی اپیل کے خلاف التوائیں لے رہی ہیں، مریم صفدر نے تین سال سے اپیل پر فیصلہ نہیں ہونے دیا اور روز نئی سی نئی درخواستیں لیکر آ جاتی ہیں۔

مہنگائی سے متعلق سوال کے جواب میں فرخ حبیب نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے اس وقت پوری دنیا مہنگائی کی لپیٹ میں ہے، حکومت مہنگائی پر قابو پانے، عوام کو ریلیف دینے اور فوڈ سرپلس کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔