اقوام متحدہ کا خواتین اور بچیوں پر تشدد کے خاتمے کے لیے پالیسی میں تبدیلی پر زور

اقوام متحدہ ۔25نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے خواتین اور بچیوں پر تشدد کے خاتمے کے لیے پالیسی میں تبدیلی پر زور دیاہے۔ چینی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کی ایک تقریب کو بتایا کہ خواتین پر تشدد ناگزیر نہیں ہے۔

انہوں نے وڈیو پیغام میں کہاکہ گذشتہ سال شراکت دار ممالک میں مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی میں 22 فیصد اضافہ ہواہے، 84 قوانین اور پالیسیاں منظورکی گئیں اور 650,000 سے زیادہ خواتین اور لڑکیاں وبائی امراض سے متعلق پابندیوں کے باوجود صنفی بنیاد پر تشدد کی صورت میں متعلقہ خدمات تک رسائی حاصل کرنے کے قابل تھیں۔

انہوں نے کہا کہ تبدیلی ممکن ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی کوششوں کو دوگنا کریں تاکہ ہم مل کر 2030 تک خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کو ختم کر سکیں۔ انہو ں نے یاد دہانی کروائی کہ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد آج بھی دنیا میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔

اقوام متحدہ کی خواتین کے تازہ ترین اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وبائی مرض کورونا وائرس کے دوران خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔ 13 ممالک میں تمام خواتین میں سے تقریباً نصف نے اطلاع دی ہے کہ خواتین کو وبائی امراض کے دوران صنفی بنیاد پر تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ تقریباً ایک چوتھائی خواتین نے رپورٹ کیا کہ گھریلو تنازعات کثرت سے بڑھ گئے ہیں۔