سی پیک کے دوسرے مرحلے میں چین اور پاکستان کے درمیان پہلا زرعی معاہدہ طے پاگیا ،پاکستان سے پیاز چین کی منڈی میں بھیجے جائیں گے

بیجنگ۔25نومبر (اے پی پی):چین اور پاکستان کے درمیان صنعتی اور زرعی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے چین پاکستان اقتصادی راہدی (سی پیک)کے دوسرے ترقیاتی مرحلے میں دونوں ممالک میں پہلا زرعی معاہدہ طے پاگیا ہے جس کے تحت پاکستان سے پیاز چین کی منڈی میں بھیجے جائیں گے۔

چین میں پاکستانی سفارتخانے نے چینی اخبار گلوبل ٹائمز کو دیئے گئے ایک بیان میں بتایا گیا کہ یہ معاہدہ چین کی منڈی میں پاکستان سے پیاز کی مصنوعات کی رسائی کو آسان بنائے گا اور پاکستان کو پیاز کی مقامی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے میں مزید مدد دے گا۔

پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ نے پاکستان میں قومی غذائی تحفظ اور تحقیق کی وزارت کے ساتھ پاکستان سے درآمد شدہ پیاز کے معائنے کی ضروریات کے لیے ایک پروٹوکول پر دستخط کرنے کے بعد سفیر نے کہا کہ سی پیک اعلی معیار کی ترقی کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جس میں زرعی تجارت، کولڈ چین سٹوریج اور دیگر شعبوں میں مضبوط دوطرفہ تعاون کو بہتر بنانے کے ساتھ صنعتی اور زرعی تعاون پر توجہ دی گئی ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ سید فخر امام نے اس موقع پر کہا کہ چین ایک بہت وسیع اور پختہ صارف منڈی ہے اور پاکستان چین کے ساتھ زرعی تعاون بڑھانے اور چین کو آم، چیری اور ڈیری مصنوعات جیسی اعلیٰ معیار کی مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دینے کی امید رکھتا ہے۔

یہ معاہدہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے میں دونوں ممالک کے درمیان زرعی برآمدات سے متعلق پہلا معاہدہ ہے اور یہ چین میں پاکستانی پیاز کی منڈی تک رسائی کا آغاز ہے۔تجزیہ نگاروں نے کہا ہے کہ اس معاہدے سے سی پیک کے دوسرے مرحلے کی تعمیر کو فروغ دینے اور زراعت میں باہمی تجارت کو مزید مضبوط کرنے میں مدد ملے گی ۔

پاکستانی سفارتخانے نے کہا کہ 2020 میں چین پاکستان آزاد تجارتی معاہدے (سی پی ٹی اے) کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کے بعد سے دوطرفہ تجارت میں مزید مضبوط ہوئی ہے اور مزید پاکستانی مصنوعات چینی مارکیٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

چینی سفیر نے زور دیا کہ پاکستان کے ساتھ رواں سال جنوری سے ستمبر تک زرعی تجارت 860 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، چین کو پاکستان کی برآمدات 630 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جو کہ سال بہ سال دوگنا اضافہ ہے۔صرف آم کی برآمدات 37.4 ٹن تک پہنچ گئی جو 2020 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی75فیصد مصنوعات پرمحصولات 2020 سے بتدریج صفر کر دیئے گئے ہیں، جس نے پاکستان سے زیادہ اعلیٰ معیار کی زرعی مصنوعات کے لیے چین تک رسائی فراہم کی ہے۔