حکومت نے 120ارب روپے سے احساس راشن پروگرام شروع کیا ہے،احساس راشن پروگرام سے 2کروڑ خاندان مستفید ہوں گے ،ڈاکٹر ثانیہ نشتر

حکومت نے 120ارب روپے سے احساس راشن پروگرام شروع کیا ہے،احساس راشن پروگرام سے 2کروڑ خاندان مستفید ہوں گے ،ڈاکٹر ثانیہ نشتر

لاہور۔25نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ اور تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے 120ارب روپے سے احساس راشن پروگرام شروع کیا ہے جس سے 2کروڑ خاندان مستفید ہوں گے ،اس پروگرام میں 3اشیائے خورد و نوش دالیں،تیل گھی اور آٹے پر 30فیصد 1000 روپے کی سبسڈی دی جائے گی،یہ وفاق، کے پی کے ،پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کا پارٹنرشپ پروگرام ہے،مستحق افراد اور کریانہ سٹور مالکان کی الگ الگ رجسٹریشن کر رہے ہیں،پروگرام لانچ ہو چکا ہے اب اس کی رجسٹریشن چل رہی ہے جبکہ 15 دسمبر سے لوگ اس سے مستفید ہونا شروع ہو جائیں گے،انٹرنیشنل ڈونرز کا اس پروگرام میں کوئی فنڈ شامل نہیں ہے،اس پروگرام میں 65 فیصد صوبائی حکومتوں اور 35 فیصد وفاقی حکومت کا فنڈ شامل ہو گا،ابھی تک اتنا بڑا پروگرام دنیا میں نہیں آیا،مستقبل میں ہو سکتا ہے یہ سبسڈی پیٹرول یا دوسری چیزوں پر بھی ہو،جس سے یہ تین کی بجائے چھ چیزوں پر ہوگی۔

وہ جمعرات کے روز 90شاہراہ ایوان وزیر اعلیٰ میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور،صوبائی وزیریاور عباس اور صدر نیشنل بنک عارف عثمانی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ ہم یہ پروگرام اس تناظر میں لا رہے ہیں ایک ٹارگٹڈ سبسڈی دوسرا مہنگائی کے خلاف،پچھلے دوسال سے ہماری حکومت اس پروگرام پر کام کر رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اینڈرائیڈ فون کریانہ دوکان کے لیے ضروری ہے جس میں ایپ ہوگی جبکہ صارف نے صرف جا کراپنا میسج دکھانا ہے،جو بھی 8171 پہ رجسٹر کرے وہ اس نمبر سے پیغام بھیجے جو اس کے نام پہ رجسٹرڈ ہوتا کہ وہ جب جائیں تو اس پہ سبسڈی لاگو ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ڈویلپ نہیں کیا گیا بلکہ احساس ایک ایمبیریلا پروگرام ہے،بینظیر پروگرام کے بہت سے پروگرامز کرپشن کیوجہ سے بند ہو گئے جن کو آج تک بھگت رہے ہیں۔ثانیہ نشتر نے کہا کہ ہم ٹیکنکلی سروے کرتے ہیں تاکہ اس کے گھر کا جائزہ لیا جا سکے،اس کی حد اکتیس ہزار تک آمدن والے افراد نہیں بلکہ پچاس ہزار تک والے بھی اپلائی کرسکتے ہیں،ہم نے جب یہ پروگرام شروع کیا تو سب صوبوں سے بات کی تھی بلوچستان اور سندھ نے ابھی تک اس میں شمولیت کی حامی نہیں بھری،جن صوبوں نے سبسڈی نہیں دی وہاںوفاق کا پینتیس فیصد ہر صوبے میں پہنچے گا۔

انہوں نے بتایایہ پروگرام وزیر اعظم کی خاص ہدایت پر شروع کیا جا رہا ہے جس میں حکومتی رعایت مستحقین تک پہنچے گی جس طرح کرونا میں کیش تقسیم کیا تھا اسی تناظر میں اور انہی اصولوں پر یہ پروگرام تشکیل دیا ہے،ہم نے اسلام آباد میں ون ونڈو سینٹر بنایا ہے جہاں تمام سہولیات ایک ہی جگہ پر میسر ہوتی ہیں جو جعلی میسجز موصول ہوتے ہیں اس کو کاونٹر کرنے کے لیے ہم اپنا سسٹم مزید سخت بنا رہے ہیں تاکہ ایسے افراد کی ضمانتیں نہ ہوں۔

ترجمان پنجاب حکومت و معاون خصوصی وزیر اعلی پنجاب حسان خاور نے کہا کہ اس وقت عالمی منڈی میں پام آئل کی قیمتیں بڑھنا سب سے بڑا مسئلہ ہے،آڑھتی اور پھڑیوں کا اور زخیرہ اندوزوں کا بھی مہنگائی میں کردار ہوتا ہے، اس وقت بارہ سو سے زائد پرائس مجسٹریٹس مارکیٹوں میں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت سے درخواست ہے عوامی معاملات پر سیاست نہ کریں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم کو تقریبا تین کھرب کا سود دینا پڑتا ہے جو پیسے واپس کرنے ہیں وہ اتنے زیادہ ہیں کہ قرض لیے بغیر واپس نہیں ہو سکتے،ہم قرض اتار رہے ہیں اور کوشش کررہے ہیں تاکہ حکومت چلانے کے لیے قرضے نہ لینے پڑیں۔

صوبائی وزیرسماجی بہبود آبادی و بیت المال نے کہا کہ جب سوال کریں توخیال رکھیں یہ حکومت کی جانب سے پہلا قدم ہے چھوٹا ہے یا بڑا ہے،ایپ بنانے کا مقصد ہے کہ سب اس میں برابر شرکت کر سکیں،ایپ کے ذریعے ہر طبقہ حکومت کے اس بڑے پروگرام سے مستفید ہو سکے گا۔