روس کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعلقات کوفروغ دینا چاہتے ہیں، روسی کمپنیاں پاکستان میں توانائی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے سازگارماحول سے استفادہ کریں، وفاقی وزیر عمرایوب خان کاروسی خبرایجنسی کو انٹرویو

اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیراقتصادی امورعمرایوب خان نے کہاہے کہ پاکستان توانائی، ایل این جی اورریلویزسمیت روس کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کوفروغ دینا چاہتا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ روسی کمپنیاں پاکستان میں توانائی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے سازگارماحول سے استفادہ کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے روسی خبررساں ایجنسی تاس کو انٹرویومیں کہی ہے۔

پاک روس بین الحکومتی کمیشن کے اجلاس کے دوسرے روزماہرین کے گروپس نے پاکستان اور روس کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر بات چیت کی ۔ پاکستان کے متعلقہ وزارتوں کے نمائندے ویڈیو لنک کے ذریعے ماہرین کے گروپس میں شرکت کر رہے ہیں۔فریقین کے درمیان ٹرانسپورٹ، تجارتی حجم، کسٹم ڈیوٹی، زرعی اجناس، ہوائی سفر اور دیگر شعبوں میں تعاون کے بارے میں بات چیت ہورہی ہے۔ ماہر ین کے گروپس کے جمعرات کے اجلاسوں کے بعد مشترکہ مینٹس پر دستخط کئے جائیں گے۔

وفاقی وزیراقتصادی امورعمرایوب خان اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کررہے ہیں۔اجلاس کے موقع پرروسی خبررساں ایجنسی کو انٹرویودیتے ہوئے عمرایوب خان نے کہاکہ اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان توانائی اورتجارتی تعلقات کے فروغ سمیت اہم امورپرتفصیلی بات چیت ہورہی ہے۔انہوں نے کہاکہ افغانستان میں صورتحال کی بہتری تک چار فریقی گیس پائپ لائن منصوبہ تاپی اورکاسا1000 جیسے اہم منصوبوں کے نفاذ واطلاق پرکام موخرکردیا گیاہے، افغانستان میں اس وقت تاپی یا کسی اورمنصو بہ پر کوئی کام نہیں ہورہا ہے، افغانستان میں عالمی بینک کی فی الوقت نمائندگی نہیں ہے۔ صورتحال مستحکم ہونے کے بعد ان منصوبوں پرپیش رفت ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان سٹریم گیس پائپ لائن منصوبہ کے تحت ایک ہزار کلومیٹرپائپ لائن کی تعمیر پر2.5 سے لیکر3 ارب ڈالرتک کے اخراجات کااندازہ ہے۔ روس کے ساتھ شیئر ہولڈر معاہدے پر کام جاری ہے جو 2021 کے آخر تک مکمل ہوجائیگا۔ معاہدے کے مسودے کی منظوری پر روسی فریق منصوبے کی مالی اعانت کے معاملے پر غور شروع کر دے گا۔

عمرایوب خان نے کہاکہ پاکستان میں گیس کی طلب 6 ارب کیوبک فٹ سے زیادہ ہے۔ تقریباً 3 بلین کیوبک فٹ گیس مقامی طور پر پیدا اور 1.2 بلین کیوبک فٹ گیس درآمد کی جاتی ہے۔ مستقبل میں دو نئے ایل این جی ٹرمینلز بنائے جارہے ہیں پاکستان کو مزید 2.6 بلین کیوبک فٹ گیس کی ضرورت ہے اورحکومت اس حوالہ سے ضروری اقدامات کررہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہمیں ملک میں مائع قدرتی گیس ذخیرہ کرنے کی سہولیات بنانے کی ضرورت ہے، جو فی الحال ملک میں موجود نہیں ۔ روسی کمپنیوں کیلئے اس شعبہ میں سرمایہ کاری کے امکانات موجودہیں۔ اس وقت ایل این جی لانے والے جہاز فوری طور پر پائپ میں گیس پمپ کرتے ہیں، اور ایل این جی کو ذخیرہ کرنے کے لیے کوئی جگہ نہیں۔اس حوالہ سے حکومت مختلف آپشنز پر غور کررہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ روسی کمپنیاں نہ صرف پاکستان کو گیس فراہم کر سکتی ہیں بلکہ ایل این جی اسٹوریج کی سہولیات کی تعمیر میں بھی حصہ لے سکتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اورروس کسٹم ڈیوٹی اور بینکنگ تعاون جیسے امورپربات چیت کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ سوویت یونین کے دور میں کراچی میں پاکستانی سٹیل پلانٹ دونوں ممالک کاایک بڑا مشترکہ منصوبہ تھا۔ اس وقت پاکستان سٹریم گیس پائپ لائن کی تعمیر پر کام ہورہاہے ، منصوبے کے آغازسے دیگر روسی کمپنیوں کو دھات کاری، توانائی اور گاڑیوں کی صنعت میں سرمایہ کاری کی ترغیب ملے گی ۔

انہوں نے روس میں پاکستانی طلبا کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ نوجوان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے فروغ میں کلیدی کردار اداکرسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان سٹیل ملز کے مستقبل کے بارے میں 2022 میں فیصلہ ہوگا اس وقت پیداوار کی بحالی سمیت مختلف آپشنزکا جائزہ لیاجارہاہے ۔ سٹیل ملزمیں 1960 اور 70 کی دہائیوں کی ٹیکنالوجیزکا استعمال ہوا اسے کئی سال پہلے بند کر دیا گیا تھا۔ پاکستان کی حکومت سٹیل ملز کو بہتربنانے کاجائزہ لے رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کو سالانہ 10 ملین ٹن اسٹیل کی ضرورت ہے۔ کراچی سٹیل ملزکی صلاحیت 1 ملین ٹن سالانہ تھی۔ پاکستان اب اسٹیل درآمد کر رہا ہے۔ ایک بڑے ملک کے طور پر پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ خود اسٹیل پیدا کرے ۔ اس شعبہ میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجودہیں۔

وفاقی وزیرنے جمعرات کو یورال لوکوموٹو پلانٹ کا دورہ بھی کیا، اس موقع پرگفتگو میں انہوں نے کہاکہ پاکستان ریلویز کے شعبہ میں روس کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا چاہتاہے۔پاکستان کی حکومت روسی بوگیوں، آلات کے استعمال سمیت ریلوے آلات کو جدید بنانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم ریلوے کیلئے بوگیاں اور آلات کو جدید بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس موقع پرسینارا گروپ کے صدرنے کہا کہ ان کی کمپنی پاکستان کے ساتھ برقی ٹرینوں کی فراہمی سمیت تعاون کی کاروباری رابطوں کوفروغ دینے کیلئے پر امیدہے۔

دریں اثنا یورال چیمبرآف کامرس اورپاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈانڈسٹریز کے درمیان اقتصادی اورتجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے ضمن میں مفاہمت کی ایک ستاویز پردستخط ہوگئے۔پاکستان رشیا بزنس کونسل کے سابق چئیرمین محسن شیخ اوریورال چیمبرز کے نائب صدر نے مفاہمت کی دستاویز پردستخط کئے۔وفاقی وزیرعمرایوب خان اورروس میں پاکستان کے سفیر اور پاکستانی سفارتی عملہ و پاکستانی وفد کے اراکین بھی اس موقع پرموجود تھے۔