سانحہ سیالکوٹ اسلام کا تشخص مسخ کرنے کی کوشش ہے، پوری قوم اس سانحہ کے خلاف ایک ساتھ کھڑی ہے، ن لیگ اور پی پی پی نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے خلاف مہم چلائی جو سیاسی خودکشی کے مترادف ہے، چوہدری فواد حسین

اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ سانحہ سیالکوٹ اسلام کا تشخص مسخ کرنے کی کوشش ہے، پوری قوم اس سانحہ کے خلاف ایک ساتھ کھڑی ہے، الیکٹرانک ووٹنگ مشینز لانے کا مقصد ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہے، ن لیگ اور پی پی پی نے اوورسیز پاکستانیز کو ووٹ کا حق دینے کے خلاف مہم چلائی جو سیاسی خودکشی کے مترادف ہے، نواز شریف کی پوری فیملی بیرون ملک مقیم ہے، ہم حسن اور حسین کو بھی موقع دینا چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان میں اپنے والد کی پارٹی کو ووٹ دے سکیں، پاکستان تحریک انصاف کے منشور میں شامل ہے کہ ہم اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق دیں گے اور یہ حق انہیں ضرور ملے گا، کابینہ اجلاس میں ای وی ایم، پبلک اکائونٹس کمیٹی کے آڈٹ نظام میں مضبوطی، مہنگائی میں کمی، قیمتوں میں استحکام پر بات ہوئی، زرعی شعبہ میں 400 ارب سے زائد آمدن ہوئی، افغانستان سے 40 اشیاءپر درآمدی ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کابینہ نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو ملک میں یوریا کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ایک لاکھ ٹن یوریا درآمد کرنے پر پیپرا ضوابط سے جزوی استثنیٰ دینے، خزانہ ڈویژن کی سفارش پر عامر علی خان کو چیئرمین ایس ای سی پی کی دوبارہ تعیناتی اور ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے لئے سیکورٹی اقدامات لینے کی بھی منظوری دی۔

منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے سانحہ سیالکوٹ کی شدید الفاظ کی مذمت کی ہے، سیالکوٹ واقعہ اسلامی تعلیمات کے منافی ہے، یہ اسلام کا تشخص مسخ کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم اور کابینہ نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی ہے کہ سانحہ سیالکوٹ میں ملوث گرفتار ملزمان کا ٹرائل جلد شروع کیا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دینے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ہر فرد کے حقوق کے تحفظ کی پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشرے اور حکومت نے اس سانحہ پر جس طرح ردعمل کا اظہار کیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم ہندوستان اور دیگر ممالک سے بہت مختلف ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف اس طرح کے واقعات روز ہوتے ہیں لیکن وہاں پتہ تک نہیں چل پاتا۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ سیالکوٹ پر پوری ایک ساتھ کھڑی ہے، اے پی ایس سانحہ کی طرح پوری قوم اس سانحہ پر بھی متحد ہے، پاکستان کا ہر شہری اس سانحہ کی مذمت کر رہا ہے۔

چوہدری فواد حسین نے کہا کہ ماضی میں مختلف وجوہات کی بناءپر جو اقدامات نہیں اٹھائے جا سکے، ہم اس جانب آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینز کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ الیکشن کمیشن کو ای وی ایم کے بارے میں اپنی تسلی کرنی چاہئے، الیکشن کمیشن سمیت ہر شخص کے لئے ای وی ایم کا نظام سمجھنا ضروری ہے، سمجھے بغیر تنقید اور اسے مسترد کرنے پر ہمارا اعتراض بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے جو شرائط رکھی تھیں، اس کے مطابق اپنا ٹینڈر کر دے، دنیا میں ای وی ایم کے مینوفیکچررز ای وی ایم لے آئیں گے، ہم اس پر عمل درآمد کرلیں گے، ای وی ایم لانے کا مقصد ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ اور پی پی پی نے جس طرح اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے خلاف مہم چلائی، یہ سیاسی خودکشی کے مترادف ہے، ایسے لگتا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی ذمہ داری صرف پی ٹی آئی پر ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا چاہتے ہیں، یہ ہمارے منشور کا بھی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی پوری فیملی بیرون ملک مقیم ہے، حسن اور حسین کا موقف ہے کہ ان پر پاکستانی قانون لاگو ہی نہیں ہوتا، ایسے لگتا ہے کہ انہوں نے پاکستانی پاسپورٹ پھاڑ کر پھینک دیا ہے۔

چوہدری فواد حسین نے کہا کہ ہم حسن اور حسین کو بھی موقع دینا چاہتے ہیں کہ وہ بھی پاکستان میں اپنے والد کی پارٹی کو ووٹ دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے اپنی پوری زندگی بیرون ملک گزاری، اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق دینے کے حوالے سے ان کی مخالفت کی وجہ نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے منشور میں شامل ہے کہ ہم اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیں گے اور یہ حق انہیں ضرور ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ای وی ایم کے حوالے سے آگاہی پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی میں شامل ممبران قومی اسمبلی نے وزیراعظم سے کچھ عرصہ پہلے ملاقات کی، پی اے سی میں آڈٹ کے نظام کے بارے میں وزیراعظم نے کہا ہے کہ ہر وہ محکمہ یا کمیٹی جو احتساب کو فروغ دے گی، پی ٹی آئی کی حکومت اسے مضبوط کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی جتنی شفاف ہوگی اس سے پاکستان میں شفافیت کو فروغ ملے گا، اس مقصد کے لئے ہم چاہتے ہیں کہ آڈٹ کے نظام میں مضبوطی لائی جائے، ہم پی اے سی کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وفاقی کابینہ کے ارکان نے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے کام کو مزید موثر بنانے اور اصلاحات کے لئے تجاویز پیش کی ہیں۔ مشیر خزانہ، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، عامر ڈوگر اور سیکریٹری کابینہ پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو ان تجاویز کا جائزہ لے کر سفارشات پر مبنی رپورٹ پیش کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ مشیر خزانہ نے وفاقی کابینہ کو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔

چوہدری فواد حسین نے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے ہفتے کمی ہو رہی ہے، حساس اشاریہ انڈیکس میں 0.48 فیصد کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ جنوری سے راشن پروگرام شروع کیا جا رہا ہے جس میں 31 ہزار روپے سے کم آمدن والے افراد کو 30 فیصد رعایت دی جائے گی، دو کروڑ افراد کو 2018ءکے مقابلہ میں کم قیمت پر آٹا ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سندھ میں مہنگائی کی نشاندہی کی جس پر سندھ حکومت نے کچھ اقدامات اٹھائے، کراچی اور حیدر آباد میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کچھ استحکام آیا ہے لیکن مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 1100 روپے ہے جبکہ کراچی میں 1456 روپے اور حیدر آباد میں 1316 روپے ہے۔ اسی طرح کوئٹہ میں آٹا کراچی سے جاتا ہے وہاں بھی آٹے کی قیمت 1400 روپے ہے، اس کے علاوہ راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد، پشاور اور بنوں سمیت ملک کے دیگر حصوں میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 1100 روپے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماسوائے کراچی اور اسلام آباد کے پورے ملک میں چینی 90 روپے فی کلو میں دستیاب ہے، اسلام آباد اور کراچی میں چینی 97 روپے فی کلو میں مل رہی ہے، امید ہے آئندہ چند دنوں میں چینی کی قیمت میں مزید تین سے چار روپے کی کمی ہو سکتی ہے۔

چوہدری فواد حسین نے کہا کہ گھی کی قیمت 399 روپے فی کلو ہے، ہم پام آئل درآمد کرتے ہیں، دنیا میں پام آئل کی قیمتیں بڑھیں گی تو گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ چوہدری فواد حسین نے بتایا کہ دال مونگ اور دال چنا کی قیمتوں میں بھی استحکام آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا موازنا علاقائی ممالک سے کرتے ہیں۔ چائے کے علاوہ دال چنا، دال مونگ، آٹا، چینی، ٹماٹر، چکن، انڈے، تازہ دودھ اور پٹرول کی قیمتیں سری لنکا، بنگلہ دیش اور انڈیا کے مقابلے میں سب سے کم پاکستان میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چوبیس گھنٹے مہنگائی کے حوالے سے پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، ہم دنیا سے الگ نہیں ہیں، اگر دنیا میں قیمتیں بڑھیں گی تو اس کے اثرت یہاں بھی مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کے لئے مہنگائی ضرور ہوئی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس سال زرعی شعبہ میں 400 ارب روپے کی آمدن ہوئی ہے، اب اگر یہ کہا جائے کہ ہم اپنا موازنہ 1947ءسے شروع کر دیں جب پاکستان آزاد ہوا تھا، اس وقت لوگوں کی آمدن بھی دیکھنی چاہئے تھی۔ آمدن اور اخراجات کا موازنہ کر کے ہی ہم صحیح صورتحال معلوم کر سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ منصوبہ بندی ڈویژن اور قومی ورثہ و کلچر ڈویژن نے کابینہ کو ذیلی اداروں میں میں ایم ڈی اور سی ای او کی خالی اسامیوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبہ بندی ڈویژن نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ اس وقت 4 اسامیاں خالی ہیں جن پر تعیناتیوں کا عمل جاری ہے۔ قومی ورثہ کلچر ڈویژن نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ اس وقت صرف دو اسامیاں خالی ہیں جن پر تعیناتیوں کا عمل جاری ہے۔

چوہدری فواد حسین نے کہا کہ وزارت ہوا بازی نے میسرز سکائی ونگز (پرائیویٹ) کو قومی ہوا بازی پالیسی 2019ءکے تحت ہوا بازی لائسنس کے اجراءکی سمری قانونی ضروریات کو پورا کرنے کی وجوہات پر واپس لے لی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ افغان باشندوں کی سہولت کے لئے کابینہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاکستان کی سرزمین سے ہوائی سفر کرنے کی اجازت دی ہے، افغان باشندے اب پاکستان کے ہوائی اڈوں سے دوسرے ممالک باآسانی سفر کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ”دی اکانومسٹ“ نے افغانستان میں انسانی المیہ کا ذکر کیا تھا، آج ”نیویارک ٹائمز“ نے بھی لکھا ہے کہ وہاں کس طرح انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ افغانستان کے لوگوں کو انسانی ہمدردی کے تحت مدد فراہم کر سکیں۔

او آئی سی ممالک کے وزراءخارجہ کا اجلاس پاکستان میں ہو رہا ہے۔ دو لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم افغانستان کو بھیجی جا رہی ہے، 50 ہزار ٹن گندم ورلڈ فوڈ پروگرام کے تحت بھیجی جا رہی ہے جبکہ دو لاکھ ٹن گندم ہم افغانستان بھیج رہے ہیں۔ افغانستان سے 40 اشیاءپر درآمدی ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے تاکہ فوری طور پر افغانستان کے لوگوں کو سہولت مل سکے۔ انہوں نے بتایا کہ میڈیا میں یہ خبریں آئیں کہ وزراءکے بیرون ملک دوروں پر پابندی لگا دی گئی ہے، اس ہفتہ شفقت محمود سعودی عرب میں ہیں، معید یوسف ماسکو اور شاہ محمود قریشی برسلز میں ہیں جبکہ نور الحق قادری دوبئی میں ہیں، اب میڈیا میں غلط خبریں لگا کر ان پر پروگرام بھی کر دیئے جائیں اور جب پیمرا پوچھے تو کہا جائے کہ ہمیں کسی نے کہا تھا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ میڈیا کو سنی سنائی باتوں پر کان نہیں دھرنا چاہئے، فیک نیوز سے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور پورے ملک میں سنسنی پیدا ہوتی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وزارت داخلہ کی سفارش پر عمر سعید خان کو جاسوسی اور قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے پر تین ماہ کے لئے نظر بند کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے وزارت توانائی کی سفارش پر سی ای او گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کی مراعات طے کرنے کا اختیار بورڈ کو تفویض کرنے کی منظوری دی۔

کابینہ نے وزارت توانائی کی سفارش پر قاضی محمد طاہر کو بطور سی ای او قبائلی علاقہ جات الیکٹرک سپلائی کمپنی (ٹرائبل ایریاز الیکٹرک سپلائی کمپنی) تعینات کرنے کی منظوری دی۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی سفارش پر پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کو ادا کی جانے والی مارکنگ فیس کی یکساں شرح مقرر کرنے کی سمری اگلے اجلاس تک موخر کر دی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سید عطاءالرحمان کو تین ماہ یا مستقل ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی تک پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹرجنرل کا اضافی چارج دینے کی منظوری دی گئی ہے۔

اسی طرح کابینہ نے حنان اکرم کو پیپرا بورڈ پر بطور ممبر تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے اوگرا کی سالانہ رپورٹ برائے سال 2019-20ءکی پیشگی اگلے اجلاس تک موخر کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے کمیٹی برائے نجکاری کے 22 نومبر 2021ءکو منعقدہ اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ کمیٹی برائے نجکاری کی زیر نگرانی سب کمیٹی قائم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے 22 نومبر اور یکم دسمبر 2021 کو منعقدہ اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ یو ایس ایڈ پروگرام کی جانب سے دیئے گئے پرسنل اینڈ پروٹیکٹو ایکوئپمنٹ کے ٹیسٹنگ آلات پر کسٹم ڈیوٹی سے استثنی کی اجازت دی گئی ہے۔ گلگت بلتستان کے لئے 10 ہزار میٹرک ٹن اضافی گندم کا کوٹہ، بلکسر ۔ میانوالی اور میانوالی ۔ مظفر گڑھ سڑکوں کی بہتری اور بحالی پروگرام کی منظوری اس میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان سے درآمد کی جانے والی مختلف اشیاءکے ٹیرف میں کمی اور پٹرولیم مصنوعات پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجن پر نظرثانی کی گئی ہے۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مطالبہ زیادہ تھا لیکن ایک روپے 99 پیسے مارجن کی منظوری دی گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کابینہ نے کمیٹی برائے قانون کے 2 دسمبر 2021ءکو منعقدہ اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ ٹریفک جرمانے کی ری شیڈولنگ (موٹر وہیکل آرڈیننس 1965ءمیں ترمیم)، رولز آف بزنس 1973ءکے مطابق نیشنل سیکورٹی ڈویژن کے مخصوص امور، پرائیویٹائزیشن کمیشن (بورڈ ممبران کے استحقاق اور سہولیات) قوانین 2021ءکی منظوری کے علاوہ ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انوسٹی گیشن رولز 2021ءکی منظوری دی گئی ہے۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں زرعی شعبہ میں پانچ بڑی فصلوں کے حوالے سے اہم بریفنگ دی گئی۔

ایک سال کے دوران کسانوں کو 400 ارب روپے کی اضافی آمدن ہوئی، ڈی اے پی 70 فیصد درآمد کی جاتی ہے، عالمی مارکیٹ میں ڈی اے پی کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے جس کے پیش نظر ڈی اے پی کی قیمت یہاں بھی بڑھی ہے لیکن اس کی کھپت میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یوریا کی عالمی سطح پر قیمت 10 ہزار روپے فی بیگ کے قریب ہے لیکن پاکستان میں یوریا 1800 روپے فی بیگ میں مل رہی ہے جو دنیا میں سب سے سستی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کھاد کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، گندم، کپاس، چاول، مکئی اور گندم کی بمپر فصلوں کی توقع ہے، 95 فیصد بھوائی کا ہدف مکمل ہو گیا ہے، رحیم یار خان اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بارشوں کے باعث پانی کے مسائل ہے لیکن دیگر علاقوں میں گندم کی بمپر پیداوار ہوگی، چاول کی فصل پہلے ہی بمپر ہے، اس حوالے سے فخر امام آگاہ کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو ملک میں یوریا کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ایک لاکھ ٹن یوریا درآمد کرنے پر پیپرا ضوابط سے جزوی استثنیٰ دینے کی منظوری دی، خزانہ ڈویژن کی سفارش پر کابینہ نے عامر علی خان کو چیئرمین ایس ای سی پی کی دوبارہ تعیناتی کی منظوری دی، اسی طرح کابینہ نے ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے لئے سیکورٹی اقدامات لینے کی بھی منظوری دی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ چیئرمین نیب کی تقرری کے حوالے سے پہلے یہ طریقہ کار تھا کہ وزیراعظم اپنے نام اپوزیشن لیڈر کو یا اپوزیشن لیڈر اپنے نام وزیراعظم کو بھیج دیتے تھے، اس طریقہ کار کو تبدیل کیا گیا ہے، صدر مملکت پارلیمنٹ کا حصہ ہیں، وہ اپوزیشن اور وزیراعظم سے نام مانگیں گے، اس پراسیس کا آغاز ہوا ہے۔

ای وی ایم کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی پی پی نے 2012 میں قانون سازی شروع کی اس وقت ن لیگ اسے سپورٹ کر رہی تھی، بعد ازاں 2017ءمیں ن لیگ کے دور میں قانون آیا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ جو پراسیس 2012ءمیں شروع ہو اور 2021ءمیں بھی مکمل نہ ہو۔ رانا شمیم کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ان کا معاملہ عدالت میں ہے، وہ توہین عدالت کا مقدمہ بھگت رہے ہیں، انہیں بیرون ملک جانے کے لئے عدالت کی اجازت درکار ہوگی۔ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کے بیان کے حوالے سے سوال پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ نجی محفلیں ہوتی ہیں، جب خاندان بیٹھتے ہیں تو اس میں گانے بھی گائے جاتے ہیں، ہمیں اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے، مریم نواز اور حمزہ شہباز کے ساتھ ہمارا سیاسی اختلاف ہے لیکن نجی زندگی میں ہم ان کی خوشیوں پر انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ہمارا اعتراض صرف یہ ہے کہ قوم کے پیسوں سے شادیاں نہ کریں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انتہاءپسند جماعتیں کبھی بھی مرکزی دھارے میں نہیں آ سکتیں، معاشروں میں ایک دوسرے کی بات سمجھ کر ہی آگے بڑھیں گے تو امن رہ سکتا ہے، پاکستان ایک اعتدال پسند ملک ہے۔ الیکشن کمیشن کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ای وی ایم کے بارے میں ٹیکنیکل کمیٹی پر ہمارا کوئی جھگڑا نہیں، ای سی پی کو اپنا اطمینان کرنا چاہئے، ہم الیکشن کمیشن کی پوری معاونت کر رہے ہیں، امید ہے ای سی پی کی ٹیکنیکل کمیٹی جلد اس معاملے کو نمٹائے گی۔