ریاست پاکستان اقلیتوں کو حقوق کی فراہمی اور تحفظ کی پابند ہے، سانحہ سیالکوٹ میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی، وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس، وزیراعظم میڈیا آفس

اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کابینہ نے سیالکوٹ واقعہ کی سخت مذمت کی اوریہ اظہار کیا کہ یہ اسلام کے امن و سلامتی کے اصل تشخص کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔ ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان اقلیت سے تعلق رکھنے والے ہر باشندے کو حقوق اور تحفظ فراہم کرنے کی پابند ہے۔ وہ تمام افراد جو اس گھنائونے جرم میں گرفتار ہیں، ان کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔ کابینہ نے ملک عدنان کی بہادری کو خراج تحسین پیش کیا اور سراہا، جنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر سری لنکن منیجر کو بچانے کی کوشش کی تھی۔

وزیر اعظم میڈیا آفس کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق اجلاس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین متعارف کرانے اور بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا اختیار دینے کے حوالے سے بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر شبلی فراز نے کابینہ کو الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ملک کے تمام پولنگ اسٹیشنز تک ترسیل و استعمال اور عملہ کی ٹریننگ کے حوالے سے شیڈول کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کابینہ کو عوامی آگاہی مہم کے حوالے سے بریف کیا۔کابینہ نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا اختیار دینے کے قوانین لاگو ہونے کے بعد آئندہ انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے منعقد کرانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اجلاس کے دوران پبلک اکائونٹس کمیٹی کے کام کو مزید موثر بنانے اور اصلاحات کے لیے کابینہ اراکین نے تجاویز پیش کیں۔ مشیر خزانہ شوکت ترین، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، عامر ڈوگر اور سیکریٹری کابینہ پر مشتمل کمیٹی ان تجاویز کا جائزہ لے کر سفارشات پر مبنی رپورٹ پیش کرے گی۔

مشیر خزانہ نے وفاقی کابینہ کو اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں 0.48 فی صد کمی آئی ہے۔ چینی، آٹا اور گھریلو استعمال کی اشیاء کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، 11 اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور19 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے۔کابینہ کو آگاہ کیا گیا کے خطے میں گھی اور چائے کی پتی کی قیمتوں کے علاوہ دیگر تمام گھریلو استعمال کی اشیاء کی قیمتیں پاکستان میں کم ہیں۔ جن میں آٹا، چنے، دال ماش، دال مونگ، ٹماٹر، پیاز، چکن اور پیٹرول شامل ہیں۔ اجلاس میں منصوبہ بندی ڈویژن اور قومی ورثہ و کلچر ڈویژن نے کابینہ کو ذیلی اداروں میں ایم ڈی اور سی ای او کی خالی آسامیوں کے حوالے سے بریفنگ بھی دی۔

منصوبہ بندی ڈویژن نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ اس وقت4 مختلف آسامیاں خالی ہیں جن پر تعیناتیوں کا عمل جاری ہے۔ قومی ورثہ و کلچر ڈویژن نے کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت صرف 2 آسامیاں خالی ہیں جن پر تعیناتیوں کا عمل جاری ہے۔ اجلاس کے دوران افغان باشندوں کی سہولت کے لیے کابینہ نے انسانی ہمدردی کے بنیاد پر پاکستان کی سرزمین سے ہوائی سفرکرنے کی اجازت دی۔ افغان باشندے اب پاکستان کے ہوائی اڈوں سے دوسرے ممالک آسانی سے ہوائی سفر کرسکیں گے۔

کابینہ نے وزارت توانائی کی سفارش پر سی ای او گجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کی مراعات طے کرنے کا اختیار بورڈ کو تفویض کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے وزارت توانائی کی سفارش پر قاضی محمد طاہر کو بطور سی ای او قبائلی علاقہ جا ت الیکٹرک سپلائی کمپنی تعینات کرنے کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی سفارش پر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز کے گریڈ 21 کے آفیسر سید عطاالرحمن کو تین ماہ یا مستقل ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی تک پاکستان سٹینڈرڈز کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کا اضافی چارج دینے کی منظوری دی۔

اجلاس کے دوران کابینہ نے حنان اکرم کو پی پی آر اے بورڈ پر بطور پرائیویٹ ممبر تعینا ت کرنے کی بھی منظوری دی۔ مزید برآں کابینہ نے کمیٹی برائے نجکاری کے 22 نومبر 2021 کو منعقدہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کی، کمیٹی برائے نجکاری کے زیر نگرانی سب کمیٹی قائم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔

اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے 22 نومبر اور یکم دسمبر 2021 کو منعقدہ اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق بھی کی۔ جن میں ذاتی تحفظ کے آلات (پی پی ایز) اور معیاری ادویات کے فروغ کیلئے یو ایس ایڈ فنڈڈ پروگرام کی جانب سے ٹیسٹگ آلات پر کسٹمز ڈیوٹی میں رعائت، گلگت بلتستان کیلئے 10 ہزار میٹرک ٹن گندم کے اضافی کوٹہ کی منظوری، بلکسر میانوالی (این 130) اور میانوالی مظفر گڑھ (این 135) سڑکوں کی بہتری اور بحالی، جذبہ خیر سگالی کے طور پر افغانستان سے درآمد کی جانے والی مختلف مصنوعات پر ٹیرف میں کمی / یا خاتمہ، پٹرولیم مصنوعات پر آئیل مارکیٹنگ کمپنیز اور ڈیلرز کے مارجن پر نظرثانی شامل تھی۔

اس کے علاوہ کابینہ نے کمیٹی برائے قانون کے 2 دسمبر 2021 کو منعقدہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ جن میں ٹریفک جرمانوں میں ردوبدل ( موٹر وہیکلز آرڈینینس 1965 میں ترمیم)، رولز آف بزنس 1973ء کے مطابق نیشنل سیکورٹی ڈویژن کی ذمہ داریوں میں اضافہ، نجکاری کمیشن (بورڈ اراکین کی سہولیات وغیرہ) رولز 2021ء اور فضائی حادثوں کی تحقیقات کے رولز 2021ء شامل تھے۔

وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے کابینہ کو ملک میں کاشت ہونے والی پانچ اہم فصلوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ موجودہ حکومت نے کسان دوست پالیسیاں مرتب کیں جن میں 277 ارب روپے کا قومی زرعی ایمرجنسی پروگرام، 48.586 ارب روپے کا زرعی اصلاحاتی منصوبہ، 1500 ارب روپے کے زرعی قرضے، معیاری بیج کی فراہمی، 148 ارب روپے کی کھاد پر سبسڈی اور کسانوں کے لیے امدادی قیمتوں کا تعین شامل ہیں۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ ان اقدامات کے نتیجہ میں گندم، کپاس، چاول، مکئی اورگنے کی کاشت میں نمایاں اضافہ ہوا اور جو اضافی پیداوار ملے گی اس سے درآمدات میں 2.6 ارب ڈالر کی بچت ہوگی جبکہ ملکی ضرورت پوری کرنے کے بعد پاکستان سے 4.6 ارب ڈالر کی برآمدات کی جا سکیں گی۔ کابینہ کو مزید بتایا گیا کہ گندم کی بوری کی قیمت 1877روپے ہوگئی ہے جبکہ عالمی منڈی میں اس کی قیمت 10ہزار فی بوری ہے۔ کابینہ کے اجلاس میں اضافی ایجنڈا پر بھی غور کیا گیا اور کابینہ نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو ملک میں یوریا کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ایک لاکھ ٹن یوریا کی درآمد پر پی پی آر اے ضوابط سے جزوی استثنیٰ کی منظوری دی۔

اسی طرح خزانہ ڈویژن کی سفارش پر کابینہ نے عامر علی خان کی بطور چیئرمین ایس ای سی پی دوبارہ تعیناتی کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے لیے سیکورٹی اقدامات کی بھی منظوری دی۔