افغانستان میں تیزی سے ابھرتا ہوا انسانی بحران تشویشناک ہے، عالمی برادری، افغان عوام کو انسانی و معاشی معاونت فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ کاوشیں بروئے کار لائے،مخدوم شاہ محمود قریشی

برسلز ۔7دسمبر (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان میں تیزی سے ابھرتا ہوا انسانی بحران تشویشناک ہے، عالمی برادری، افغان عوام کو انسانی و معاشی معاونت فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ کاوشیں بروئے کار لائے۔

یہ باتیں انہوں نے منگل کو برسلز میں واقع نیٹو ہیڈکوارٹر میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ سے ملاقات میں کہیں۔ملاقات کے دوران دو طرفہ باہمی کے معاملات، افغانستان کی ابھرتی ہوئی صورتحال اور دو طرفہ تعاون سمیت علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

جون 2019 میں برسلز میں سیکرٹری جنرل کے ساتھ ہونیوالی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر خارجہ نے کہا کہ اعلیٰ سطح کے سیاسی اور فوجی روابط نے باہمی مفادات کے امور پر دو طرفہ تعاون کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کیلئے پاکستان اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ امن کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ پاکستان، جموں و کشمیر کے تنازع سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے۔

وزیر خارجہ نے افغانستان میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغانستان میں تیزی سے ابھرتا ہوا انسانی بحران تشویشناک ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری، افغان عوام کو انسانی و معاشی معاونت فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ کاوشیں بروئے کار لائے۔

وزیر خارجہ نے ، افغانستان سے مہاجرین کی نقل مکانی کے خطرے کو روکنے، افغانستان کو ایک بار پھر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ اور منشیات کا مرکز بننے سے بچانے کے لیے طالبان کے ساتھ بین الاقوامی برادری کے تعاون کو ناگزیر قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی توجہ افغانستان میں پنپتے ہوئے انسانی بحران کی جانب مبذول کروانے کیلئے پاکستان 19 دسمبر کو او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔سیکرٹری جنرل سٹولٹن برگ نے افغانستان میں نیٹو کی دو دہائیوں پر محیط موجودگی کے دوران پاکستان کی حمایت کو سراہا۔