ادارہ برائے تذویراتی و عصری تحقیق کے زیر اہتمام پاکستان کے قومی سلامتی کے روڈ میپ کی تشکیل نو پر نوجوان محققین کا کنونشن

ادارہ برائے تذویراتی و معاصر تحقیق کے زیر اہتمام پاکستان کے قومی سلامتی کے روڈ میپ کی تشکیل نو پر نوجوان محققین کا کنونشن

اسلام آباد۔6جنوری (اے پی پی):ادارہ برائے تذویراتی و عصری تحقیق(سی ایس سی آر) کے زیر اہتمام جمعرات کو پاکستان کے قومی سلامتی کے روڈ میپ کی تشکیل نو پر نوجوان محققین کے کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔

کنونشن میں نوجوان محققین اور مختلف تھنک ٹینکس، این جی اوز، پالیسی اداروں اور یونیورسٹیوں کے تقریباً 50 ماہرین کو ہمسایہ ممالک کے تعلقات کے استحکام کے لئے علاقائی روابط، سلامتی اور موسمیاتی تبدیلی کی نئی جہتیں اور پائیدار ترقی کی حکمت عملی کے تین موضوعات پر تبادلہ خیال کے لیے مدعو کیا گیا ۔

کنونشن کا افتتاح سی ایس سی آر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انس عبداللہ نے کیا اور اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ ریسرچ کنونشن کے انعقاد کا مقصد نوجوان محققین کی روشن سوچ اور تجاویزکو بروئے کار لاتے ہوئے وسیع تر قومی سلامتی ، معیشت، ماحول اور سماجی شعبوں کی تعمیر وترقی کے مختلف پہلووں کے حوالے سے کردار ادا کرنے کے لئے سمت کا تعین کرنا تھا۔

افتتاحی کلمات کے بعد نیشنل سیکیورٹی ڈویژن سے حسن اکبر، یو این ڈی پی سے عمارہ درانی اور سینٹر فار انٹرنیشنل پیس اینڈ سٹیبلیٹی نسٹ سے ڈاکٹر احمد وقاص وحید نے تین ورکنگ کمیٹیوں کے آغاز سے پہلے اپنے تاثرات دیئے۔ حسن اکبر نے کہا کہ اگرچہ پاکستان نے مختلف مقاصد کے حصول پر سیکورٹی پالیسیاں تیار کی ہیں، یہ پہلی بار ہوا ہےکہ پاکستان نے ایک جامع قومی سلامتی پالیسی روڈ میپ تیار کیا ہے۔

قومی سلامتی پالیسی کی تشکیل کے عمل پر تبادلہ خیال کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس دستاویز کی تشکیل میں تقریباً سات سال لگے ہیں جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز اور اداروں کو شامل کیا گیا ہے۔

حسن اکبر نے کہا کہ معاشی استحکام، انسانی سلامتی اور سائبر سیکورٹی پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی کا بنیادی محور ہیں۔ عمارہ درانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نظریات اور تصورات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہمیں پالیسیوں اور ردعمل کی تشکیل کے لیے عملی اقدامات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے معیشت میں خواتین کی شمولیت کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان کی پالیسی دستاویزات کو عالمی اور انسانی ترقی کے مطابق ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر احمد وقاص وحید نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مقامی علم کی پیداوار اور غیر ملکی میڈیا اور اشاعتوں میں تیار کردہ گفتگو پر کم انحصار کرنے کی اہمیت پر زور دیا ۔ ابتدائی سیشن کے ریمارکس کے بعد ورکنگ کمیٹیوں کا آغاز ہوا۔

ہمسایئگی کے تعلقات کے استحکام کے لئے علاقائی روابط پر گفتگو کرتے ہوئے ورکنگ کمیٹی کے پینلسٹس نے خطے میں علاقائی روابط کو بڑھانے کے لیے اقتصادی اور سیاسی استحکام کے لیے پاکستان میں موثر گورننس کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔ پینلسٹس نے کہا کہ ہمارے اداروں کو طلب اور رسد کے عوامل کا تجزیہ کرنے اور اس کے مطابق پاکستانی شہریوں کو تربیت دینے کی ضرورت ہے۔

تب ہی پاکستان ہر شعبے میں بین الاقوامی روابط کو بڑھا سکتا ہے۔ پینلسٹس نے اقتصادی ترقی کو بڑھانے کے لیے پورے خطے میں مقامی صنعتوں کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ نئی سیکورٹی ڈائمینشنز پر ورکنگ کمیٹی کے پینلسٹس نے جامع پالیسی سازی اور ان پر عمل درآمد کے لیے مربوط نقطہ نظر کو اپنانے کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا جو روایتی اور غیر روایتی سیکورٹی خطرات دونوں میں توازن رکھتا ہے۔

پینلسٹس نے قومی سلامتی کے مسائل پر ادارہ جاتی حد بندی کی ضرورت پر بھی زوردیا تاکہ باہمی مسائل سے بچا جا سکے اور سائبر حکمت عملی اور ڈیجیٹل خواندگی کا روڈ میپ تیار کیا جا سکے جس میں ریاستی اداروں کے ذریعے قابل عمل حکمت عملیوں کو برائے کار لایا جانا چاہیئے ۔ پینلسٹس نے اے آئی اور بڑے ڈیٹا پر فعال قومی حکمت عملیوں کی تشکیل پر بھی زور دیا تاکہ ہنگامی منصوبہ بندی کی جائے اور آبی تحفظ اور انتظام کو ترجیح دینے کی فوری ضرورت ہے۔

کلائمیٹ ایکشن اینڈ سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز پر ورکنگ کمیٹی کے پینلسٹس نے شہریوں کو موسمیاتی تبدیلی کے مظاہر اور اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو درپیش چیلنجز سے آگاہ کرنے کی فوری ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کو تمام شعبوں بشمول نجی، حکومتی، کاروباری اور سول کو شامل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ماحولیاتی ایکشن حکمت عملی پر عمل درآمد کیا جا سکے۔

پینلسٹس نے آبادی اور پانی کے انتظام سے متعلق رہنما اصول بھی تجویز کئے۔ ورکنگ کمیٹیوں کے علیحدہ علیحدہ اجلاسوں کے بعد ہر کمیٹی کے ایک پینلسٹ نے اپنی مجوزہ پالیسیاں، حکمت عملی اور رہنما اصول پیش کیے۔ کنونشن میں مختلف سفارت خانوں، پالیسی اداروں اور بین الاقوامی سرکاری تنظیموں کے نمائندے بھی شریک تھے ۔