صحت کے نظام میں ٹیکنالوجی پرمبنی مہارت ضروری ہے، صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں علاج کی بجائے بیماریوں سے بچاﺅ پرتوجہ دی جائے، صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی کی آغاخان یونیورسٹی میں منعقدہ اجلاس میں گفتگو

صحت کے نظام میں ٹیکنالوجی پرمبنی مہارت ضروری ہے، صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں علاج کی بجائے بیماریوں سے بچاﺅ پرتوجہ دی جائے، صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی کی آغاخان یونیورسٹی میں منعقدہ اجلاس میں گفتگو

اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے صحت کے نظام میں ٹیکنالوجی پرمبنی مہارت کی ضرورت پرزوردیتے ہوئے کہاہے کہ صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں علاج کی بجائے بیماریوں سے بچائوپرتوجہ مرکوزکرنے کی ضرورت ہے۔

صدرمملکت نے یہ بات ہفتہ کوکراچی میں سینٹرآف انوویشن ان میڈیکل یونیورسٹی میں آغاخان یونیورسٹی کی سینئیرقیادت کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

صحت کے نظام میں بیماریوں کے تدارک کے پہلوپرروشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مہنگے علاج کی وجہ سے ملک میں کئی افراد اسپتالوں بالخصوص نجی اسپتالوں میں جانے سے گریزاں ہیں ، صحت کے نظام میں بیماریوں کے تدارک کے پہلووں کو فروغ دینے کیلئےآغاخان یونیورسٹی سمیت ہمارے اسپتالوں کو اس رحجان کی طرف اپنی توجہ مرکوزکرنا چاہئیے ۔

صدرنے کہاکہ ڈینٹسٹری کے 80 فیصد عناصر آن لائن یا ورچوئل ہیں۔ ملک میں نرسنگ عملہ کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیلئے کئی نرسنگ کورسز اورپروگرام آن لائن کرائے جاسکتے ہیں۔

صدرمملکت نے کہاکہ چین نے صحت عامہ کے نظام میں بہتری کے ذریعہ اپنے 80 کروڑ شہریوں کوغربت سے باہرنکالا۔صدرنے آغاخان یونیورسٹی کی فیکلٹی اورڈاکٹروں پرزوردیا کہ وہ معیاری اورمربوط صحت عامہ کے نظام کے قیام کیلئے صاحب بصیرت مفکرین وماہرین کا گروپ قائم کرے۔

قبل ازیں صدرمملکت کو آغاخان یونیورسٹی کی جانب سے بنیادی تعلیم، آوٹ ریچ صحت خدمات، امتحانوں کے نظام اورتحقیق کے بارے میں بریفنگ دی گئی ۔ صدرمملکت کو بتایا گیا کہ یونیورسٹی بنیادی تعلیم، آوٹ ریچ صحت خدمات، امتحانوں کے نظام اورتحقیق کے شعبہ میں کام کےذریعہ سماجی ترقی میں اپنا کردار اداکررہی ہے اوراس حوالہ سے یہ یونیورسٹی ایک قومی اثاثہ ہے۔

صدرمملکت نے آغاخان یونیورسٹی کی خدمات کی تعریف کی اوراسے ملک کے دیگر کلیدی اسپتالوں کیلئے ایک مثال قراردیا۔