سپلائی چین، افراط زر میں اضافہ، بڑھتے قرضوں اور غیریقینی صورتحال سے عالمی سطح پر معاشی شرح نمو سست روی کا شکار ہے، آئی ایم ایف

سپلائی چین، افراط زر میں اضافہ، بڑھتے قرضوں اور غیریقینی صورتحال سے عالمی سطح پر معاشی شرح نمو سست روی کا شکار ہے، آئی ایم ایف

اسلام آباد۔14مئی (اے پی پی):سپلائی چین، افراط زر میں اضافہ، بڑھتے قرضوں اور غیریقینی صورتحال سے عالمی سطح پر معاشی شرح نمو سست روی کا شکار ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ عالمی وبا کے بعد دنیا بھر میں اقتصادی بحالی کے حوالے سے مختلف مسائل درپیش ہیں جن میں سپلائی چین، افراط زر اور قرضوں میں اضافہ سمیت مسلسل غیریقینی کی صورتحال شامل ہیں۔ عالمی برادری کو بعض طویل المدتی اور بعض کم عرصہ کی مشکلات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے عالمی اقتصادی شرح نمو سست روی کا شکار ہے۔

آئی ایم ایف نے عالمی معیشت کو درپیش مسائل کے تناظر میں رواں سال کے دوران اقتصادی شرح نمو میں کمی کا خدشہ ظاہر کیا ہے جبکہ آئندہ سال 2023 میں بین الاقوامی معیشت کی شرح نمو 3.8 فیصد رہنے کی امید ظاہر کی ہے۔

آئی ایم ایف نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ تیز تر معاشی بحالی کیلئے سپلائی چین، افراط زر اور قرضوں میں اضافہ سمیت غیریقینی صورتحال کے خاتمہ کیلئے جامع حکمت عملی کے تحت مربوط اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ معاشی بحالی کے مطلوبہ اہداف کے حصول کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی معیشت کی مشکلات کو بھی کم کیا جا سکے