پاکستان کی سفارتی محاذ پر ایک اور کامیابی ، اقوام متحدہ کی کمیٹی آن انفارمیشن نے آزادی رائے کے اظہار کے تحفظ کے لیے غلط اور گمراہ کن معلومات کی روک تھام کے مطالبے پر مبنی پاکستان کی پیش کردہ2 قراردادیں منظور کر لیں

پاکستان کی سفارتی محاذ پر ایک اور کامیابی ، اقوام متحدہ کی کمیٹی آن انفارمیشن نے آزادی رائے کے اظہار کے تحفظ کے لیے غلط اور گمراہ کن معلومات کی روک تھام کے مطالبے پر مبنی پاکستان کی پیش کردہ2 قراردادیں منظور کر لیں

اقوام متحدہ ۔14مئی (اے پی پی):اقوام متحدہ نے پاکستان کی جانب سے آزادی رائے کے اظہار کے تحفظ کے لیے غلط اور گمراہ کن معلومات کی روک تھام کے مطالبے پر مبنی 2قراردادیں منظور کر لیں جو سفارتی محاد پر پاکستان کی ایک اور کامیابی ہے۔

پاکستان نے بطور جی77چیئرمین اقوام متحدہ کے ڈیپارٹمنٹ آف گلوبل کمیونیکیشن کی کمیٹی آن انفارمیشن کے 44ویں اجلاس میں غلط اور گمراہ کن معلومات کی روک تھام کے مطالبے پر مبنی 2قراردادیں پیش کیں جنہیں منظور کر لیا گیا۔ یہ قراردادیں اقوام متحدہ میں پاکستان مشن کی پریس قونصلر مریم شیخ کی جانب سے پیش کی گئیں۔ قراردادوں کے مسودے مالٹا کے ڈیلیگیٹ ڈیرین کیمیلری نے متعارف کرائے جنہیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔

قراردادوں میں مطالبہ کیا گیا کہ غلط اور گمراہ کن معلومات کی روک تھام کے لیے حقائق پر مبنی معلومات کے آزادانہ بہائو ، صحافیوں کی کارکردگی کو موثر اور آزاد بنانے، ان کے خلاف حملوں کی مذمت اور ترقی پزیر ممالک میں مواصلات کے ڈھانچے اور صلاحیتوں میں امداد کو بڑھانے کی ضرروت پر زور دیا گیا۔

اقوام متحدہ میں پاکستانی ڈیلیگیٹ مریم شیخ نے ترقی پزیر ممالک اور چین پر مشتمل گروپ جی 77 کی جانب سے کہا کہ قراردادوں کے مسودے پر مذاکرات کے سہولت کار کے طور پر بلاک نے ڈیپارٹمنٹ آف گلوبل کمیونیکیشن کے لیے نئی رفتار اور حمایت کو یقینی بنانے کی کوشش کی۔

انہوں نے ڈیلیگیٹس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ہم نے اس سلسلے میں اہم پیش رفت کی ہے۔پاکستانی ڈیلیگیٹ نے فلسطین کے مغربی کنارے اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے الجزیرہ کی خاتون صحافی شیریں ابو عاقلہ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی قبضے کے خاتمےکے لیے فوری اقدامات کرے جو خطے میں کشیدگی اور تصادم،عدم استحکام میں مسلسل اضافے اور مسلم دنیا کے لیے گہری تشویش کا باعث ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن صرف دو ریاستی حل اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ایک قابل عمل، خود مختار اوراسرائیلی سرحدوں سے متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو