عمران خان ملک میں انتشار چاہتے ہیں، یہ سمجھتے ہیں کہ گالی اور دھمکی سے اپنی مرضی کے فیصلے کروا لیں گے، سازش کا بیانیہ اپنا کر اپنی لوٹ مار اور کارکردگی سے عوام کی نظریں نہیں ہٹائی جا سکتیں، مریم اورنگزیب

اسلام آباد۔14مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان ملک میں انتشار چاہتے ہیں، یہ سمجھتے ہیں کہ گالی اور دھمکی سے اپنی مرضی کے فیصلے کروا لیں گے، یہ نہیں ہو سکتا کہ عوام ان سے ان کی کارکردگی پر سوال نہ پوچھیں، سازش کا بیانیہ اپنا کر اپنی لوٹ مار اور اپنی کارکردگی سے عوام کی نظریں نہیں ہٹائی جا سکتیں، عمران خان نے پاکستان کی ساکھ کو کمزور کیا، دوست ممالک سے تعلقات خراب کئے، خارجہ پالیسی تباہ کی، نوجوانوں سے جھوٹ بولا، پاکستان کے عوام کی معاشی تباہی کی، آج پٹرول، ڈالر اور مہنگائی کی شرح جس نہج پر ہے، اس کے ذمہ دار عمران نیازی ہیں، چار سال لوٹ مار کرنے والا نااہل ٹولہ چار ہفتے پہلے آنے والی حکومت سے سوال کر رہا ہے، عمران نیوزی کو سوال کا جواب دینا ہے،

سوال نہیں پوچھنا، عمران خان کس حیثیت سے خیبر پختونخوا حکومت کا ہیلی کاپٹر استعمال کر رہے ہیں؟، سیالکوٹ جلسے کے لئے مذہبی مقام کا انتخاب ناقابل قبول ہے، تحریک انصاف کو کسی نے جلسہ کرنے سے نہیں روکا، مسیحی برادری کے جذبات کا احترام کرنے کی بجائے انہوں نے انتشار پھیلانے کی کوشش کی۔ ہفتہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نالائق، نااہل، چور، جھوٹے، کرپٹ، کارٹلز اور مافیا کا ٹولہ چار سال اقتدار سے چمٹا رہا، اقتدار سے جانے کے بعد تین اپریل سے 12 اپریل تک انہوں نے آئین شکنی کی، آئین شکنی اور پارلیمان پر حملے کا واحد مقصد یہ تھا کہ یہ اپنے اقتدار سے چمٹے رہیں، چاہے مہنگائی ہو یا معاشی تباہی انہیں عوام سے کوئی سروکار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ چار سال تک لوٹ مار کرنے والا نااہل ٹولہ آج سوالات ان سے کر رہا ہے

جن کے پاس چار ہفتوں سے حکومت آئی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سیالکوٹ جلسے کے لئے خیبر پختونخوا کے سرکاری ہیلی کاپٹر کو استعمال کیا جا رہا ہے، ہیلی کاپٹر کیس، بی آر ٹی، پشاور، مالم جبہ سمیت تمام کیسز پاکستان کے عوام کو یاد ہیں، عمران نیازی خیبر پختونخوا کا سرکاری ہیلی کاپٹر کس حیثیت سے استعمال کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس کوئی سرکارہ عہدہ یا ایسی کوئی پوزیشن نہیں کہ وہ خیبر پختونخوا کا سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کر سکیں، سرکاری وسائل استعمال کر کے اداروں کو گالیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نااہل ٹولے نے جھوٹے الزامات لگا کر اپنے سیاسی مخالفین کو سزائے موت کی چکیوں میں ڈالا، میڈیا کی آواز بند کی، صحافیوں کو گولیاں ماریں،

صحافیوں کی بچیوں کو ان کے گھروں کے باہر سے اغواء کیا، چار سال تک اپنے دور میں انہوں نے اینکرز کے پروگرام بند کئے، اپنے دور اقتدار میں انہوں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو آرڈیننس کے ذریعے چلایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی ہیلی کاپٹر کیس ہے جس کو دبانے اور سوال نہ پوچھنے کے لئے انہوں نے خیبر پختونخوا میں احتساب کمیشن کو تالہ لگایا، نیب کو وفاق اور دوسرے صوبوں میں استعمال کیا اور خود کل اس بات کا اعتراف کیا کہ میں نیب کو ان لوگوں پر کیسز بنانے کے لئے استعمال کرتا تھا۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور نوجوانوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ آج خیبر پختونخوا میں عمران خان کی حکومت کو نو سال ہو گئے ہیں اور نو سال سے احتساب کمیشن کو تالہ لگا ہوا ہے۔ احتساب کمیشن کو تالہ لگا کر ہیلی کاپٹر کیس کو دبانے کی کوشش کی گئی۔

سیالکوٹ جلسہ گاہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی ٹی آئی بوائز ہائی سکول نے ڈپٹی کمشنر ضلع سیالکوٹ کو 9 مئی کو خط لکھا کہ چرچ گرائونڈ میں مسیحی برادری کی عبادت گاہ ہے، یہاں جلسہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مسیحی برادری کا سیالکوٹ کے اندر ایک تاریخی پس منظر ہے، سیالکوٹ کی ترقی اور پاکستان کی ترقی میں مسیحی برادری کا ایک بڑا کردار ہے۔ مسیحی برادری نے سی آئی ٹی گرائونڈ میں جلسے کے خلاف احتجاج کیا، مسیحی برادری کا کہنا ہے کہ یہ ہماری عبادت گاہ ہے،

اس کے علاوہ کوئی اور جگہ جلسے کے لئے رکھی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے کہا گیا کہ وہ جمنازیم سپورٹس اور ایک سکول کے احاطے کی جگہ متبادل لے لیں لیکن پی ٹی آئی بدمعاشی، غنڈہ گردی کے ذریعے چرچ کی جگہ استعمال کرنے کیلئے بضد ہے۔ پی ٹی آئی نے اقتدار میں رہتے ہوئے بھی اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، 9 مئی کو بتا دیا گیا تھا کہ مسیحی برادری اپنے چرچ کے گرائونڈ میں جلسے کی اجازت نہیں دے رہی، آج تک چرچ کے گرائونڈ میں کوئی سیاسی سرگرمی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ مسیحی برادری کے حقوق کو تحفظ فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی سی آفس نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنے جلسے کی جگہ تبدیل کرلے لیکن ان کے رویوں میں بات کرنے کی گنجائش نہیں ہے،

یہ سمجھتے ہیں کہ گالی اور دھمکی دے کر اپنی مرضی کے فیصلے کروالیں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مسیحی برادری نے احتجاج کیا، درخواست کی کہ جلسے کی جگہ تبدیل کی جائے لیکن یہ اعلانات کر رہے ہیں کہ میں آ رہا ہوں، انہیں کون آنے سے روک رہا ہے، انہوں نے پہلے بھی جلسے کئے ہیں، کسی نے نہیں روکا، ہم نہ فاشسٹ ہیں نہ آپ کی تقریروں سے ڈرتے ہیں، جتنی آپ غلاظت اگلیں گے اور جتنا جھوٹ بولیں گے اس کا ڈائریکٹ فائدہ ہمارا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام ان کی اصلیت جان چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو کسی نے جلسہ کرنے سے نہیں روکا، مسیحی برادری کے جذبات کا احترام کرنے کی بجائے انہوں نے انتشار پھیلانے کی کوشش کی،

تحریک انصاف ملک میں انتشار پھیلانا چاہتی ہے، بطور وزیر داخلہ عوام کے تحفظ کی ذمہ داری رانا ثناء اللہ پر ہے۔ اسلام آباد لانگ مارچ کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان میں کسی کو بھی خونی مارچ کرنے کا حق حاصل نہیں، خونی مارچ کی باتیں کی جائیں گی تو رانا ثناء اللہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو تحفظ فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے نوجوانوں سے جھوٹ بولا، پاکستان کے عوام کی معاشی تباہی کی، بے روزگاری کی، عمران خان کو سوال کا جواب دینا ہے، سوال نہیں پوچھنا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے چار سالوں میں ملکی معیشت تباہی کی،

عمران خان ڈالر کی قیمت 189 پر چھوڑ کر گئے، ان فنڈڈ پٹرول سبسڈی دی جس کیکابینہ اور اقتصادی رابطہ کمیٹی سے منظوری نہیں لی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب عمران خان کو پتہ چلا کہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آ رہی ہے اور اتحادی انہیں چھوڑ کر جا رہے ہیں تو انہوں نے غیر قانونی سبسڈی دی، آج پٹرول، ڈالر اور مہنگائی کی شرح جس نہج پر ہے، اس کے ذمہ دار عمران خان ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر دستخط عمران خان نے کئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جب نواز شریف کو اقامہ پرنکالا گیا تو اس وقت ڈالر کی قیمت 105 روپے تھی، جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت ختم ہوئی تو اس وقت ڈالر کی قدر 118 روپے تھی اور جب پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہوئی تو ڈالر کی قیمت 189 روپے تھی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 2018ء میں جب مسلم لیگ کی حکومت میں مہنگائی کی شرح 3.9 فیصد تھی لیکن جب عمران خان اقتدار چھوڑ کر گئے تو مہنگائی کی شرح 13 فیصد تھی۔ عمران خان کہتے تھے کہ میں آلو اور ٹماٹر کے ریٹ دیکھنے نہیں آیا، ڈالر کی قیمت میں جب اضافہ ہوتا تو یہ کہتے کہ ٹی وی سے پتہ چلا ہے کہ ڈالر کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوڈ آئٹمز پر سب سے کم مہنگائی کی شرح 2018ء میں 2.3 فیصد تھی لیکن پچھلے چار سالوں میں یہ شرح 2.3 فیصد سے بڑھ کر 15 فیصد تک ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ جب انہیں پتہ چلا کہ نو کانفیڈنس کامیاب ہونے والی ہے تو یہ بارودی سرنگیں بچھا کر گئے، اس سے مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کی حکومت عوام کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آٹا 35 روپے فی کلو نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے دور میں تھا،

پچھلے چار سالوں میں 90 روپے میں سمگل ہو کر دوسرے ممالک گیا اور پھر امپورٹ ہو کر پاکستان آیا۔ چینی کی قیمت 52 روپے ہمارے دور میں تھی، 120 روپے فی کلو چینی عورتیں رمضان بازار میں قطاریں اور انگوٹھے کا نشان لگا کر خریدتی رہیں۔ 2018ء میں جب ہم حکومت چھوڑ کر گئے تھے تو آٹا اور چینی ایکسپورٹ ہو رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے چینی کی قلت کی، مافیاز اور کارٹلز کو فائدہ پہنچایا، چینی برآمد کی پھر درآمد کی، اس طرح چینی کے ریٹ 52 روپے سے 120 روپے کلو تک پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے چار سالوں میں معیشت کو تباہ کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں 1947ء سے 2018ء تک 25 ہزار ارب روپے قرضہ تھا، پچھلے ساڑھے تین سالوں میں دسمبر 2021ء تک 43 ہزار ارب روپے پہنچ گیا ہے۔ جنوری سے مئی کے مہینے کا ڈیٹا ابھی باقی ہے۔

یہ ملکی تاریخ کا تیز ترین اور زیادہ لیا ہوا قرضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان نالائقوں اور جھوٹوں نے ہمارے منصوبوں پر تختیاں لگائیں، 2018ء سے لے کر 2022ء تک انہوں نے ایک اینٹ نہیں لگائی۔ خیبر پختونخوا میں یہ نو سال سے اقتدار میں ہیں اور ایک ہسپتال تک نہیں بنا سکے۔ دوائیاں پانچ سو فیصد مہنگی ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ گھی کی قیمت 140 روپے سے 600 روپے تک ان کے دور میں ہوئی۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ معیشت کو تباہ و برباد کہنے والا کہتا ہے کہ ان سے بہتر تھا کہ ملک پر ایٹم بم گرا دیتے،

یہ اس ملک کو دھمکی دے رہا ہے جس نے اپنی خودداری اور اپنی قومی سلامتی کے لئے قربانیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ چار ہفتے پہلے تک اس ملک کے وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھا ہوا شخص آج دھمکیاں دے رہا ہے، اس کرسی پر بیٹھ کر پاکستان کے عوام کے خلاف سازش کی جا رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 2018ء میں مسلم لیگ (ن) کے دور میں بجلی کی قیمت 11 روپے فی یونٹ تھی، ہم نے 14 ہزار میگا واٹ بجلی بنا کر دکھائی، عمران خان جب حکومت چھوڑ کر گیا تو 24 روپے فی یونٹ بجلی تھی،

ایک میگاواٹ بجلی بھی انہوں نے نہیں بنائی، انہوں نے بجلی کے پلانٹس کی مرمت نہیں کی، لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں عوام کو مبتلا کیا۔ عمران خان نے بجلی کی قیمت 11 روپے فی یونٹ سے بڑھا کر 24 روپے فی یونٹ کی، گیس کی قیمت 600 روپے سے بڑھا کر 2400 روپے کی، یہ ان کے اعمال نامے ہیں جس کا خمیازہ عوام بھگت رہی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ڈی اے پی کی بوری کی قیمت 2400 روپے سے بڑھ کر 10 ہزار روپے ہو گئی، ان کے دور میں کسانوں کو ڈی اے پی بھی نہیں دستیاب نہیں تھی، انہوں نے کسانوں کے گلے دبائے، کاروبار بند کئے، جھوٹ بولتے ہیں کہ ہماری پیداوار زیادہ ہوئی، انہوں نے کارٹلز اور مافیاز کو منافع دیا، کاغذ لہرا کر سازش کا بیانیہ اپنا کر اپنی بدترین کارکردگی اور لوٹ مار سے عوام کی نظریں نہیں ہٹا سکتے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ مذہب اور ریاست مدینہ کا نام استعمال کر کے اور اپوزیشن کو سزائے موت کی چکیوں میں ڈال کر سیاست کرنا ان کا چار سال وطیرہ رہا ہے، انہوں نے پاکستان کے عوام کا روزگار چھینا، مہنگائی کے بوجھ تلے دبایا اور آج کہہ رہے ہیں کہ میں آ رہا ہوں، انہیں شرم آنی چاہئے، انہیں شیشہ دیکھنا چاہئے تاکہ یہ اپنا اصل چہرہ دیکھ سکیں۔ آج ملک میں مہنگائی کے ذمہ دار یہ لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کو ایمرجنگ بزنس حب بنایا تھا جس میں ترقی 6 فیصد پر آ گئی تھی لیکن عمران نیازی نے اپنے چار سالوں میں پاکستان کو ترقی سے تنزلی کی طرف دھکیلا،

سی پیک پر متنازعہ بیانات دے کر چین کو ناراض کیا، سی پیک کے منصوبے پاکستان کے عوام کے لئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دوست ممالک سے ملے ہوئے تحائف انہوں نے چوری کئے، توشہ خانہ سے کم قیمت پر کئی تحائف انہوں نے حاصل کئے، انہوں نے 60 لاکھ لوگوں کو بے روزگار کیا ہے، انہیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے اقتدار میں آ کر چار سال سے بند منصوبوں کو چلایا۔ ہمارے پاس صلاحیت بھی ہے اور ٹیم بھی ہے، ہم نے 2013ء سے 2018ء تک ملک میں مہنگائی کو کم کیا، ڈالر کی قدر کو مستحکم کیا۔

انہوں نے کہا کہ عوام عمران خان سے ان کی کارکردگی پر سوال پوچھ رہے ہیں۔ معاشی تباہی اور عوامی تباہی کے ذمہ دار عمران خان ہیں، ملک کے ساتھ افسوسناک گھنائونا مذاق کیا گیا، ملک کے اندر روایات کو تباہ کیا گیا، 3 اپریل سے 11 اپریل کی آئین شکنی پر انہیں جواب دینا پڑے گا۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ عوام کی خوش قسمتی ہے کہ اس وقت ایک ایسی حکومت برسراقتدار ہے جس میں تمام صوبوں کی نمائندگی موجود ہے، میڈیا سمیت ہمیں مل کر ملکی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جھوٹ بول کر کچھ طبقات کو گمراہ کر رہا ہے، نوجوانوں کو عمران خان سے سوال پوچھنا چاہئے کہ ان کے خلاف سازش کیوں ہو رہی تھی؟ کیا ان کے دور میں معیشت 8 فیصد پر ترقی کر رہی تھی،

کیا وہ سی پیک ٹو لے کر آگئے تھے کہ سازش ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان تو امریکہ سے ورلڈ کپ جیت کر آئے تھے، وہ مودی کے کمپین منیجر تھے، کہتے تھے کہ مودی الیکشن جیت کر آ گیا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا، عمران خان نے کشمیر فروشی کی۔ ایک سوال پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ لندن دورہ کے حوالے سے بہت سی قیاس آرائیاں ہوتی رہیں، یہ مسلم لیگ (ن) کا نجی دورہ تھا، ہماری پارٹی پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، ہم مشاورت کرتے ہیں، مشاورت کے لئے یہ دورہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت کی پٹرول پر ان فنڈڈ سبسڈی اور آئی ایم ایف سے معاہدے کے حوالے سے بھی تفصیلی بات ہوئی کہ کس طرح اس کے اثرات سے عوام کو محفوظ بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں چینی کی قیمت 52 فیصد پر برقرار رہی، گیس اور بجلی کی صورتحال میں بھی نمایاں بہتری آئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف تعزیت کے لئے متحدہ عرب امارات گئے ہیں، وہ بہت جلد قوم سے خطاب کر کے اپنی حکمت عملی سے آگاہ کریں گے۔ ایک اور سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی آئینی مدت ہے، ہماری اتحادی حکومت ہے، الیکشن کا فیصلہ مسلم لیگ (ن) نے نہیں تمام اتحادی جماعتوں نے مل کر کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بچہ بچہ جانتا ہے کہ نواز شریف کو کس طرح سزا ملی، عمران خان اسے سیاسی بیانیہ کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چار سال یہ حکومت میں تھے تو انہوں نے کارکردگی پر کوئی بیانیہ نہیں دیا۔ کہاں گئے وہ سو دن، نوے دن اور ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کو کم کرنے کے لئے عمران خان نے کیا اقدامات اٹھائے؟ جس دن کوئی چیز مہنگی ہوتی تھی اسی دن کسی کو گرفتار کیا جاتا تھا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ملک میں اب صرف کارکردگی کا بیانیہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی سے بڑے جلسے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،

فوٹو شاپ کر کے پی ٹی آئی کے جلسے لوگوں کو دکھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوابی، شانگلہ اور اٹک میں عوام نے بیانیہ دیکھا ہے، ہمارا بیانیہ صرف پاکستان کے عوام کو ریلیف دینا ہے۔ پاکستان کے عوام عمران خان سے سوال پوچھ رہے ہیں، عمران خان نے پاکستان کی ساکھ کو کمزور کیا، دوست ممالک سے تعلقات خراب کئے، خارجہ پالیسی تباہ کی۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ اسے ملے گا جو پاکستان کے عوام کو روزگار دینا جانتا ہو، ترقی دینا جانتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ٹیم بھی ہے اور صلاحیت بھی۔ ایک سوال پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 3 اپریل سے 12 اپریل تک آئین شکنی کی گئی، پارلیمان پر حملہ کیا گیا، ایک شخص نے اپنی ضد کی خاطر پورے ملک کو یرغمال بنایا ہوا تھا،

کبھی سپیکر، کبھی ڈپٹی سپیکر اور کبھی صدر سے آئین شکنی کروائی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تمام قراردادیں اور فیصلے ریورس ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی عنصر جو آئین پر حملہ کرنے کا سوچے یا حکم دے، اس کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار سال کے دوران جو زیادتیاں ہوئیں انہیں دوہرانا ہمارا مقصد نہیں ہے، ہر فیصلہ اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے ہوگا۔ شہباز شریف قوم سے خطاب بھی کریں گے اور تمام اعلانات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سابق دور میں نیب نیازی گٹھ جوڑ تھا، نیب کسی کو گرفتار کرتا تو دو دن پہلے اس کا اعلان کیا جاتا تھا کہ نیب پرسوں فلاں بندے کو گرفتار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے نیب کو یرغمال بنائے رکھا۔