15 مئی کو ائیرپورٹ ٹرمنل ون (اولڈ ائیرپورٹ)پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا پرتپاک استقبال کیا جائے گا، الیکشن کروانے کا آئینی اختیار اب شہباز شریف کے پاس ہے، عمران خان ڈکٹیشن نہ دیں ، سعید غنی کی پریس کانفرنس

کراچی۔14مئی (اے پی پی):وزیر محنت و افرادی قوت سندھ صدر پیپلز پارٹی سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ 15 مئی کو ائیرپورٹ ٹرمنل ون (اولڈ ائیرپورٹ)پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا پرتپاک استقبال کیا جائے گا اور وہاں جلسہ عام منعقد کیا جائے گا۔ الیکشن کروانے کا آئینی اختیار اب شہباز شریف کے پاس ہے، جب مرضی الیکشن کرائیں گے، عمران خان ڈکٹیشن نہ دیں ، کیونکہ مدت اسمبلیوں کی ہوتی ہے، وزیر اعظم کی نہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ اسمبلی 2023 تک کی اپنی مدت پوری کرے۔

عمران خان نیازی اس ملک کی معیشت کی بربادی کی وجہ ہے اور اس وقت یہ ملک کے لئے سب بڑی تھیریٹ ہے۔عوام کسی عمران خان جیسے شخص کے پیچھے چل کر اس ملک اور معیشت کو نقصان نہ پہنچائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو اپنے کیمپ آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری و وزیر اعلی سندھ کے معاون خصوصی وقار مہدی، پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری جاوید ناگوری، سردار نزاکت، راشدخاصخیلی، محمد آصف خان، سردار خان اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے کارکنوں کا اصرار تھا کہ ہم اپنے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو ان کی جمہوری طور پر نالائق، سلیکٹیڈ وزیر اعظم اور ان کی حکومت کو گھر بھیجنے پر ان کا پرتپاک استقبال کریں۔ سعید غنی نے کہاکہ ہم نے 22 پھر 23 اور بعد ازاں 24 اپریل کو یہ استقبال کرنا تھا تاہم کچھ وجوہات پر یہ پروگرام نہ ہوسکا۔

انہوں نے کہا کہ اب 15 مئی بروز اتوار کو شام 5 بجے، اولڈ ٹرمینل پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا نہ صرف پرتپاک استقبال کیا جائے گا بلکہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اس موقع پر خطاب بھی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس حوالے سے کسی قسم کی کوئی کرسیاں پنڈال میں نہیں لگائی ہیں کیونکہ ہمیں امید ہے کہ عوام کا ایک جم گفیر اس استقبال میں وہاں پہنچیں گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کراچی ڈویژن اور کراچی کے تمام ڈسٹرکٹ اور ذیلی تنظیموں کی جانب سے بھرپور تیاریاں کرلی گئی ہیں اور گرمی کے پیش نظر پانی کی سبییلں، پیپلز ڈاکٹرز فورم کراچی کے تحت طبی کیمپ، ڈاکٹرز اور ایمبولینس بھی موجود رہیں گی جبکہ شہر بھر میں استقبالیہ کیمپ بھی منعقد کئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی سے اس بار ڈسٹرکٹ کی بجائے سٹی کی سطح پر جلوس وہاں پہنچیں گے اور 42 ڈسٹرکٹس سے یہ جلوس اولڈ ٹرمینل پہنچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دن اور جلسہ کے دوران عمران نیازی کی جانب سے جس طرح کی باتیں اور بالخصوص موجودہ حکومت کی بجائے ایٹم بم سے ملک کو اڑانے جیسی باتیں میرے اس موقف کی تائید کرتی ہیں، جس کا اظہار میں کئی ماہ سے کرتا رہا ہوں کہ عمران نیازی کا نہ جغرافیہ درست اور نہ ہی اس کا ذہنی توازن ٹھیک ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کے بیان وہ اس وقت دے رہا ہے وہ اس ملک کی معیشت کی تباہی اور ملک کے لئے کسی تھر یٹ سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نیازی اس ملک میں سول وار کروانے کی کوشش کررہا ہے۔

اور اپنے جلسوں میں مخالفین کے خلاف لوگوں کو اکسا رہا ہے اور اپنی جمہوری شکست کو حق و باطل کی لڑائی قرار دے کر لوگوں کے جذبات سے کھیل رہا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ عمران نیازی فوج، عدلیہ اور سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ نہ بنائیں اور نہ ہی کسی کو جھوٹا، غدار قرار دیں ۔ سعید غنی نے کہا کہ خود عمران نیازی ایک فاشسٹ، انارکسٹ، انا پرست اور گھمنڈی شخص ہے اور وہ اپنی انا کی خاطر اس ملک کے خلاف باتیں کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران نیازی اقتدار سے نکلنے کے بعد ملک اور معیشت کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور ادارے اگر آئین کے مطابق اپنے آپ کو چلانا چاہتی ہیں تو یہ شخص چاہتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ، عدالتیں اور الیکشن کمیشن اس کی حمایت کریں چاہیں وہ غیر آئینی ہی کیوں نہ ہوں۔

سعید غنی نے کہا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور ادارے آئین کے دائرے میں کام کررہی ہیں تو وہ اسے ملک دشمن، امریکی ایجنٹ اور غدار قرار دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران عمران نیازی گوگی اور گوگو کو بچا نے کی لڑائی لڑ رہا ہے اور وہ اصول کی نہیں بلکہ اقتدار کی حوس اور پاگل پن کی سوچ کو مسلط کرنے کی لڑائی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ آج الیکشن کروانے کی آئینی ذمہ داری شہباز شریف کے پاس ہے، جب یہ ذمہ داری اس کے پاس تھی تو وہ کہتا رہا کہ میں 2023 کو 5 سال اسمبلی کی مدت پوری کرنے کے بعد الیکشن کرواں گا اور اب مطالبہ کررہا ہے کہ الیکشن کروا۔

انہوں نے کہا کہ اسمبلی کی مدت پوری ہوتی ہے کسی وزیر اعظم کی نہیں اور ہماری خواہش ہے کہ اسمبلی اپنی مدت پوری کرے۔ انہوں نے کہ الیکٹرول ریفارم اور قانون سازی کے تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے الیکشن کا فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہ عمران نیازی میں اندر اگر سیاسی جرات ہے تو وہ اسمبلی میں آکر بیٹھیں اور اسمبلی میں بات کرے۔ ہمیں گزشتہ انتخابات پر بھی اعتراضات رہے مگر ہم نے ایوان نہیں چھوڑا، لیکن عمران اسمبلی میں بیٹھتا تک نہیں تھا اوراب بھی لوگوں کو منع کرتا ہے کہ ایوان میں نا بیٹھیں۔انہوں نے کہاکہ عمران نیازی اور ان کی نالائق حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدوں اور بعد ازاں اس کی خلاف ورزیوں کے باعث ملکی معیشت کو تباہ کردیا ہے اور آج اس کے جو اثرات مزید مہنگائی کی صورت میں اس ملک کے عوام پر آرہے ہیں۔

اس موقع پر وقار مہدی نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے جمہوری طریقہ کار سے عمران خان کی حکومت کو ہٹایا۔ انہوں نے کہا کہ عمران نیازی نے جو معاشی صورتحال چھوڑ گئے ہیں اسے سنبھالنا مشکل ہے، کوشش ہے کہ آنے والے بجٹ میں غریب عوام پر بوجھ نا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش رہی کہ حکومت گئی تو ملک میں مارشل لا آجائے۔جب اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہوگئی تو انہیں پریشانی لاحق ہوگئی۔یہ لوگوں کو بیوقوف نہیں بنا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کے لیے کبھی امپائر کی انگلی نہیں اٹھے گی، اب فیصلہ عوامی رائے سے ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کی گوگیاں اور گوگے پنجاب حکومت میں مداخلت کرتے رہے، ان کے خلاف جو بولتا عمران اس سے لڑ پڑتے۔

انہوں نے کہا کہ عمران کی نیپیاں بدلی جاتی تھیں، اب چھوڑ دیا تو وہ بھی برے ہوگئے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی مداخلت نہ کرنے والی فوج کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ عمران خان ملک اور قوم کامجرم ہے۔ عمران ماضی میں مودی کا ایجنٹ رہا ہے، بش کی فتح پر نوافل ادا کیے۔ انہوں نے کہا کہ میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ عمران نیازی جیسے شخص کے پیچھے چل کر ملک اور معیشت کو نقصان نہ پہنچائیں۔ اس ملک نے رہنا ہے اور اسے رہنا چاہیے، یہ واحد آدمی ہے جو اپنے سیاسی رول کے لیے ملک تباہ کرنا چاہتا ہے، عمران خان قوم کا مجرم ہے، جس نے معیشت اور معاشرت تباہ کردی۔ لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ عمران نیازی اس ملک کے لیے خطرہ ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں سعید ی غنی نے کہا کہ ہمیں کئی بار اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف رہا، مگر کبھی نازیبا الفاظ استعمال نہیں کیے۔ عمران ان کے خلاف نازیبا الفاظ اور بیان دے کر مکر جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران کو سیاست کرنی ہے تو سیاسی انداز سے کرے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اوور سیز پاکستانی قابل فخر ہیں، مگر جس طرح کی ویڈیوز آرہی ہیں اس سے ملک کا نام خراب ہورہا ہے۔ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ پر مقدمات کے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ اس کے کرتوت سب کو پتا ہیں۔ جامعہ کراچی اور صدر بم دھماکوں کے سوال پر انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات کے اکثر کیسز حل کیے گئے ہیں۔صدر اور جامعہ کراچی کے واقعات کے ذمہ داروں تک بھی پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ میں سکیورٹی اقدامات کرنے پڑے ہیں۔

پہلے خواتین کے ساتھ نرمی کرتے تھے مگر حملے میں خاتون کے ملوث ہونے کے بعد اب سب کو یکساں ٹریٹ کررہے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ عمرانڈو وہ ہے جو عمران کی ہر بات کو سچ مانتے ہیں، سارے آئین شکن بھی عمرانڈو ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ عمران خان کا نام پہلے طالبان خان پھر بزدل خان پڑا، چیئر مین نے اسے سلیکٹڈ کہا اب اسکا نیا نام بم خان ہونا چاہیے، جب اس نے سونامی نام رکھا تو اسکا مطلب بھی تباہی ہی تھا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ عمران نے ایم کیو ایم کو پہلے نفیس لوگ کا خطاب دیا، عمران بہادر آباد جاکر متحدہ کی منت کرتا رہا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں پی ٹی آئی کے لوگوں کے خلاف سندھ میں سیاسی انتقامی کارروائیاں کرنی ہوتی تو پہلے بھی کرسکتے تھے، جو بھی غیر قانونی کام کرے گا اسکے خلاف کیس بننا چاہیے،

ان کے لوگوں کو اب بھی عدالتوں سے ریلیف مل رہا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم جلسے جلوسوں کے لیے تمام قانونی طریقہ کار اختیار کرتے ہیں اور اجازت لیتے ہیں۔ ملک میں مہنگائی کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے چیلنجز بہت زیادہ ہیں، کچھ مہینے لگیں گے معیشت کو ٹریک پر آنے میں، ہم آلو ٹماٹر کو دیکھنے آئے ہیں، عمران کہتا تھا کہ وہ یہ چیزیں دیکھنے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نئی حکومت کو وقت دینا چاہیے۔