12.1 C
Islamabad
جمعرات, فروری 27, 2025
ہومقومی خبریںآر ایس پی این کے زیر انتظام مقامی ترقی اور مواقع اجاگر...

آر ایس پی این کے زیر انتظام مقامی ترقی اور مواقع اجاگر کرنے کے لیے سالانہ کمیونٹی کنونشن 2025 کا انعقاد

- Advertisement -

اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):رورل سپورٹ پروگرامز نیٹ ورک (آر ایس پی این) کے تحت سالانہ کمیونٹی کنونشن 2025 منعقد کیا گیا جس کا موضوع نوجوانوں کو بااختیار بنانا، موسمیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کی مزاحمت اور صحت مند خاندانوں کی تشکیل تھا۔گزشتہ روز یہاں منعقدہ اس سالانہ تقریب میں ملک بھر سے ان کمیونٹیز کو اکٹھا کیا گیا جو دیہات میں نمایاں کام کر رہی ہیں اور دیہی ترقیاتی اداروں کے نیٹ ورک ساتھ مل کر مقامی لوگوں کی زندگی میں تبدیلی لا رہی ہیں۔

کمیونٹی کنونشن کا افتتاح کرتے ہوے چیف ایگزیکٹو آفیسر آر ایس پی این شندانہ خان نے کمیونٹی ممبران خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں کی ان کامیاب کوششوں کو سراہا جو انہوں نے گھرانوں کی سطح پر غربت کم کرنے اور مقامی کمیونٹیز کو بااختیار بنانے کے لیے کی ہیں۔ چیئرمین رورل سپورٹ پروگرامز نیٹ ورک شعیب سلطان خان (نشان امتیاز)نے دیہی ترقی کی تنظیموں میں اپنی 43 سالہ جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے پرنس کریم آغا خان چہارم کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور بتایا کہ آغا خان مرحوم کی سرپرستی میں پاکستان میں پہلی بار آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کا آغاز ہوا اور بعد میں اسی طرز پر دیگر تنظیمیں بھی قائم کی گئیں۔ اگر پرنس آغا خان کی سرپرستی نہ ہوتی تو مقامی تنظیموں کی جانب سے کیے جانے والے ترقیاتی کاموں کی کامیابی کا جشن منانا ممکن نہ ہوتا۔

- Advertisement -

ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ امور نوجوانان حکومت سندھ سید محمد حبیب اللہ نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور مہارتوں کے فروغ کے ذریعے بااختیار بنانے کے عزم پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک نعمت ہے کہ ہمارے پاس نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، لیکن ہمیں ان کے لیے سماجی و اقتصادی معاونت کے نیٹ ورکس کو متحرک کرنا ہوگا، کیونکہ یہ ہمارے قومی مستقبل کے لیے ضروری ہے۔ این آر ایس پی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر راشد باجوہ نے کہا کہ ان کا ادارہ مقامی دیہی تنظیموں کی مالی و تکنیکی امداد جاری رکھے گا تاکہ مقامی سطح پر لوگوں کا معیار زندگی مسلسل بہتر بنایا جا سکے۔

اس موقع پر کمیونٹی ممبران نے اپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا اور موسمیاتی مزاحمت، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور خاندانی منصوبہ بندی جیسے کلیدی موضوعات پر درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات اور اپنی تنظیموں کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کیا۔ اس موقع پر سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے آئی ہوئی مقامی تنظیموں کی خواتین و نوجوان نمائندگان نے اپنے اپنے تجربات شیئر کیے جبکہ ماہرین اور کمیونٹی رہنمائوں نے مقامی سطح پر درپیش بڑے چیلنجز بشمول موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول کرنے جیسے چیلنجز پر قابو پانے اور پائیدار حل کے طریقوں پر روشنی ڈالی۔تقریب میں ڈول سوسائٹی، میڈیا اور اقوام متحدہ کے نمائندگان نے بھی خطاب کیا۔

 

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=567053

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں