اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):چین نے سی پیک فیز ٹو کے تحت پاکستان کی صنعتی ترقی، زرعی جدید کاری اور بڑے پیمانے پر کنیکٹوٹی اپ گریڈز کے لیے مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس عزم کا اظہار اعلیٰ سطحی پالیسی ڈائیلاگ کے دوران کیا گیا، جس میں چین نے واضح کیا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ پاکستان کی معاشی خود کفالت، ایکسپورٹ بیس میں …
چین کا سی پیک فیز ٹو کے تحت صنعتی، زرعی اور کنیکٹوٹی منصوبوں میں تعاون بڑھانے کا اعلان،25.93 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، 8 ہزار میگاواٹ بجلی، اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں نمایاں پیش رفت

مزید خبریں
اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):چین نے سی پیک فیز ٹو کے تحت پاکستان کی صنعتی ترقی، زرعی جدید کاری اور بڑے پیمانے پر کنیکٹوٹی اپ گریڈز کے لیے مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس عزم کا اظہار اعلیٰ سطحی پالیسی ڈائیلاگ کے دوران کیا گیا، جس میں چین نے واضح کیا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ پاکستان کی معاشی خود کفالت، ایکسپورٹ بیس میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
چین کی جانب سے پاکستان میں جدید صنعتی ڈھانچے کے قیام کے لیے دو اہم منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے،ہائیئر کا 400 ملین ڈالر کا ہوم اپلائنس انڈسٹریل پارک ،سالانہ 1 کروڑ یونٹ پیداواری صلاحیت،پاکستان میں جدید الیکٹرانکس اور ہوم اپلائنس مینوفیکچرنگ کا نیا دور،براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے ہزاروں مواقع ،چیلنج گروپ کا 150 ملین ڈالر کا ٹیکسٹائل انڈسٹریل پارک شامل ہیں ۔سالانہ 400 ملین ڈالر تک کی برآمدات کا ہدف ہے۔پاکستان کی ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل کو عالمی سطح پر مسابقتی بنانے میں اہم پیش رفت جاری ہے ۔
چینی حکام نے کہا کہ یہ دونوں منصوبے پاکستان کی برآمدی استعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ صنعتی ویلیو چین کو مضبوط بنانے میں بنیادی کردار ادا کریں گے۔سی پیک کے دوسرے مرحلے میں زرعی تعاون کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ چین نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کی مزید زرعی مصنوعات کو کنٹریکٹ فارمنگ کے تحت اپنی مارکیٹ میں شامل کیا جائے گا،نئی زرعی اجناس کے لیے مارکیٹ رسائی بہتر بنائی جائے گی ،ویلیو چین لنکیجز کو مضبوط کیا جائے گا، جس سےبرآمدات میں تنوع آئے گا،زرمبادلہ کی آمدنی میں استحکام ہوگا،زرعی شعبے میں جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھے گا،بڑے کنیکٹوٹی منصوبوں پر پیش رفت ہوئی ہے ۔
چین نے اہم اسٹریٹجک انفراسٹرکچر منصوبوں پر فوری پیش رفت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، جن میں قراقرم ہائی وے (رائیکوٹ–تھاکوٹ) کی ری الائنمنٹ،خنجراب–سوست بارڈر پورٹ کی جدید کاری ،گوادر پورٹ کی جامع اپ گریڈیشن شامل ہیں ۔چینی حکام کے مطابق گوادر کو ایک مکمل فعال علاقائی لاجسٹک حب میں تبدیل کرنا سی پیک 2.0 کی اولین ترجیح ہے۔
اس مقصد کے لیے بندرگاہی انفراسٹرکچر، کارگو ہینڈلنگ، اور سپلائی چین سسٹمز میں بڑے پیمانے کی تبدیلیاں شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق سی پیک کے تحت اب تک 25.93 ارب ڈالر کی براہِ راست چینی سرمایہ کاری ،8,000 میگاواٹ بجلی کی شمولیت قومی گرڈ میں،510 کلومیٹر موٹرویز کی تعمیر،886 کلومیٹر ٹرانسمیشن لائنز کی بچھائی ہے ۔
مزید برآں چین پاکستان فرینڈشپ ہسپتال اور 2,000 ٹن یومیہ صلاحیت رکھنے والا ڈی سیلی نیشن پلانٹ گوادر میں عوام کو صحت اور صاف پانی کی سہولت فراہم کر رہے ہیں جس سے ہزاروں خاندان براہِ راست مستفید ہو رہے ہیں۔چینی حکام نے کہا کہ سی پیک کو پاکستان کی قومی ترجیحات کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے، جس کے تحت آئندہ مرحلے میں تعاون مزید گہرا ہوگا۔
اہم شعبے جن پر فوکس کیا جائے گا،صنعت زراعت ،معدنیات ،گرین ڈویلپمنٹ ،لاجسٹکس اور علاقائی کنیکٹوٹی ،ان شعبوں میں شراکت داری پاکستان کی معاشی جدید کاری، صنعتی خود کفالت اور خطے میں تجارتی انضمام کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔






