حکومت نے کاروبار کی لاگت کم کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، فیض احمدچدھر

لاہور۔1دسمبر (اے پی پی):حکومت نے کاروبار کی لاگت کم کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، جن میں ایکسچینج ریٹ کو گزشتہ تین سال سے مستحکم رکھنا، بجلی کے نرخ کم کرنا اور پالیسی ریٹ میں کمی شامل ہیں۔ اگرچہ ہمارے ریٹس خطے کے مقابلے میں اب بھی زیادہ ہیں، تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں ان میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار چیف ایگزیکٹیو ٹریڈ ڈویلپمنٹ …

لاہور۔1دسمبر (اے پی پی):حکومت نے کاروبار کی لاگت کم کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، جن میں ایکسچینج ریٹ کو گزشتہ تین سال سے مستحکم رکھنا، بجلی کے نرخ کم کرنا اور پالیسی ریٹ میں کمی شامل ہیں۔ اگرچہ ہمارے ریٹس خطے کے مقابلے میں اب بھی زیادہ ہیں، تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں ان میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار چیف ایگزیکٹیو ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان فیض احمدچدھر نے لاہور چیمبر میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے ان کا استقبال کیا جبکہ ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان رافعہ سید، سینئر نائب صدر لاہور چیمبر تنویر احمد شیخ، ایگزیکٹیو کمیٹی ممبران عرفان قریشی، شعبان اختر، فردوس نثار، وقاص اسلم اور سابق نائب صدر میاں زاہد جاوید بھی موجود تھے۔فیض احمد چدھرنے کہا کہ کپاس کی کمی کے باعث ٹیکسٹائل انڈسٹری کو درآمد کرنی پڑتی ہے، اس کے باوجود ٹیکسٹائل ایکسپورٹس 18ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کاروباری افراد محنتی ہیں اور عالمی سطح پر ان کی ساکھ مضبوط ہے۔

پاکستان کے شمالی علاقے ملک کی 60 فیصد سے زیادہ برآمدات کرتے ہیں جبکہ پنجاب میں ٹیکسٹائل، فارما اور آئی ٹی جیسے بڑے صنعتی سیکٹر موجود ہیں۔صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ پاکستان کے لیے اس وقت سب سے اہم ضرورت ایکسپورٹس میں نمایاں اضافہ ہے اور لاہور چیمبر ہمیشہ اس سلسلے میں مو ثر ان پٹ دیتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مارکیٹ اور پراڈکٹ ڈائیورسیفیکیشن کی فوری ضرورت ہے اور ہماری خواہش ہے کہ پاکستانی مصنوعات کو درست حکمتِ عملی کے ساتھ عالمی مارکیٹس خصوصاً آسیان اور افریقی ممالک میں پیش کیا جائے، جہاں بھرپور مواقع موجود ہیں۔ منرلز، ٹورزم، میڈیکل ٹورزم اور دیگر شعبوں میں بھی وسیع گنجائش ہے۔انہوں نے بتایا کہ فارما سیکٹر نے پہلے کوارٹر میں 34فیصد گروتھ دکھائی ہے جو انتہائی حوصلہ افزا ہے تاہم ایکسپورٹ انڈسٹری پر 1.8فیصد سیس عائد کر دیا گیا ہے اور اسے فائنل ٹیکس رجیم سے نکال دیا گیا ہے، جس سے کاروباری لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔

دنیا بھر میں ایکسپورٹرز کو سبسڈی، آسان قرضے اور مراعات دی جاتی ہیں جبکہ ہم کاسٹ آف ڈوئنگ بزنس میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ پاکستانی ایکسپورٹرز کو لیول پلئنگ فیلڈ فراہم کرنا ضروری ہے۔چیف ایگزیکٹیو ٹی ڈیپ نے کہا کہ ہمیں اپنی مصنوعات اور مارکیٹس میں جدت لانے کی ضرورت ہے۔ حکومت اب انجینئرنگ، آئی ٹی، فارماسیوٹیکل اور ویلیو ایڈڈ ایگریکلچر کو ترجیح دے رہی ہے۔ انجینئرنگ کا سیکٹر امریکہ، یورپ، افریقہ اور خلیج سے بڑی تعداد میں آرڈرز حاصل کر رہا ہے۔ فارما سیکٹر نے بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور پاکستان کی سات کمپنیاں یورپی یونین اور امریکہ میں رجسٹر ہو چکی ہیں۔ کھیلوں کا سامان، سرجیکل آلات، کارپٹس اور ہائو س ویئرز کے شعبوں کو بھی دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔ ٹی ڈیپ نے افریقہ، خلیج اور دیگر علاقوں میں ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ نمائشوں کے ذریعے پاکستانی مصنوعات کو نمایاں کیا ہے۔زرعی اور فوڈ ایکسپورٹس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ویلیو ایڈیشن کے ذریعے 7.5 ارب ڈالر کی ایکسپورٹس برقرار رکھی ہیں۔

فوڈ ایگ نمائشوں میں 850 غیر ملکی خریداروں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی پیکنگ، پراسیسنگ اور معیار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ سمندری خوراک کی ایکسپورٹس کم قیمت سے ہائی ویلیو مصنوعات کی طرف منتقل ہو رہی ہیں۔ گوشت کی ایکسپورٹس اس وقت 500 ملین ڈالر ہیں، جنہیں بہتر سرٹیفکیشن اور پروٹوکولز کے ذریعے 2 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے، خصوصاً ملائیشیا جیسے ممالک میں۔صدر لاہور چیمبر نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان امریکی ٹریڈ ٹیرف میں دی جانے والی سہولیات سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا سکا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر مضبوط تجارتی وفود دنیا بھر میں بھیجے جائیں جو پاکستان کی ویلیو ایڈڈ مصنوعات کو مو ثر انداز میں فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ انٹرسٹ ریٹس اور مہنگی بجلی کے باعث صنعت کا پہیہ چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے، ہمیں ویلیو ایڈیشن کے فروغ اور پراسیسڈ میٹ سمیت دیگر ہائی ویلیو شعبوں پر بھرپور توجہ دینا ہوگی۔

فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ اگر یوتھ کو عالمی معیار کی سکلز دے کر بیرون ملک بھیجا جائے تو نہ صرف ان کے لیے روزگار کے مواقع بڑھیں گے بلکہ ملک کے لیے فارن ریمیٹنسز میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔سی ای او ٹی ڈیپ نے کہا کہ برآمدات بڑھانے کے لیے پوری قوم اور تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے EDS ٹیکس ختم کیا، توانائی کے نرخ کم کیے اور کاروبار میں آسانیاں پیدا کیں، پاکستان ڈیفالٹ سے بچ کر اب استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے لیکن مکمل مسابقت کے لیے مزید اصلاحات، ویلیو ایڈیشن اور سکل ڈویلپمنٹ ضروری ہیں،حکومت کا ہدف ہے کہ اگلے پانچ سال میں 500 ایسی کمپنیوں کو تیار کیا جائے جن میں ایک ایک ارب ڈالر کی ایکسپورٹ صلاحیت ہو۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ٹی ڈیپ، حکومت اور تمام ادارے کاروباری برادری کیساتھ مل کر پاکستان کی برآمدات میں اضافہ کرنے کے لیے کام کرتے رہیں گے۔

مزید خبریں