اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ایک سرکلر جاری کیا ہے جس میں تمام رجسٹرڈ نان لائف انشورنس کمپنیوں بشمول جنرل تکافل آپریٹرز جو موٹر وہیکل انشورنس فراہم کرتے ہیں، کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موٹر انشورنس ریپوزٹری (ایم آئی آر) میں شمولیت اختیار کریں۔پیر کے روز سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے …
موٹر تھرڈ پارٹی انشورنس کے نفاذ کو مضبوط بنانے کے لیے موٹر انشورنس ریپوزٹری نافذ

مزید خبریں
اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ایک سرکلر جاری کیا ہے جس میں تمام رجسٹرڈ نان لائف انشورنس کمپنیوں بشمول جنرل تکافل آپریٹرز جو موٹر وہیکل انشورنس فراہم کرتے ہیں، کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موٹر انشورنس ریپوزٹری (ایم آئی آر) میں شمولیت اختیار کریں۔پیر کے روز سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ایم آئی آر ایک مرکزی الیکٹرانک ڈیٹا بیس ہے جو انشورنس کمپنیوں، تکافل آپریٹرز اور سینٹرل ڈپازٹری کمپنی (سی ڈی سی) کے مابین ہونے والے ایم او یو کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد موٹر انشورنس پالیسیوں اور کلیمز کے ڈیٹا کو محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنا، تصدیق کرنا اور ضرورت کے مطابق قابلِ رسائی بنانا ہے۔
موٹر وہیکل انشورنس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے اب لازم ہے کہ وہ 60 دن کے اندر سی ڈی سی کے ساتھ سروس لیول ایگریمنٹ (ایس ایل اے) پر دستخط کریں اور اس کے مطابق مکمل اور درست پالیسی ڈیٹا فراہم کریں۔ یہ ڈیٹا پالیسی کی تصدیق کے لیے متعلقہ وفاقی اور صوبائی حکام کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے تاہم اس کی مکمل رازداری اور تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔یہ ریگولیٹری اقدام پاکستان بھر میں لازمی موٹر تھرڈ پارٹی انشورنس کے موثر نفاذ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ مرکزی اور تصدیق شدہ ڈیٹا ریپوزٹری کے قیام سے حکام کو انشورنس کوریج کی تیزی اور درستگی سے تصدیق کرنے میں مدد ملے گی
جس سے عدم تعمیل کے بڑے مسائل کو موثر طور پر دور کیا جا سکے گا۔ایس ای سی پی ڈیجیٹل تبدیلی کے فروغ، تعمیل کو مضبوط بنانے، عوامی مفاد کے تحفظ اور پاکستان کے انشورنس نظام کی شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔








