اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان خودمختاری، مساوات، باہمی احترام، تعمیری کوششوں اور حقیقی علاقائی تعاون پر مبنی سارک چارٹر پر قائم ہے تاکہ جنوبی ایشیا میں سماجی و اقتصادی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ پیر کو سارک چارٹر ڈے کی 40 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک خصوصی پیغام میں انہوں نے تمام …
پاکستان خودمختاری، مساوات، باہمی احترام، تعمیری کوششوں اور حقیقی علاقائی تعاون پر مبنی سارک چارٹر پر قائم ہے، افتخار علی ملک
اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان خودمختاری، مساوات، باہمی احترام، تعمیری کوششوں اور حقیقی علاقائی تعاون پر مبنی سارک چارٹر پر قائم ہے تاکہ جنوبی ایشیا میں سماجی و اقتصادی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ پیر کو سارک چارٹر ڈے کی 40 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک خصوصی پیغام میں انہوں نے تمام سارک رکن ممالک کے عوام اور حکومتوں کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن خطے کے امن، ترقی اور خوشحالی کی مشترکہ خواہشات کی یاد دہانی کراتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 8 دسمبر کو جب ہم سارک چارٹر ڈے کی 40 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، یہ دن ہمیں اپنے مشترکہ اہداف اور اس اجتماعی مستقبل کی یاد دلاتا ہے جس کی ہم تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چار دہائیاں پہلے سارک تنظیم جنوبی ایشیا کے ممالک کے درمیان بات چیت کو فروغ دینے، تعاون کو فروغ دینے اور تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر قائم کی گئی تھی۔
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس عظیم وژن کے باوجود سیاسی پیچیدگیوں نے ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس جدید دور میں علاقائی تعاون اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے، جو اقتصادی، ڈیجیٹل اور عوام سے عوام کے رابطوں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر روابط خطے سے تجارت، سرمایہ کاری، اختراعات اور ثقافتی تبادلے میں سہولت فراہم ہو گی۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ جنوبی ایشیائی ممالک کو کئی مشترکہ چیلنجوں کا سامنا ہے جن میں غربت، موسمیاتی آفات، خوراک اور توانائی کی عدم تحفظ اور صحت عامہ کے خطرات شامل ہیں۔ یہ مسائل اجتماعی کوششوں کے طالب ہیں جن کی جڑیں اعتماد، خیر سگالی اور تعاون پر قائم ہوں۔ انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال جنوبی ایشیا کی تعمیر کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کریں تاکہ خطے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ کاوشیں کی جا سکیں۔









