اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام ’’کاروبار اور انسانی حقوق سے متعلق آجروں کی آگہی بڑھانے کے سیشن‘‘ سے آئی او ای کے سیکرٹری جنرل کا خطاب

اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے زیر اہتمام انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف ایمپلائرز (آئی او ای) کے سیکرٹری جنرل رابرٹو سوریز سانتوس نے پیر کو ’’کاروبار اور انسانی حقوق سے متعلق آجروں کی آگہی بڑھانے کے سیشن‘‘ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران کاروبار اور انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت کو …

اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے زیر اہتمام انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف ایمپلائرز (آئی او ای) کے سیکرٹری جنرل رابرٹو سوریز سانتوس نے پیر کو ’’کاروبار اور انسانی حقوق سے متعلق آجروں کی آگہی بڑھانے کے سیشن‘‘ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران کاروبار اور انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ فوری معلومات کی فراہمی اور عالمی سطح پر مربوط معیشت کے اس دور میں کسی بھی ملک کا عالمی تصور نہ صرف اس کی اقتصادی ترقی بلکہ انسانی حقوق کی پاسداری میں مضمر ہے۔

انہوں نے کہا کہ فی زمانہ کوئی بھی قوم عالمی کاروباری قوانین، معاملات میں شفافیت اور ملازمین کے حقوق کا خیال رکھے بغیر بین الاقوامی منڈیوں کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتی ہے۔آئی او ای کے سیکرٹری جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ کاروباری مقامات پر حقوق انسانی کے عالمی قوانین کا نفاذ اب کٹھن مرحلہ نہیں رہا بلکہ عالمی خریداروں، سرمایہ کاروں اور صارفین کی بنیادی توقع ہے۔ مسابقتی کاروبار کے ماحول کے قیام کے لئے انہیں بہترین ساکھ کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور کارکنوں، کمیونٹیز اور سپلائی چینز کے ساتھ ہمہ وقت مشغول رہنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ انسانی حقوق کے چیلنجز کے بنیادی اسباب سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں مزدوری کے بہتر طریقے، علاج تک زیادہ رسائی، محفوظ کام کی جگہیں اور تمام صنعتوں میں احترام کا کلچر شامل ہے۔انہوں نے پاکستانی کاروباری اداروں پر زور دیا کہ عالمی قوانین کو اپناتے ہوئے کاروبار کی منصوبہ بندی میں موسمیاتی تحفظات کو بھی مدنظر رکھیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا کہ مستقبل ایسی معیشتوں کا ہے جو اخلاقی ذمہ داریوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بین الاقوامی اصولوں سے ہم آہنگ رہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئی سی سی آئی انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) اور ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) کی شراکت سے ایک بزنس اینڈ ہیومن رائٹس ورکنگ گروپ قائم کرنا پسند کرے گا جو پاکستان کو عالمی توقعات پر پورا اترنے اور ایک شفاف، پائیدار اور مسابقتی اقتصادی منظر نامے کے حصول کے لئے مددگار ثابت ہو گا۔

ملک طاہر جاوید صدر ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) نے آئی سی سی آئی ممبران کو بین الاقوامی لیبر معیارات، ذمہ دارانہ کاروباری طریقوں اور پاکستانی اداروں کی عالمی ساکھ کو مضبوط بنانے کے لیے مکمل تکنیکی مدد کی پیشکش کی۔چیئرمین فائونڈر گروپ آئی سی سی آئی شیخ طارق صادق نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی ترقی اور انسانی وقار کو ایک ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ کوئی بھی کاروبار صحیح معنوں میں ترقی نہیں کر سکتا اگر اس کی افرادی قوت خود کو غیر محفوظ محسوس کرے۔ قبل ازیں سرپرست اعلیٰ ای ایف پی میاں اکرم فرید نے اپنے خیرمقدمی کلمات میں اس بات پر زور دیا کہ انسانی حقوق کی شرائط کی تعمیل اب یورپی یونین سمیت بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک لازمی شرط ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس انسانی حقوق اور مزدوروں کے حقوق سے متعلق 27 بین الاقوامی کنونشنوں کی تعمیل سے منسلک ہے۔ تقریب کے نمایاں شرکا میں آئی سی سی آئی کے کونسل ممبران زبیر احمد ملک، محمد اعجاز عباسی، چوہدری وحید الدین، خالد جاوید، سابق صدور زاہد مقبول، محمد احمد، ناصر خان، ایس وی پی اسلام آباد انڈسٹریل ایسوسی ایشن مرزا محمد علی، فیروز عالم وی پی، ای ایف پی، ڈائریکٹرز ہمایوں نذیر، محسن تابانی، صدف ہاتف، ہمایوں نذیر، ڈاکٹر یوسف، نذر علی، سیکرٹری جنرل، مارکیٹ پریذیڈنٹ ٹریڈ لیڈرز اور ایگزیکٹو ممبران بھی شامل تھے۔