اسلام آباد۔12دسمبر (اے پی پی):عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پنجاب میں محفوظ طریقے سے فراہم کیے جانے والے پانی، صفائی اور بنیادی حفظانِ صحت کی خدمات مہیاکرنے اور مقامی شہری انتظامیہ کی ادارہ جاتی اور مالی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے 400 ملین ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دیدی ہے۔عالمی بینک کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق پنجاب اِنکلوسیوسیٹیز پروگرام کے تحت پانی کی فراہمی …
عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پنجاب اِنکلوسیوسیٹیز پروگرام کیلئے 400 ملین ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دیدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔12دسمبر (اے پی پی):عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پنجاب میں محفوظ طریقے سے فراہم کیے جانے والے پانی، صفائی اور بنیادی حفظانِ صحت کی خدمات مہیاکرنے اور مقامی شہری انتظامیہ کی ادارہ جاتی اور مالی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے 400 ملین ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دیدی ہے۔عالمی بینک کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق پنجاب اِنکلوسیوسیٹیز پروگرام کے تحت پانی کی فراہمی کے نیٹ ورکس، سیوریج سسٹمز اور گندے پانی کی صفائی کے پلانٹس کی بہتری وبحالی، برساتی پانی کی نکاسی کا انتظام، اور مقامی حکومتوں کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائیگا اورپائیدار انداز میں خدمات فراہم کرنے کیلئے 16 ثانوی شہروں میں آمدنی میں اضافہ کیاجائیگا ،یہ پروگرام پنجاب میں سا ٹھوس فضلے کوٹھکانہ لگانے کے نظام کی کارکردگی بہتر بنانے میں بھی معاون ہوگا ۔
پاکستان کیلئے عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹربولورماامگابزار نے بتایا کہ مستقبل کے لیے بچوں میں غذائی کمی میں کمی لانا نہایت ضروری ہے۔ پنجاب اِنکلوسیو سٹیز پروگرام کے ذریعے ہم محفوظ پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کی خدمات میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں تاکہ غذائی قلت اور بیماریوں کے اس چکر کو توڑا جاسکے جو بہت سے بچوں کو اپنی پوری صلاحیت حاصل کرنے سے روک رہاہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کے تعاون سے یہ پروگرام شہری بنیادی ڈھانچہ بہتر بنانے اور مقامی اداروں کو مضبوط کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے، جو صحت مند کمیونٹیز اور زیادہ خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھے گا، پنجاب اِنکلوسیوسیٹیز پروگرام کا مقصد تقریباً 45 لاکھ لوگوں کو بہتر پانی، صفائی، حفظانِ صحت اور نکاسی آب کی خدمات فراہم کرنا ہے، جبکہ 20 لاکھ مزید افراد کو ٹھوس فضلے کے بہتر انتظام کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
یہ پروگرام پانی سے پھیلنے والی بیماریوں میں کمی کے ذریعے صحت کے اخراجات کو کم کرنے، بچوں میں غذائی کمی کی شرح گھٹانے، اور شہری مقامی حکومتوں کی پائیدار خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں مدد فراہم کرے گا۔عالمی بینک کی سینئر اربن اسپیشلسٹ آمنہ راجہ نے بتایا کہ پروگرام کے زریعہ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ استعدادِ کار میں اضافہ اور آمدنی کے ذرائع بڑھانے میں مددملیگی جس سے خدمات کی فراہمی پائیدار طریقے سے جاری رہ سکے گی ،یہ پنجاب کے شہروں کو سیلاب اور خشک سالی جیسے مسائل کا بہتر مقابلہ کرنے کے قابل بھی بنائے گا، تاکہ شہری ترقی ماحولیاتی طور پر ذمہ دار اور موسمیاتی تبدیلی سے مزاحم ہو سکے۔
پروگرام صنفی مساوات کے حوالے سے بھی اہمیت کاحامل ہے جن میں خصوصاً فیصلہ سازی کی ذمہ داریوں میں خواتین کی ترجیحی شمولیت ، صنفی شکایات کے مراکز کا قیام، اور خواتین کارکنوں کی مہارتوں و ترقی کے لیے مخصوص تربیت شامل ہے۔ پروگرام کا مقصد پنجاب کے ثانوی شہروں میں پانی اور صفائی کی خدمات میں بہتری کے لیے نجی سرمایہ کاری کو بھی متحرک کرنا ہے۔








