لاہور۔14دسمبر (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ برآمدی نمو کو معاشی بحالی کے ایجنڈے میں مرکزی اہمیت حاصل ہونی چاہیے ،یہ کام ویلیو ایڈیشن، تنوع اور نئی منڈیوں تک رسائی سے ہی ممکن ہے۔ اتوار کو یہاں صنعتکاروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برآمدات کو فروغ دے کر پاکستان ادائیگیوں کے توازن کو مضبوط اور بیرونی فنانسنگ …
برآمدی نمو کو معاشی بحالی ایجنڈے میں مرکزی اہمیت حاصل ہونی چاہیے، سیف الرحمان

مزید خبریں
لاہور۔14دسمبر (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ برآمدی نمو کو معاشی بحالی کے ایجنڈے میں مرکزی اہمیت حاصل ہونی چاہیے ،یہ کام ویلیو ایڈیشن، تنوع اور نئی منڈیوں تک رسائی سے ہی ممکن ہے۔
اتوار کو یہاں صنعتکاروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برآمدات کو فروغ دے کر پاکستان ادائیگیوں کے توازن کو مضبوط اور بیرونی فنانسنگ پر انحصار کو کم کر سکتا ہے، صرف پیداواری صلاحیت، گورننس اور کاروباری اصلاحات کے ذریعے ہی مستحکم اور خوشحال معاشی مستقبل ترتیب دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری اصلاحات اس کا اہم ستون ہیں، کاروبار کو عالمی سطح پر مسابقتی بنانے کے لیے ٹیکس کو آسان بنانا، معاہدوں کے نفاذ کو بہتر و موثر بنانا اور کاروبار کرنے میں آسانیوں کو یقینی بنانا ضروری ہے۔اسی طرح سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے سہل ضوابط، سرکاری اداروں میں شفافیت اور نااہلیوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پیداواری صلاحیت میں اضافہ، گورننس کی تنظیم نو اور مستحکم کاروباری اصلاحات کی طرف فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں کراچی میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے بجا طور پر کہا تھا کہ زراعت کو جدید اور صنعتی صلاحیت کو اپ گریڈ کرتے ہوئے پیداواری صلاحیت کو اقتصادی منصوبہ بندی میں مرکزی حیثیت دینا ضروری ہے، اس سے نہ صرف مسابقت میں بہتری آئے گی بلکہ درآمدات پر انحصار بھی کم ہو گا۔








