اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):کمپٹیشن اپیلیٹ ٹربیونل نے میسرز کنگڈم ویلی پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی ریکوری کارروائی پر سٹے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کمپنی کو ہدایت کی ہے کہ وہ شنوائی سے قبل عائد کردہ جرمانے کا کم از کم 50 فیصد جمع کرائے۔ ٹربیونل کے فیصلے کے بعد مسابقتی کمیشن نے کمپنی کے بینک اکاؤنٹس منسلک کر کے 2کروڑ 70لاکھ روپے ریکور …
کمپٹیشن اپیلیٹ ٹربیونل کا کنگڈم ویلی کو جرمانے کی 50 فیصد رقم جمع کرانے کا حکم، ریکوری پر سٹے کی درخواست مسترد
اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):کمپٹیشن اپیلیٹ ٹربیونل نے میسرز کنگڈم ویلی پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی ریکوری کارروائی پر سٹے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کمپنی کو ہدایت کی ہے کہ وہ شنوائی سے قبل عائد کردہ جرمانے کا کم از کم 50 فیصد جمع کرائے۔
ٹربیونل کے فیصلے کے بعد مسابقتی کمیشن نے کمپنی کے بینک اکاؤنٹس منسلک کر کے 2کروڑ 70لاکھ روپے ریکور کر لئے جس پر کنگنڈم ویلی نے ٹربیونل میں ریکوری کی کارروائی پر سٹے جاری کرنے اور کمپنی کے منسلک اکائونٹ کھلوانے کی درخواست دائر کی تاہم اپیلیٹ ٹربیونل نے کنگڈم ویلی کو ہدایت کی کہ وہ کل جرمانے کا 50 فیصد، یعنی سات کروڑ 50لاکھ روپے (75 ملین روپے ) جمع کرائے اور باقی جرمانے کی رقم کے لئے پوسٹ ڈیٹڈ چیکس کمیشن کو جمع کرائے۔
ٹریبونل نےاپنے مشاہدہ میں کہا کہ بظاہر کمپنی کی جانب سے کمپٹیشن ایکٹ 2010 کی ابتدائی خلاف ورزی کی گئی ہے ، اس لئے جرمانے کی نصف رقم جمع کرائے بغیر اسٹے نہیں دیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے کنگڈم ویلی پر گمراہ کن اور جھوٹی تشہیر کرنے پر 15 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔
کمیشن کے مطابق کمپنی اپنے ہاؤسنگ منصوبے کو اسلام آباد میں واقع ظاہر کر رہی تھی، جبکہ منصوبے کا اصل مقام موضع چھوڑا، راولپنڈی ہے۔ مزید برآں کمپنی کی جانب سے نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام سے وابستگی کے دعوے بھی جعلی ثابت ہوئے جبکہ منصوبے کے این او سی کی منظوری سے متعلق معلومات غیر واضح تھیں۔اس سے قبل کنگڈم ویلی نے مسابقتی کمیشن کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا تاہم نومبر 2025 میں ہائی کورٹ نے کمپنی کی درخواست خارج کرتے ہوئے معاملہ کمپٹیشن اپیلیٹ ٹربیونل کو بھجوا دیا تھا۔
یہ کیس اس وقت ٹریبونل میں بغیر کسی اسٹے آرڈر کے زیرِ سماعت ہے۔ایک علیحدہ مقدمے میں اپیلیٹ ٹربیونل نے میسرز یونائیٹڈ ڈسٹری بیوٹرز اور انٹرنیشنل برانڈز لمیٹڈ کو بھی مسابقتی کمیشن کی ریکوری کارروائیوں کے خلاف اسٹے حاصل کرنے کے لئے دو کروڑ روپے (جرمانے کا 50 فیصد) کی بینک گارنٹی اور باقی 50 فیصد کے لیے پوسٹ ڈیٹڈ چیکس جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔
مسابقتی کمیشن نے یو ڈی پی ایل اور آئی بی ایل پر کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے سیکشن 4 کی خلاف ورزی میں غیر قانونی اور مسابقت مخالف نان کمپِیٹ معاہدہ کرنے پر چار کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔ کمیشن کی تحقیقات کے مطابق آئی بی ایل نے یو ڈی پی ایل کو 1.13 ارب روپے سے زائد ادا کیے تاکہ وہ تین سال کے لئے ہیومن فارماسیوٹیکل ڈسٹری بیوشن مارکیٹ سے باہر رہے۔ دونوں کمپنیوں کے مابین یہ معاہدہ مارکیٹ شیئرنگ کے مترادف تھا جس سے مسابقت ختم ہوئی اور صارفین کو نقصان پہنچا۔









