لاہور۔17دسمبر (اے پی پی):ماریشس کے ہائی کمشنر منصور کریم بخش نے کہا ہے کہ دنیا میں پاکستان کی جو تصویر پیش کی جاتی ہے وہ اس سے بالکل مختلف ہے جو میں نے بطور سفیر یہاں آ کر دیکھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے اور وہ اس کا حقیقی مثبت تشخص دنیا کے سامنے لانے کے لیے بھرپور اور مسلسل کوششیں کریں گے۔ وہ ایل سی …
ماریشس کے ہائی کمشنر کا لاہور چیمبرکا دورہ، بلیو اکانومی کے شعبے میں مل کر کام کرنے پراتفاق

مزید خبریں
لاہور۔17دسمبر (اے پی پی):ماریشس کے ہائی کمشنر منصور کریم بخش نے کہا ہے کہ دنیا میں پاکستان کی جو تصویر پیش کی جاتی ہے وہ اس سے بالکل مختلف ہے جو میں نے بطور سفیر یہاں آ کر دیکھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے اور وہ اس کا حقیقی مثبت تشخص دنیا کے سامنے لانے کے لیے بھرپور اور مسلسل کوششیں کریں گے۔ وہ ایل سی سی آئی کے دورے کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے ماریشس کے سفیر کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔
اس موقع پر ماریشس کے اعزازی کونسل جنرل شاہد سیٹھی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ نائب صدر لاہور چیمبر خرم لودھی، ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران سید سلمان علی، احسن شاہد، عامر سعید میاں اور عامر علی بھی ملاقات میں موجود تھے۔صدر لاہور چیمبرنے کہا کہ پاکستان اور ماریشس کے تعلقات دیرینہ اور خوشگوار ہیں تاہم دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم ان کی اصل صلاحیتوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو مل کر کام کرنا ہو گا تاکہ باہمی تجارت میں توازن کے مسائل کو دور کیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان سے ماریشس کو روایتی مصنوعات جیسے چاول، ٹیکسٹائل اور فارماسیوٹیکل مصنوعات برآمد کی جا رہی ہیں جبکہ ماریشس سے پاکستان کو آئرن اور اسٹیل سمیت دیگر مصنوعات برآمد ہو رہی ہیں۔ صدرلاہور چیمبرنے اس بات پر زور دیا کہ تجارت میں مزید مصنوعات کو شامل کرنے اور ویلیو ایڈیشن کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ حلال فوڈ، ٹیکنالوجی اور ہیومن ریسورس کے شعبوں میں وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پروڈکٹس کی ڈائیورسیفکیشن اور ویلیو ایڈیشن کا رجحان بڑھ رہا ہے، جس سے فائدہ اٹھانا ناگزیر ہے۔
انہوں نے بزنس ٹو بزنس روابط، تجارتی وفود اور نمائشوں کے انعقاد کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ماریشس کے ہائی کمشنر منصور کریم بخش نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت انتہائی کم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں پاکستان اور ماریشس کے درمیان پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ موجود تھا جس کے باعث باہمی تجارت اور برآمدات کا حجم زیادہ تھا، تاہم اب یہ معاہدہ موجود نہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو صحت، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ ہائی کمشنر نے بتایا کہ ماریشس میں دنیا کے مختلف ممالک کی جامعات کے کیمپس قائم ہیں اور کم از کم ایک پاکستانی یونیورسٹی کو بھی ماریشس میں اپنا کیمپس کھولنا چاہیے، جس کے لیے مکمل سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ افریقہ ایک اہم خطہ ہے جہاں عالمی معاشی طاقت کا توازن مغرب سے مشرق کی جانب منتقل ہو رہا ہے اور افریقہ اس تبدیلی کے مرکز میں واقع ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان اور ماریشس کے درمیان ڈائریکٹ فلائٹس نہ ہونے کی وجہ سے تجارت اور روابط میں اضافہ نہیں ہو پا رہا، اس لیے براہِ راست پروازوں کا آغاز وقت کی اہم ضرورت ہے۔ماریشس کے ہائی کمشنر نے کہا کہ اگرچہ ماریشس ایک جزیرہ ہے لیکن اس کے پاس تقریبا 20 لاکھ مربع کلومیٹر پر مشتمل سمندری حدود موجود ہیں۔
انہوں نے پاکستان کو بلیو اکانومی کے شعبے میں ماریشس کے ساتھ تعاون کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت ماریشس کا ایک بڑا شعبہ ہے اور اس میں بھی دوطرفہ تعاون کو فروغ دیا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ماریشس کو بعض معاشی چیلنجز کا سامنا ہے اور وہ غیر ملکی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے، جس کے لیے سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے اگست میں ماریشس میں ہونے والی نمائش میں لاہور چیمبر کی شرکت کی دعوت بھی دی۔صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے اس موقع پر کہا کہ بہتر فضائی رابطہ، تجارت میں ڈائیورسی فیکیشن اور ادارہ جاتی تعاون دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور باہمی اقتصادی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں مدد دے گا۔








