پاکستان،بنگلہ دیش اورچین پر مشتمل نئے علاقائی بلاک کا قیام اشد ضروری ہے،افتخار علی ملک

لاہور۔21دسمبر (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے پاکستان، بنگلہ دیش اور چین پر مشتمل نئے علاقائی بلاک کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی تشکیل کی بنیاد نئی سپلائی چینز کے قیام،غیر یقینی شراکت داروں پر انحصار میں کمی، سرمایہ کاری اور مربوط منڈیوں کے قیام پر استوار ہونی چاہیے۔ اتوار کو یہاں جاری ایک …

لاہور۔21دسمبر (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے پاکستان، بنگلہ دیش اور چین پر مشتمل نئے علاقائی بلاک کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی تشکیل کی بنیاد نئی سپلائی چینز کے قیام،غیر یقینی شراکت داروں پر انحصار میں کمی، سرمایہ کاری اور مربوط منڈیوں کے قیام پر استوار ہونی چاہیے۔ اتوار کو یہاں جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیاء میں چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی واضح طور پر نظر آتی ہے۔

گزشتہ سال جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ چین کی مجموعی تجارت تقریبا 200 ارب ڈالر رہی، جس میں پاکستان ایک بڑشراکت دار ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ بات زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ نئے بلاک سے جنوبی ایشیاء کی سیاست کا رخ مضبوط معاشی بنیادوں پر استوار ہو گا اور یہ موجودہ نظام کے مقابلے میں زیادہ موثر متبادل ثابت ہو گا۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ بنگلہ دیش میں اتنا معاشی وژن موجود ہے کہ وہ تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔

بنگلہ دیش میں پہلے ہی انفراسٹرکچر منصوبوں میں اربوں ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری ہو چکی ہے، جس سے ملک کی بندرگاہوں، توانائی کے شعبے اور صنعتی بنیاد کو مکمل طور پر نئی شکل مل چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بلاک میں شمولیت کی بنیاد سیاسی نہیں بلکہ دانشمندانہ اور قابل عمل پالیسی فیصلہ ہے،اس بلاک میں ایسے ممالک کو شامل نہیں ہونا چاہیے جو اس عمل کو سیاسی یا کسی مختلف انداز سے دیکھتے ہیں۔اس طرح باہمی تعاون زیادہ تیزی سے فروغ پذیر ہو گا،راہداریاں بغیر رکاوٹ کے ترقی کریں گی اور سیاسی رکاوٹیں بھی حائل نہیں ہوں گی۔