مقررین نے کہا ہےکہ عالمی طاقتوں کے توازن میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں اور ابھرتے ہوئے کثیر قطبی عالمی نظام کے تناظر میں پاکستان اور روس کے تعلقات نئی جہت اختیار کر رہے ہیں
عالمی طاقتوں کے توازن میں تبدیلیوں اور ابھرتے ہوئے کثیر قطبی عالمی نظام کے تناظر میں پاکستان اور روس کے تعلقات نئی جہت اختیار کر رہے ہیں ، مقررین کا ویبینار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔9جون (اے پی پی):مقررین نے کہا ہےکہ عالمی طاقتوں کے توازن میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں اور ابھرتے ہوئے کثیر قطبی عالمی نظام کے تناظر میں پاکستان اور روس کے تعلقات نئی جہت اختیار کر رہے ہیں جہاں دونوں ممالک باہمی مفادات،اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام پر مبنی شراکت داری کو فروغ دے رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار مقررین نے انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) میں ماسکو کی یونیورسٹی آف ورلڈ سولائزیشنز کے اشتراک سے "پاکستان اور روس: بدلتی عالمی نظم کے تناظر میں دوطرفہ تعلقات” کے عنوان سے ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں دونوں ممالک کے سینئر پالیسی سازوں، سفارتکاروں، تزویراتی ماہرین، میڈیا نمائندوں اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔ اس موقع پر شرکاء نے بالخصوص ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد جاری جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے اثرات کا جائزہ لیا۔ افتتاحی کلمات میں آئی ایس ایس آئی کے سینٹر فار سٹریٹجک پرسپیکٹوز کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نیلم نگار نے تیزی سے بدلتی علاقائی اور عالمی صورتحال کے تناظر میں پاکستان اور روس کے درمیان روابط کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ویبینار کا مقصد نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی فہم کو فروغ دینا ہے بلکہ عوامی سفارتکاری، تعلیمی تبادلوں، میڈیا تعاون اور عوامی روابط کو بھی مضبوط بنانا ہے۔اس موقع پر وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ گزشتہ دودہائیوں کے دوران پاکستان اور روس کے تعلقات نے نہایت مثبت، تعمیری اور عملی بنیادوں پر نمایاں پیشرفت کی ہے۔عالمی سیاست میں رونما ہونے والی ساختی تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ سوویت دور سےوابستہ باقی ماندہ بداعتمادی بتدریج ختم ہو چکی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات "غیر دوستانہ ملک” کے تصور سے آگے بڑھ کر "قابلِ اعتماد دوست” کی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ تجارت، توانائی، دفاع اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ میں دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کا کلیدی کردار رہا ہےجس کا مظہر وزیراعظم محمد شہباز شریف اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے درمیان حالیہ برسوں میں ہونے والی چار ملاقاتیں ہیں۔روس۔پاکستان بین الحکومتی کمیشن (آئی جی سی) کے پاکستانی شریک چیئرمین کی حیثیت سے وفاقی وزیر نےروسی فیڈریشن کے وزیر توانائی اور اپنے ہم منصب سرگئی تسیویلیف کے ساتھ مسلسل روابط کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی سی دونوں ممالک کے کثیرالجہتی اور ہمہ گیر تعلقات کی بنیادی اساس کی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تعاون مختلف ادارہ جاتی فریم ورک کے ذریعے مزید مستحکم ہوا ہے، جن میں سلامتی سے متعلق مشاورت،تزویراتی استحکام، انسداد دہشت گردی اور دیگر شعبوں میں تعاون کے باقاعدہ نظام شامل ہیں۔ دونوں ممالک اقوام متحدہ اور شنگھائی تعاون تنظیم سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر بھی باہمی ہم آہنگی کے ساتھ ایک جامع اور کثیر القطبی عالمی نظام کے فروغ کے لئے مشترکہ مؤقف اختیار کرتے ہیں۔وفاقی وزیر نے علاقائی روابط کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی شمال۔جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور میں شمولیت کا خواہاں ہے۔ انہوں نے روسی نائب وزیراعظم الیکسے اوورچوک کے اس بیان کا خیرمقدم کیا جس میں انہوں نے اس کوریڈور کو پاکستان کی گوادر بندرگاہ سے منسلک کرنے کی تجویز پیش کی۔ وفاقی وزیر کے مطابق یہ اقدام چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں ایک اہم رابطے کی تکمیل کا ذریعہ بن سکتا ہے۔انہوں نے اس امر کا بھی ذکر کیا کہ روسی قیادت نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لئے پاکستان کی حالیہ سفارتی کوششوں کو سراہا ہے، جو اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ صدر ولادیمیر پیوٹن پاکستان کو عالمی سطح پر ایک اہم اور ذمہ دار شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافے کی وسیع گنجائش موجود ہے اور ادائیگیوں کے نظام سمیت بعض ساختی رکاوٹوں کے حل کے لیے دونوں ممالک فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں دونوں فریق روسی فیڈریشن اور پاکستان کے درمیان 2030 تک کے لیے اقتصادی تعاون کے پروگرام پر دستخط کے لیے متفق ہو چکے ہیں، جو اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں بشکیک میں روس-پاکستان ری ایڈمیشن معاہدے پر دستخط بھی ایک اہم پیشرفت ہے جس کے نتیجے میں ویزا سہولتوں میں بہتری آئے گی، کاروباری روابط کو فروغ ملے گا اور عوامی سطح پر تبادلوں میں مزید اضافہ ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ روس کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے ادارہ جاتی روابط کا اظہار گزشتہ ماہ کازان فورم 2026 میں پاکستان کے بڑے وفد کی شرکت سے بھی ہوا، جبکہ پاکستان سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم اور ماسکو انرجی ویک سمیت دیگر اہم بین الاقوامی تقریبات میں بھی باقاعدگی سے شرکت کرتا ہے۔اپنے خطاب کے اختتام پر وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے اس امر کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات صرف دوطرفہ تعاون تک محدود نہیں بلکہ وسیع تر یوریشیائی اقتصادی انضمام، علاقائی روابط اوراستحکام کے فروغ میں بھی بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ماسکو میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے اپنے کلیدی خطاب میں موجودہ دور کو عالمی سیاست کا فیصلہ کن مرحلہ قرار دیا۔ انہوں نے ابھرتے ہوئے جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی رجحانات کی تشکیل میں ماسکو کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور پاکستان و روس کے درمیان سفارتی روابط میں اضافے کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ رابطہ سازی کے منصوبے، اقتصادی تعاون اور سیاسی ہم آہنگی دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے اور ایک زیادہ متوازن اور جامع علاقائی نظم کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گے۔ پہلے ورکنگ سیشن کے دوران پاکستانی اور روسی ماہرین، سفارتکاروں، ماہرین تعلیم اور میڈیا نمائندوں نے بدلتے عالمی تناظر اور پاکستان-روس تعلقات کے مستقبل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔وزیراعظم کے معاون خصوصی سفیر سید طارق فاطمی نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات تاریخ کے مضبوط ترین مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جن کی بنیاد علاقائی اور عالمی امور پر بڑھتی ہوئی ہم آہنگی اور توانائی، تجارت، رابطہ سازی، سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں وسعت پذیر تعاون پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی تبدیلیاں باہمی مفاد پر مبنی روابط کو مزید گہرا کرنے اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر سفیر مسعود خان نے یوریشین جغرافیائی سیاست اور ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان اور روس کے درمیان رابطہ سازی، توانائی کے تحفظ، تجارتی انضمام اور انسداد دہشت گردی کے تعاون کے امکانات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے پاکستان، روس، چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان وسیع تر علاقائی روابط اور مضبوط اقتصادی تعاون پر زور دیا۔ سفیر جوہر سلیم نے عالمی جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے خودمختاری، سلامتی اور طرز حکمرانی پر اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ پاکستان جیسے درمیانی طاقت کے حامل ممالک کثیر قطبی دنیا میں مکالمے، ثالثی اور اتفاق رائے کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ویبینار کے دوسرے سیشن میں پاکستان اور روس کے درمیان سماجی اور اطلاعاتی روابط کو مضبوط بنانے پر توجہ دی گئی اور اس امر پر زور دیا گیا کہ سرکاری سفارتکاری کے ساتھ ساتھ عوامی اور میڈیا سطح پر بھی تعلقات کو فروغ دیا جائے۔








