انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے لندن کے لارڈز کرکٹ گراونڈ اور لاہور کے قذافی اسٹیڈیم کی پچز کو "غیر تسلی بخش” قرار دیتے ہوئے دونوں مقامات کو ایک، ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ دے دیا ہے۔آئی سی سی ترجمان کے مطابق
آئی سی سی نے لارڈز اور قذافی اسٹیڈیم کی پچز کو "غیر تسلی بخش” قراردے دیا

مزید خبریں
لاہور۔9جون (اے پی پی):انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے لندن کے لارڈز کرکٹ گراونڈ اور لاہور کے قذافی اسٹیڈیم کی پچز کو "غیر تسلی بخش” قرار دیتے ہوئے دونوں مقامات کو ایک، ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ دے دیا ہے۔آئی سی سی ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ لارڈز میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ اور قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان منعقدہ تیسرے ایک روزہ بین الاقوامی میچ کے بعد میچ ریفریز کی رپورٹس کی روشنی میں کیا گیا۔لارڈز ٹیسٹ کے میچ ریفری اینڈی پائکرافٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پورے میچ کے دوران گیند غیر معمولی حد تک سیم موومنٹ حاصل کرتی رہی جبکہ کئی مواقع پر گیند بہت نیچی بھی رہی۔ ان کے مطابق پچ پر باونس میں مسلسل عدم یکسانیت دیکھنے میں آئی، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پہلے روز 16 اور دوسرے روز 17 وکٹیں گریں۔ انہوں نے کہا کہ پچ نے بیٹ اور بال کے درمیان توازن کو بری طرح متاثر کیا اور واضح طور پر بولرز کو غیر معمولی مدد فراہم کی۔دوسری جانب قذافی اسٹیڈیم کے میچ ریفری گریم لا بروئے نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پچ انتہائی سست اور نیچی تھی، جس کے باعث رنز بنانا بہت مشکل ہو گیا۔
ان کے مطابق یہ وکٹ ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کے معیار کے مطابق نہیں تھی کیونکہ بلے بازوں کو سیٹ ہونے کے لیے غیر معمولی وقت درکار تھا۔ پچ نے میچ کے ابتدائی مراحل سے ہی اسپنرز کی مدد کی اور پورے مقابلے کے دوران اس کا رویہ یکساں رہا۔آئی سی سی نے دونوں رپورٹس بالترتیب انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو ارسال کر دی ہیں۔ دونوں بورڈز کو فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے 14 دن کا وقت دیا گیا ہے۔آئی سی سی کے پچ اور آوٹ فیلڈ مانیٹرنگ نظام کے تحت "غیر تسلی بخش” قرار دی جانے والی پچ پر میزبان وینیو کو ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ دیا جاتا ہے، جبکہ "ناقابلِ کھیل” قرار دی جانے والی پچ کی صورت میں تین ڈیمیرٹ پوائنٹس عائد کیے جاتے ہیں۔ یہ پوائنٹس پانچ سال تک ریکارڈ کا حصہ رہتے ہیں۔قوانین کے مطابق اگر کسی وینیو کے ڈیمیرٹ پوائنٹس کی تعداد چھ یا اس سے زیادہ ہو جائے تو اسے 12 ماہ کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کی میزبانی سے معطل کر دیا جاتا ہے، جبکہ 12 ڈیمیرٹ پوائنٹس تک پہنچنے کی صورت میں دو سال کی معطلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم لارڈز اور قذافی اسٹیڈیم کے خلاف اس سے قبل کوئی ڈیمیرٹ پوائنٹ موجود نہیں تھا۔







