رواں سال بحرینی معیشت کی شرح نمو 3.3 فی صد رہے گی،آئی ایم ایف

رواں سال بحرینی معیشت کی شرح نمو 3.3 فی صد رہے گی،آئی ایم ایف
رواں سال بحرینی معیشت کی شرح نمو 3.3 فی صد رہے گی،آئی ایم ایف

واشنگٹن۔16فروری (اے پی پی):بحرین کی معیشت میں کووڈ-19 کی وبا کے بعد بتدریج بہتری آرہی ہے اور اس سال اس کی اقتصادی بحالی کا امکان ہے۔رواں سال بحرین کی معاشی شرح نمو 3.3 رہے گی۔اس خلیجی ریاست کی معیشت کے بارے میں یہ پیشین گوئی عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کی ہے۔بحرین کو گزشتہ سال کے دوران کورونا وائرس کی وبا اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ 2020میں بحرین کا بجٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کا 18.2 فی صد رہا۔2019میں یہ خسارہ 9 فی صد تھا۔آئی ایم ایف کے مطابق بحرین کا قرضہ جی ڈی پی کے 133 فی صد کے برابر ہوچکا ہے۔2019میں سرکاری قرضہ جی ڈی پی کا 102 فی صد تھا۔عالمی فنڈ نے بیان میں کہا ہے کہ بحرین کے ایک طویل عرصے سے جاری مالی عدم توازن کے خاتمے کے لیے درمیانی مدت کے فریم ورک اور مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت ہے،اس کے علاوہ حکومت کو میکرواکنامک استحکام کی بحالی کی بھی ضرورت ہے۔عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ بحرین کووِڈ-19 کی وبا کے شعبہ صحت اور معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات سے نمٹنے کے لیے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور کورونا وائرس کی ویکسین کی عام دستیابی کو یقینی بنارہا ہے۔بحرین کی اس سال 3.3 فی صد شرح نمواس بات کی مظہر ہے کہ غیرتیل معیشت کی شرح نمو 3.9 فی صد ہونے کی توقع ہے۔آئی ایم ایف نے بحرین کے مرکزی بنک کی جانب سے دوسرے بنکوں کی معاونت کا خیرمقدم کیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ حکومت کے آجرکی حیثیت سے کردار میں کمی سے نجی شعبہ کو زیادہ فعال اور پُرکشش انداز میں نجی شعبے کو بنانے میں مدد ملے گی اور اس سےمالیاتی دباؤ کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔