پاکستان کی طرف سےسلامتی کونسل کے مستقل اراکین کی تعداد میں اضافے کی ایک بار پھرمخالفت

پاکستان کی طرف سےسلامتی کونسل کے مستقل اراکین کی تعداد میں اضافے کی ایک بار پھرمخالفت
پاکستان کی طرف سےسلامتی کونسل کے مستقل اراکین کی تعداد میں اضافے کی ایک بار پھرمخالفت

اقوام متحدہ۔17فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غیرمستقل اراکین کی تعداد میں توسیع کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے مستقل اراکین کی تعداد میں اضافہ کرنے سے سلامتی کونسل زیادہ جمہوری، ذمہ دار اورنمائندگی رکھنے والی نہیں ہوگی بلکہ کونسل میں عدم مساوات اور اس کی غیر فعالیت کے تاثر میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے گزشتہ روز اپنے ریمارکس میں کہا کہ مستقل اراکین کی تعداد میں مزید اضافہ سے سلامتی کونسل کے عدم مساوات اور غیر فعالیت کے تاثر میں اضافہ ہوگا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات لانے کے لیے کام کرنے والی اقوام متحدہ کی بین الحکومتی مذاکرات کے ریاستی گروپ ( آئی جی این )نے سلامتی کونسل میں مستقل نشتوں میں اضافہ کے لیے نام نہاد جی۔ 4 ممالک بھارت، برازیل ، جرمنی اور جاپان کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کیے ۔ پاکستانی مندوب منیر اکرم نے سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے خواہشمند ممالک کی جانب سے اصلاحاتی عمل کے خلاف کوششوں سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کے عمل پرمذاکرات کے ذریعے اتفاق رائے ضروری ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کی تنظیم نو سے متعلق پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پاکستان سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق رکھنے والے مستقل اراکین کی تعداد میں توسیع کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقل رکنیت خودمختاری، مساوات، جمہوری، نمائندگی اور جوابدہی کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے جبکہ غیرمستقل نشستوں کی کیٹگری میں توسیع سے مثالی اورجامع اصلاحات لائی جا سکتی ہیں اور اس کے تناظر میں پاکستان اور اٹلی کی قیادت میں اتفاق رائے کے لیے اتحاد (یو ایف سی ) نامی گروپ نے مستقل ممبران کی تعداد میں اضافے کی مخالفت کرتے ہوئے کونسل میں غیرمستقل ممبران کی نئی کیٹگری میں توسیع کی تجویز پیش کرتے ہوئے 11 نئے منتخب ممبران تجویز کیے۔ پاکستانی مندوب منیر اکرم نے کہا کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے عمل میں پیشرفت دبائو اور جبر سے نہیں بلکہ صرف مختلف معاہدوں کے لیے بین الحکومتی مزاکرات(آئی جی این ) گروپ میں مسلسل بات چیت اور سنجیدہ مشاورت، باہمی مصالحت اور سمجھوتوں میں جدت سے لائی جاسکتی ہے۔