براڈ شیٹ معاملہ پانامہ سے بڑا اسکینڈل ہے، جنرل (ر) پرویز مشرف نے بدعنوان عناصر کو این آر او دیکر ملک کو مالی نقصان پہنچایا،تحریک انصاف حکومت احتساب کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے، سینیٹر شبلی فراز

اسلام آباد۔13جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ براڈ شیٹ معاملہ پانامہ سے بڑا اسکینڈل ہے، براڈشیٹ نے شریف خاندان کی منی لانڈرنگ اور کرپشن کو پھر بے نقاب کیا ہے، لندن ہائیکورٹ نے نواز شریف کو کیس سے بری نہیں کیا، ن لیگ غلط بیانی کر رہی ہے، ماضی میں براڈشیٹ کو تحقیقات سے روک دیا گیا تھا اور اس وقت کی حکومت نے بدعنوان عناصر کو این آر او دے کر ملک کو مالی نقصان پہنچایا، اپوزیشن جماعتیں اب بھی این آر او کے حصول کیلئے تحریک چلا رہی ہیں، تحریک انصاف حکومت احتساب کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے اور کسی صورت میں ملکی وسائل لوٹنے والوں کو این آر او نہیں دے گی، حکومت کو اپوزیشن کے لانگ مارچ سے کوئی خطرہ نہیں ہے، جسطرح ان کی تحریک ناکام ہوئی ہے اسی طرح لانگ مارچ میں بھی عوام ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔ بدھ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف حکومت احتساب کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے اور عوام نے ہمیں بدعنوان عناصر کے خلاف احتساب کا مینڈیٹ دیا ہے، سابق حکمرانوں نے وسائل لوٹ کر ملک کو قرضوں کے جال میں جکڑ دیا، بدعنوان عناصر کو بے نقاب کر کے انہیں عبرت کا مقام بنانا ہمارا فرض ہے تاکہ آئندہ کوئی بھی ملکی وسائل کو پامال نہ کر سکے۔ شبلی فراز نے کہا کہ براڈشیٹ معاملہ پانامہ سے بڑا اسکینڈل ہے، سابق جنرل (ر) پرویز مشرف نے 2000ءمیں براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدہ کیا اور اسے 200 لوگوں کے اثاثے چیک کرنے کیلئے فہرست دی، براڈشیٹ تحقیقات کے بعد نواز شریف سمیت دیگر اپوزیشن رہنمائوں کی نہ صرف لندن بلکہ امریکہ اور وسطی ایشیائی ممالک میں جائیدادیں سامنے لائی، ماضی کی حکومتوں نے اس کیس کو سرد خانے میں رکھا اور بعدازاں یہ لوگ این آر او لیکر ملک سے بھاگ گئے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتیں ملک کے ساتھ مخلص نہیں تھیں اور یہ لوگ کرپشن کے خلاف سنجیدہ نہیں تھے، یہ لوگ اپنی دور حکومتوں کے دوران لوٹ مار کرتے تھے اور پھر ایک دوسرے کو راستہ دیتے تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ماضی میں نہ صرف وزیراعظم بلکہ اس کے وزراءبھی کرپشن میں ملوث رہے، اقاموں کے ذریعے منی لانڈرنگ کرتے رہے، جب کسی ملک کا وزیراعظم اور اس کے وزراءکاروبار اور کرپشن کرتے ہوں تو وہ ملک کیسے ترقی کر سکتا ہے، خواجہ آصف کا کیس بھی پوری قوم کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ لندن ہائیکورٹ نے نواز شریف کو کیس سے بری نہیں کیا، براڈشیٹ نے کہیں یہ نہیں کہا کہ انہوں نے جو بیرون ممالک جائیدادیں بنائی ہیں وہ جائز ہیں، اگر یہ لوگ صاف ہوتے تو عدالتوں سے مفرور ہونے کی بجائے سوالات کا جواب دیتے۔ شبلی فراز نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے اپنے دور حکومتوں کے دوران ایک دوسرے کے خلاف کیسز بنائے تھے، ان کی تقاریر اٹھا کر دیکھ لیں کہ یہ ایک دوسرے کے پیٹ پھاڑ کر پیسے نکالنے کی باتیں کرتے تھے، تحریک انصاف حکومت جب اقتدار میں آئی تو ان کے کیسز پراسیس میں تھے لیکن اب وہ منطقی انجام تک پہنچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف حکومت عوام کے ووٹوں کے ساتھ اقتدار میں آئی ہوئی ہے اور ہم عوام کے سامنے جوابدہ ہیں، سابق حکمران ملک کی موجودہ معاشی صورتحال اور مہنگائی کے ذمہ دار ہیں، ن لیگ نے 20 ارب ڈالرز جھونک کر روپے کو مصنوعی سہارا دیا ہوا تھا، تحریک انصاف حکومت ملکی معیشت کو صحیح کرنے کیلئے کوشاں ہے، کرنٹ اکائونٹ خسارہ زیرو ہو گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کوویڈ 19 نے پوری دنیا کی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے روزگار ہوئے اور کئی کئی ممالک میں اشیائے خوردونوش کی چیزوں کی قلت پیدا ہوئی تاہم وزیراعظم عمران خان کی ولولہ انگیز قیادت میں پاکستانی حکومت نے اچھے طریقے سے بحران کو ہینڈل کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے رہنمائوں کو آئین و قانون کی باتیں زیب نہیں دیتیں، یہ لوگ ماضی میں این آر او لینے کا ٹریک ریکارڈ رکھتے ہیں اور 2008ءمیں میثاق جمہوریت کر کے انہوں نے بدعنوان عناصر کی چوریوں کو معاف کیا، اب بھی یہ لوگ حکومت پر دبائو ڈالنے کیلئے تحریک چلا رہے ہیں لیکن وزیراعظم عمران خان کسی صورت میں بدعنوان عناصر کو این آر او نہیں دیں گے۔ فارن فنڈنگ کیس سے متعلق سوال کے جواب میں شبلی فراز نے تحریک انصاف واحد جماعت ہے جس نے تمام تر تفصیلات اور رسیدیں الیکشن کمیشن میں جمع کرائی ہوئی ہیں، اب ن لیگ اور پیپلزپارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتیں اپنی فنڈنگ کی تفصیلات الیکشن کمیشن کے پاس جمع کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی تحریک اپنی کرپشن کا دفاع کرنے کیلئے تھی اسلئے عوام میں ان کو پذیرائی نہیں ملی، ان لوگوں نے حکومت پر دبائو ڈالنے کیلئے استعفوں کی دھمکی دی اور پھر اس سے بھی پیچھے ہٹ گئے اور اب یہ لوگ ضمنی اور سینیٹ انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، حکومت کو اپوزیشن کے لانگ مارچ سے کوئی خطرہ نہیں ہے، جسطرح ان کی تحریک ناکام ہوئی ہے اسی طرح لانگ مارچ میں بھی عوام ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے