پاکستان ،ترکی اور آذربائیجان کامسلم اقلیتوں سمیت انسانوں کے خلاف جرائم کے ارتکاب اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار

اسلام آباد۔13جنوری (اے پی پی):پاکستان ،ترکی اور آذربائیجان نے مسلم اقلیتوں سمیت انسانوں کے خلاف جرائم کے ارتکاب اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معیشت، سرمایہ کاری، تجارت ، توانائی، ماحولیات، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں سہ ملکی تعاون بڑھانے کے لئے نئے امکانات کی تلاش پر اتفاق کیا ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے سہ ملکی مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئےآذربائیجان اور ترکی کے برادر ممالک کے وزراءخارجہ کا پاکستان آمد پر خیرمقدم کیا اور کہا کہ پاکستان، ترکی اور آذربائیجان کے درمیان قریبی، خوشگوار اور برادرانہ تعلقات استوار ہیں جو مشترک تاریخ، ایک عقیدے، ثقافت اور ہم آہنگی پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ملاقات میں ہم نے وسیع امور پر بات چیت کی ہے جس میں تجارت، سرمایہ کاری، رابطوں کی استواری، عوامی روابط اور سلامتی کے امور کو فروغ دینا شامل ہے تاکہ موجودہ سٹرٹیجک اور سیاسی تعاون مزید بڑھایاجائے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ تینوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا اور فعال کرنے اور مشترکہ تعاون کے لئے مذاکرات کے عمل کو ایک مستقل جہت بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے علاوہ ہم نے عالمی اور علاقائی وقوع پزیر سلامتی کی صورتحال پر غور کیا جس میں مشترکہ مسائل شامل ہیں۔ تینوں ممالک نے مسلم اقلیتوں سمیت انسانوں کے خلاف جرائم کے ارتکاب اور انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا جس میں اسلامو فوبیا کا بڑھتا ہوا رجحان بھی شامل ہے۔ تینوں اطراف نے تمام متعلقہ فورمز پر اس عفریت کا مشترکہ مقابلہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ہم نے کورونا کے خلاف اشتراک عمل سے لڑنے پر بھی اتفاق کیا تاکہ معاشی نمو اور صحت عامہ پر اس کے پڑنے والے وسیع منفی اثرات کا خاتمہ کیاجاسکے۔ انہوں نے کہا کہ تینوں ملکوں نے معیشت، سرمایہ کاری، تجارت وکامرس، توانائی، ماحولیات، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں سہہ ملکی تعاون بڑھانے کے لئے نئے امکانات کی تلاش پر بھی اتفاق کیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تمام علاقائی اور عالمی امور عالمی قانون کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے مذاکرات اور پرامن ذرائع سے حل کئے جائیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ترکی اور آذربایئجان کے وزرا خارجہ نے افغان امن عمل اور تنازعہ کے افغان قیادت میں افغانوں کو قبول حل کے لئے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بے حد اہمیت دیتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں ایک پرامن، مستحکم اور ترقی کرتاہوا افغانستان پورے خطے اور پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے۔ ہم نے قومی مفادات کے معاملات پر ایک دوسرے کی معاونت کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ جموں وکشمیر تنازعہ پر اصولی، مسلسل اور ٹھوس حمایت کرنے پر پاکستان کی حکومت اور عوام اور کشمیری ترکی اور آزربائیجان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہ میں نے اپنے ہم مناصب کو غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، طویل فوجی محاصرے اور کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لئے دانستہ غیرقانونی اور یک طرفہ اقدامات کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور آبادی کے دونوں دھڑوں میں سیاسی مساوات کی بنیاد پر قبرص کے مسئلے کے جامع حل کی طرف کوششوں کے لئے پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔ ہم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق نگورنو کاراباخ کے مسئلے کے حل کا مطالبہ کیا ہے۔ ہم نے دہشت گردی کی تمام اقسام کا مقابلہ کرنے کے لئے تعاون کو مضبوط بنانے سمیت غیرملکی ریاستوں کی سرپرستی میں دہشت گردی کے مسلے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے مہمان وزرا خارجہ کوہمارے خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کے بارے میں بھی تفصیلات سے آگاہ کیا جس کا مقصد پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔ اس کے علاؤہ میں نے پاکستان کے خلاف کردار کشی اور کیچڑ اچھالنے کی چلائی جانے والی مہم کے بارے میں بھی اجاگر کیا جو میڈیا کے اداروں اور جعلی این جی اوز کے ذریعے ایک نیٹ ورک چلارہا تھا جسے یورپی یونین ڈس انفولیپ نے بے نقاب کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تمام علاقائی مسائل کا حل جامع مذاکرات سے ممکن ہے۔ترکی کے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے دورے پر دلی خوشی ہے، ترک قیادت اور عوام کے دلوں میں پاکستان کا خاص مقام ہے۔انہوں نے کہ۔ترکی پاکستان کیساتھ دفاعی تعاون بڑھا رہا ہے۔اس کے علاوہ تعلیم۔کے شعبہ میں بھی تعاون جاری ہے ،آج ہم نے پاکستان کیساتھ تعلیمی شعبے میں تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کئے۔ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں 83 ترک پاک معارف سکول معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں،ہمارے ملکوں میں مجموعی تجارتی حجم صرف 80 کروڑ ڈالر ہے۔تینوں ملکوں میں تجارت اور سرمایہ کار ی بڑھانے کے وسیع امکانات ہیں۔ہم ترک سرمایہ کاروں کے پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔مقبوضہ کشمیر کے حوالے ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکی مسئلہ کشمیر پر کسی بھی یکطرفہ اقدامات کیخلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی طور پر متنازعہ علاقے کی یکطرفہ طور پر جغرافیائی حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکتی۔انہوں نے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے ہلال پاکستان اعزاز عطا کرنے پر انتہائی مشکور ہوں۔آذربائیجان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان دورے پر انتہائی خوشی ہے۔کارا باخ کی آزادی کی دوسر ی جنگ میں پاکستان اور ترکی کی حمایت کے شکر گزار ہیں،دونوں ملکوں نے آرمینیا کی جارحیت کی کھل کر مخالفت کی۔کاراباخ کے معاملے پر پاکستان اور ترکی کے اصولی موقف کو سراہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کاراباخ فتح کرنے کے بعد مقامی لوگوں نے پاکستان اور ترکی کے جھنڈے لہرائے۔انہوں نے کہا کہ تینوں ملکوں کے مابین مشترکہ مذہب،ثقافت،تاریخی روابط ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم۔تینوں ممالک اسلاموفوبیا،بیرونی جارحیت،غیرقانونی قبضے اور دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہ ہم پاکستانی اور ترک کمپنیوں کو کاراباخ کے آزاد کرانے علاقے میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں۔