پاکستان کے ساتھ ساتھ خطے کے لئے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ ( سی پیک) گیم چینجر ثابت ہوگا ، وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز

اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ساتھ خطے کے لئے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ ( سی پیک) گیم چینجر ثابت ہوگا ، اس منصوبے میں سڑکیں ، ریل کا نظام، سمندری بندرگاہیں ، تیل اور گیس پائپ لائنز ، آپٹکل فائبر بچھانے ، خصوصی اقتصادی زون ، سرحد پار تجارت اور تعاون کے مراکز ، اور آزاد تجارتی معاہدے شامل ہیں، سی پیک منصوبے سے پاکستان اور چین دونوں استفادہ حاصل کریں گے ، سی پیک سے مجموعی طور پر 2.3 ملین ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے جس سے جی ڈی پی میں سالانہ 2.5 فیصد سے زائد اضافہ ہوگا، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) نے اپنے پہلے مرحلے (2015-2020) میں قابل ذکر ترقی کی ہے۔ وہ بدھ کو یہاں نیشنل پارلیمنٹری ٹاسک فورس برائے پائیدار ترقی کے اہداف(ایس ڈی جیز) اور سینٹ کی خصوصی کمیٹی قومی اتحاد کے زیر اہتمام سی پیک چیلنجز اور مواقعوں پر قومی سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ سی پیک پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین شیر علی ارباب ، بیرسٹر سیف علی ، چوہدری شفیق سمیت دیگر مقررین نے بھی سیمینار سے خطاب کیا ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کا فلیگ شپ منصوبہ ہے،2015 میں شروع ہونے والا یہ ایک انتہائی اہم انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کامنصوبہ ہےجس کی لاگت60 ارب ڈالر سے زائد ہے ،چین کابیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) اور اسکا فلیگ شپ منصوبہ سی پیک کنیٹیویٹی،کواپریٹو ڈویلپمنٹ اور باہمی معاشی انحصاریقینی بنائے گا،اس سے پورے خطے میں امن اور ہم آہنگی، شریک ممالک کے درمیان ثقافتی اور سیاسی انضمام کی طرف بڑھیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سڑکیں ، ریل کا نظام، سمندری بندرگاہیں ، تیل اور گیس پائپ لائنز ، آپٹکل فائبر بچھانے ، خصوصی اقتصادی زون ، سرحد پار تجارت اور تعاون کے مراکز ، اور آزاد تجارتی معاہدے شامل ہیں۔اس کا مقصد جنوبی مشرقی ایشیاء ، جنوبی ایشیاء ، وسطی اور مغربی ایشیاء ، مشرق وسطی ، یورپ اور افریقہ کے 65 ممالک سے تعلق رکھنے والی دنیا کی تقریبا 63 فیصد آبادی کے خوشحال مستقبل کے لئے بہتر معاشی روابط قائم کرنا ہے، سی پیک جیواکنامک لینڈ سکیپ کو نئی شکل دے رہا ہے اور یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لئے گیم چینجر ہے ، جو مشترکہ ترقی کے تصور پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق سی پیک سڑکوں اور پلوں کے ٹول کی مد میں 6 تا8 بلین سالانہ اکٹھا کرنے میں معاون ثابت ہو گا، سڑک کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں تخمینہ ہے کہ 51،000 ملازمتیں پیدا ہوں گی ، جن میں سے 94فیصد پاکستانیوں کے لئے ہیں، پاکستان اور چین کے مشترکہ منصوبہ(جوئنٹ وینچر ) کے تحت 1.2 ملین ملازمت کے مواقع پیداہوں گے ، جن میں سے 33٪ سے زیادہ خصوصی طور پر پاکستانی شہریوں کے لئے ہوں گے۔ وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے شعبوں کے زیادہ تر منصوبے کامیابی سے آگے بڑھے ہیں، بہت سے منصوبے عمل درآمد کے مرحلے میں ہیں،صنعت کاری ، زراعت کو جدید بنانا اور سماجی و اقتصادی ترقی پر توجہ دینے کے ساتھ اب دوسرے مرحلے (2021-2025) کے منصوبے تیار ہو چکے ہیں، مقصد یہ ہے کہ پہلے مرحلے میں کی گئی سرمایہ کاری سے استفادہ حاصل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ رشکئی (کے پی کے) ، علامہ اقبال صنعتی شہر (پنجاب) اور دھابیجی (سندھ) میں خصوصی اقتصادی زون کی ترقی ترجیحی فہرست میں ہے اور رواں سال کے دوران کام شروع ہوگا،اس کے علاوہ ، 1124 میگاواٹ کوہالا (ایچ پی پی ) اور مین لائن ون 1 (ML-1) کے اسٹریٹجک منصوبے بھی دوسرے مرحلے کا حصہ ہیں ،ایم ایل ون منصوبہ لاجسٹک صنعت کو مزید ترقی دے گا، زراعت اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے مشترکہ ورکنگ گروپس (جے ڈبلیو جی) قائم کیے جارہے ہیں جو توانائی ، انفراسٹرکچر ، صنعتی تعاون وغیرہ کے شعبے میں موجودہ جے ڈبلیو جی کے لئے معاون ثابت ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی میڈیا کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے سی پیک مخالف پروپیگنڈا کوناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور اس منصوبے کی قومی ملکیت کے تصور کو فروغ دینے میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔