یورپی رہنما8 مئی 2021کو اپنے بھارتی ہم منصبوں کے ساتھ سربراہ اجلاس میں بھارت میں صحت کے حق سمیت انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو ترجیح دیں ، ایچ آر ڈبلیو

اسلام آباد۔4مئی (اے پی پی):انسانی حقوق کے ممتاز ادارے ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے اس امر پر زوردیا ہے کہ یورپی رہنما8 مئی 2021کو اپنے بھارتی ہم منصبوں کے ساتھ سربراہ اجلاس میں بھارت میں صحت کے حق سمیت انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو ترجیح دیں، بھارتی حکومت پر زور دینا چاہئے کہ وہ انسانی حقوق کے محافظوں، صحافیوں اور دیگر ناقدین کو فوری رہا کرے، ا ستبدادی قوانین کو ختم کیا جائے اور جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی جوابدہی کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔ کووڈ۔19 بحران نے بھارت میں انسانی حقوق کے بڑھتے ہوئے خدشات کو اجاگر کیا ہے، وبا سے نبرد آزما ہونے کے حوالہ سے بھہ بھارتی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے اور اس نے ت نے سوشل میڈیا مواد سمیت آزادی اظہار پر قدغن لگانے کی کوشش کی ہے۔

ایک بیان میں انسانی حقوق کے ممتاز ادارے ”ہیومن رائٹس واچ” (ایچ آر ڈبلیو) نے کہا کہ یورپی رہنمائوں کو 8 مئی 2021ء کو اپنے بھارتی ہم منصبوں کے ساتھ سربراہ اجلاس میں بھارت میں صحت کے حق سمیت انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو ترجیح دینی چاہئے۔ ایچ آر ڈبلیو نے 8 عالمی انسانی حقوق تنظیموں کے بیان کا حوالہ دیا جنہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یورپ کو بھارت میں کورونا کی وبا سے نمٹنے میں مدد کرنے کے ساتھ ساتھ بھارتی حکومت پر یہ بھی زور دینا چاہئے کہ وہ اپنی استبدادی اور امتیازی پالیسیوں کو ختم کرے اور فوری طور پر انسانی حقوق کے تمام محافظوں اور دیگر ناقدین کو فوری رہا کرے جنہیں آزادی اظہار اور پرامن اجتماع کے حقوق کو استعمال کرنے پر جیلوں میں بند کیا گیا ہے۔

ان تنظیموں میں ایمنسٹی انٹرنیشنل، کرسچین سالیڈیریٹی ورلڈ وائیڈ، فرنٹ لائن ڈیفنڈرز، ہیومن رائٹس واچ، انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹ، انٹرنیشنل دلت سالیڈیریٹی نیٹ ورک، انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس اور ورلڈ آرگنائزیشن اگیناسٹ ٹارچر شامل ہیں۔ ایچ آر ڈبلیو نے کہا کہ کووڈ۔19 بحران نے بھارت میں انسانی حقوق کے بڑھتے ہوئے خدشات کو بھی اجاگر کیا ہے، وبا سے نبرد آزما ہونے کے حوالہ سے شدید تنقید کا سامنا کرتے ہوئے بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا مواد سمیت آزادی اظہار پر قدغن لگانے کی کوشش کی ہے۔ بھارتی حکومت نے سیاسی قیدیوں اور ناقدین سمیت ناکافی ثبوت کی بنیاد پر حراست میں لئے جانے والے تمام افراد کو رہا کرنے کے حوالہ سے اقوم متحدہ ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطالبہ کو بھی نظر انداز کیا۔

اس کے برعکس ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت میں حکومت نے انسانی حقوق کے محافظوں، صحافیوں، پرامن مظاہرین اور دیگر ناقدین کو انسداد دہشت گردی اور دیگر خوفناک قوانین کے تحت ہراساں کیا اور دانستہ طور پر گرفتار کیا ہے۔ حکام نے فروری 2020ء میں نئی دہلی میں فرقہ وارانہ تشدد اور جنوری 2018ء میں مہاراشٹرا ریاست میں بھیما کوری گائوں میں ذات پات کی بنیاد پر تشدد کے الزام میں انسانی حقوق کے کئی کارکنوں، سرگرم طالب علموں، ماہرین تعلیم، اپوزیشن رہنمائوں کو جیل میں قید کیا گیا، دونوں کیسز میں بی جے پی کے حامی تشدد میں ملوث پائے، پولیس نے ان کیسز میں تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے تفتیش کی جس کا مقصد مخالفین کو خاموش کرانا اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف آئندہ کے مظاہروں سے باز رکھنا تھا۔ حکومت نے غیر ملکی فنڈنگ قوانین اور دیگر ضابطوں کو سول سوسائٹی پر کریک ڈائون کیلئے استعمال کیا۔ ستمبر 2020ء میں ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کو انسانی حقوق کا کام کرنے کی پاداش میں اس کے بینک اکائونٹس منجمد کرتے ہوئے بھارتی حکومت کی طرف سے ملک میں کام بند کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔

بھارتی حکومت نے اقلیتوں کے خلاف بھی امتیازی قوانین اور پالیسیاں نافذ کیں، مسلم اور دلت کمیونٹیز کے خلاف حملے بڑھ رہے ہیں جبکہ حکام بی جے پی رہنمائوں کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے سے قاصر ہیں جو اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ بھارتی حکومت نے اگست 2019ء میں مقبوضہ جموں و کشمیر ریاست کی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد سے مقبوضہ ریاست میں مسلم اکثریتی علاقوں میں سخت اور امتیازی پابندیوں عائد کر رکھی ہیں۔ حکام نے اکتوبر میں مقبوضہ کشمیر اور دہلی میں کئی غیر سرکاری تنظیموں پر انسداد دہشت گردی چھاپے مارے اور سرینگر میں ایک اخبار کے دفتر کو بھی زیر عتاب لایا گیا۔

بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے دور میں ملک کا انسانی حقوق کا ریکارڈ نمایاں طور پر زوال پذیر ہوا ہے۔ جنوری 2020ء میں شدید بیرونی دبائو کے تناظر میں یورپی پارلیمنٹ نے بھارت کے امتیازی سٹیزن شپ لاء اور دیگر سرگرمیوں کی مذمت کی قرارداد کی منظوری غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی تاہم یورپی یونین پارلیمنٹ نے ای یو۔انڈیا تعلقات کے بارے میں ایک سفارش منظور کی جس میں بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور یورپی رہنمائوں پر زور دیا گیا کہ وہ آئندہ سربراہ اجلاس کو ایک پلیٹ فارم کے طور پر بروئے کار لائیں تاکہ اس حوالہ سے پیغامات اعلیٰ سطح تک پہنچائے جا سکیں۔

ان تنظیموں نے کہا کہ یورپی رہنمائوں کو سربراہ اجلاس میں خدشات اٹھانے چاہئیں۔ یورپی رہنمائوں کو بھارتی حکومت پر زور دینا چاہئے کہ وہ فوری طور پر انسانی حقوق کے تمام محافظوں، صحافیوں اور دیگر ناقدین کو رہا کرے جبکہ اسبتدادی قوانین کو ختم کیا جائے یا ان میں ترامیم کی جائے جو مخالفین کی آواز کو دبانے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں، اقلیتوں کے خلاف امتیازی ہیں یا جن کے ذریعے غیر سرکاری تنظیموں کو بے جا طور پر ہدف بنایا جاتا ہے یا پھر آزادی اظہار کے حق کو دبانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی جوابدہی کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔