عالمی اقتصادی فورم کی چیف اکانومسٹ آئوٹ لک رپورٹ
آئندہ سال بین الاقوامی تجارت ، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے،عالمی اقتصادی فورم کی چیف اکانومسٹ آئوٹ لک رپورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔9اکتوبر (اے پی پی):بین الاقوامی ماہرین معاشیات نے کہا ہے کہ آئندہ سال عالمی معاشی حالات کمزور پڑ جائیں گے، جغرافیائی سیاسی تنازعات غیر یقینی صورتحال کی بڑی وجہ ہیں تاہم بین الاقوامی تجارت اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔ عالمی اقتصادی فورم(ڈبلیو ای ایف)نے ماہرین معاشیات کی آرا پر مبنی اپنی تجزیاتی رپورٹ ’’چیف اکانومسٹ آئوٹ لک‘‘ میں عالمی سطح پر معاشی استحکام کے حوالہ سے کہا ہے کہ 45 فیصد ماہرینِ معاشیات نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ آئندہ سال عالمی معاشی حالات کمزور پڑ جائیں گےدوسری جانب مئی میں یہ شرح 89 فیصد تھی۔اقتصادی ماہرین کے مطابق صورتحال اب بھی غیر مستحکم ہے ، جغرافیائی سیاسی تنازعات، عوامی مالیات پر دباؤ اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں سب سے بڑے خدشات میں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 97 فیصد ماہرینِ معاشیات نے جغرافیائی سیاسی تنازعات کو غیر یقینی صورتحال کی بڑی وجہ قرار دیا ہے جبکہ صرف 25 فیصد نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ آئندہ سال عالمی معیشت زیادہ مستحکم ہو گی۔رہن سہن کی لاگت کے حوالہ سے 88 فیصد ماہرین اقتصادیات نے خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے خدشہ کا اظہار کیا ہے جبکہ بجلی کی قیمت میں 83 فیصد اور 77 فیصد ماہرین معاشیات نے نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ کی رائے دی ہے ۔ مزید برآں حقیقی آمدنی یعنی افراطِ زر کے تناسب سے ایڈجسٹ کی گئی اجرتوں کے جمود کا شکار رہنے یا کم ہونے کا امکان بھی ہے۔اسی طرح 97 فیصد ماہرین معاشیات نے مصنوعی ذہانت کے استعمال میں اضافہ کی توقع ظاہر کی ہے اور 69 فیصد نے مصنوعی ذہانت سے پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ کی پیش گوئی کی ہے۔
چیف اکانومسٹ آئوٹ لک کے مطابق دنیا بھر کے 79 فیصد ماہرین معاشیات نے ڈیٹا سینٹرز کی توسیع کے حوالہ سے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ ان اقدامات کو مقامی برادریوں کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ماہرین نے جنوب مشرقی ایشیا کے معاشی امکانات کے سب سے زیادہ استحکام کی توقع بھی ظاہر کی ہے۔ دوسری جانب 61 فیصد ماہرین معاشیات نے کہا ہے کہ یورپ میں کمزور یا انتہائی کمزور معاشی نمو متوقع ہے۔تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالہ سے دو تہائی ماہرین نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام تر حالات کے باوجود عالمی تجارتی حجم میں اضافے کی توقع ہے اور 56 فیصد نے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کی امید ظاہر کی ہے۔








