وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے 9 اکتوبر کے بعد تیار ہونے والی ادویات پر 2D بارکوڈ لازمی قرار دینے کا اعلان کیا ہےجس کے ذریعے شہری موبائل ایپلی کیشن کی مدد سے ادویات کی اصلیت، قیمت اورمیعاد ختم ہونے کی تاریخ کی تصدیق کر سکیں گےجبکہ اس اقدام کا مقصد جعلی ادویات کی گردش کو روکنا بھی ہے
ادویات کی اصلیت، قیمت اور میعاد ختم ہونے کی تاریخ کی تصدیق کے لیے 2D بارکوڈ لازمی قرار

مزید خبریں
اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے 9 اکتوبر کے بعد تیار ہونے والی ادویات پر 2D بارکوڈ لازمی قرار دینے کا اعلان کیا ہےجس کے ذریعے شہری موبائل ایپلی کیشن کی مدد سے ادویات کی اصلیت، قیمت اورمیعاد ختم ہونے کی تاریخ کی تصدیق کر سکیں گےجبکہ اس اقدام کا مقصد جعلی ادویات کی گردش کو روکنا بھی ہے۔اس اقدام کا جائزہ وفاقی وزیر صحت کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں لیا گیا جس میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کے چیف ایگزیکٹو افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران وزیر صحت کو ادویات کی نگرانی اور ان کی ترسیل کے نظام کو مضبوط بنانے اور جعلی مصنوعات کی گردش روکنے کے لیے 2D بارکوڈ اورسیریلائزیشن سسٹم کے آزمائشی مرحلے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزارت قومی صحت، ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن ملک سے جعلی ادویات کے خاتمے اور محفوظ و مستند ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے شہری ادویات کی اصلیت، قیمت اور میعاد ختم ہونے کی تاریخ کی تصدیق کر سکیں گے، جس سے انہیں باخبر فیصلے کرنے اور ممکنہ طور پر جعلی یا زائد المیعاد ادویات کی نشاندہی میں مدد ملے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ادویات کی نگرانی اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے اس نظام کا دائرہ درآمد شدہ، ویٹرنری اور پولٹری ادویات تک بھی بڑھایا جائے گا۔







