اسرائیل فلسطینیوں پر تشدد کے الزامات کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ۔29نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی انسداد تشدد کمیٹی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل فلسطین تنازع کے تناظر میں تشدد کے تمام الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے ۔ العربیہ کے مطابق اقوام متحدہ کی کمیٹی نے ایک بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ موجودہ مسلح تنازع کے دوران کیے گئے تشدد اور بدسلوکی کے تمام الزامات کا جائزہ لینے …

اقوام متحدہ۔29نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی انسداد تشدد کمیٹی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل فلسطین تنازع کے تناظر میں تشدد کے تمام الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے ۔ العربیہ کے مطابق اقوام متحدہ کی کمیٹی نے ایک بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ موجودہ مسلح تنازع کے دوران کیے گئے تشدد اور بدسلوکی کے تمام الزامات کا جائزہ لینے اور تحقیقات کرنے کے لیے ایک ماہر، آزاد، غیر جانبدار اور مؤثر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے تاکہ سینئر افسروں سمیت ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔

کمیٹی نے فلسطینی عسکری تنظیم اور دیگر دھڑوں کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل کے خلاف حملے کی دو ٹوک الفاظ میں مذمت کی۔ ساتھ ہی ان حملوں پر اسرائیلی ردعمل کی غیر متناسب نوعیت پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ نومبر کے وسط میں اسرائیل کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی کے مقرر کردہ نمائندے پیٹر فیڈیل کیسنگ نے نشاندہی کی تھی کہ کمیٹی کے ارکان متعدد ذرائع سے موصول ہونے والی بڑی تعداد میں رپورٹس میں درج تفصیلات پر سخت پریشان ہیں۔

یہ رپورٹس اسرائیلی جیلوں میں بچوں اور کمزور گروہوں سمیت فلسطینیوں کے خلاف منظم اور وسیع پیمانے پر تشدد اور بدسلوکی کی نشاندہی کرتی ہیں۔اقوام متحدہ کے اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کی رپورٹوں میں تشدد کے ثبوت شامل ہیں۔ شدید مار پیٹ، جنسی اعضاء پر ضربیں، بجلی کے جھٹکے، طویل عرصے تک دباؤ والی پوزیشنوں میں رہنے پر مجبور کرنے، جان بوجھ کر غیر انسانی حالات اور بھوکا رکھنے ، پانی میں ڈبونے اور بڑے پیمانے پر جنسی توہین اور زیادتی کی دھمکیاں دینے جیسے مظالم کا انکشاف کیا گیا ہے۔

کمیٹی نے مغربی کنارے کے علاقوں میں یہودی آباد کاروں کے تشدد اور انتظامی حراست کے استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ اقدامات غیر معمولی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔کمیٹی نے پوچھ گچھ کے دوران مجبوری کے طریقے کے طور پر غیر اعلانیہ "خصوصی ذرائع” کے مسلسل استعمال کی اجازت پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

اس سلسلے میں کمیٹی نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ تشدد کے لیے ایک الگ فوجداری جرم بنائے جس کی تعریف کنونشن کے مطابق ہو اور استعمال کیے جانے والے "خصوصی ذرائع” کی نوعیت کے بارے میں درست معلومات فراہم کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ تشدد یا بدسلوکی کو جواز فراہم کرنے کے لیے کسی بھی غیر معمولی حالات کا سہارا نہ لیا جائے۔

نومبر کے وسط میں کمیٹی کے سامنے اپنے جواب میں اسرائیلی وفد کے شریک سربراہ اور اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینیئل میرون نے اپنے ملک کے خلاف لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا اور زور دیا تھا کہ اسرائیل اپنی اقدار اور اخلاقی اصولوں کے مطابق اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

 

مزید خبریں