اسلامک یونیورسٹی ریکٹر تقرری کیس، آئینی مقدمات میں دائرہ اختیار پر بحث، سماعت ملتوی

اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت میں اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر کی تقرری سے متعلق کیس کی سماعت پیر کو ہوئی ۔ سماعت کے دوران یونیورسٹی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلامک یونیورسٹی کے ریکٹر کا عہدہ اس وقت خالی ہے کیونکہ چیئرمین ہائر ایجوکیشن، جنہیں عبوری ریکٹر کا اضافی چارج دیا گیا تھا، اپنے عہدے سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ریکٹر …

اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت میں اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر کی تقرری سے متعلق کیس کی سماعت پیر کو ہوئی ۔ سماعت کے دوران یونیورسٹی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلامک یونیورسٹی کے ریکٹر کا عہدہ اس وقت خالی ہے کیونکہ چیئرمین ہائر ایجوکیشن، جنہیں عبوری ریکٹر کا اضافی چارج دیا گیا تھا، اپنے عہدے سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ریکٹر کی مستقل تقرری کا اختیار بطور چانسلر صدرِ پاکستان کو حاصل ہے۔

انہوں نے مزید مؤقف اپنایا کہ عدالت کے پاس اس معاملے میں انٹرا کورٹ اپیلوں کی سماعت کا اختیار نہیں، کیونکہ یہ اپیلیں پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت دائر کی گئی تھیں۔چیف جسٹس امین الدین خان نے وکیل سے استفسار کیا کہ آئینی عدالت کے اختیارِ سماعت پر ان کا اعتراض کس بنیاد پر ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ آرٹیکل 184(3) کو 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ختم کر دیا گیا ہے، جس کے باعث اس نوعیت کی اپیلوں کا فورم تبدیل ہو چکا ہے۔

یونیورسٹی کے وکیل نے مزید کہا کہ یہ اپیلیں 27ویں ترمیم سے قبل دائر کی گئی تھیں۔ جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی اعتراض ہے تو دائرہ سماعت سے متعلق الگ درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔عدالت نے فریقین کے مؤقف سننے کے بعد کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

مزید خبریں