قومی اسمبلی کوبتایاگیاہے کہ وفاقی دارالحکومت میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نظام کو مستقل بنیادوں پر بہتر بنانے کے لئے اقدامات جاری ہیں، آئی نائن میں سالڈ ویسٹ ڈپو کی تعمیر آئندہ دو سے تین ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے، روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 700 میٹرک ٹن سالڈ ویسٹ منتقل کیا جا رہا ہے
اسلام آباد میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نظام کو مستقل بنیادوں پر بہتر بنانے کیلئے اقدامات جاری ہیں، طارق فضل چوہدری او ر طلال چوہدری کاقومی اسمبلی میں توجہ مبذول نوٹس پرجواب

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کوبتایاگیاہے کہ وفاقی دارالحکومت میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نظام کو مستقل بنیادوں پر بہتر بنانے کے لئے اقدامات جاری ہیں، آئی نائن میں سالڈ ویسٹ ڈپو کی تعمیر آئندہ دو سے تین ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے، روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 700 میٹرک ٹن سالڈ ویسٹ منتقل کیا جا رہا ہے، اسلام آباد سے روزانہ جمع ہونے والے کچرے کی مقدار تقریباً 300 میٹرک ٹن ہے۔ پیرکو قومی اسمبلی میں سی ڈی اے کی جانب سے سیکٹرآئی ٹین اورآئی الیون کے درمیان کوڑاکرکٹ کوٹھکانے لگانے کے نتیجہ میں پیداہونے والی ماحولیاتی بدبو،زیرزمین پانی آلودہ ہونے کے امکان اور صحت عامہ کولاحق سنگین خطرات کے حوالہ سے آسیہ نازتنولی کے توجہ مبذول نوٹس پر پارلیمانی امورکے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اوروزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ اسلام آباد میں صفائی ستھرائی کے نظام کو مزید موثر بنانے کے لئے اقدامات جاری ہیں۔ڈاکٹرطارق فضل چوہدری نے بتایا کہ اسلام آباد کے شہری اور دیہی علاقوں میں صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر بنانے اور ماحول کو آلودگی سے پاک رکھنے کے لئے اقدامات جاری ہیں جبکہ راولپنڈی کے ضلع میں چک بیلی روڈ پر ٹھوس فضلے کو ٹھکانے لگانے کے لئے مستقل ڈمپنگ گرائونڈ حاصل کر لیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ٹھوس فضلے کے انتظام کے لئے جامع نظام موجود ہے تاہم ماضی میں دیہی علاقوں میں میونسپل کارپوریشن اسلام آباد کے تحت یہ نظام معطل رہا جبکہ سی ڈی اے بھی وہاں موثر انتظامی نظام قائم نہیں کر سکا ، ماضی میں ٹھوس فضلے کے انتظام کا کام مختلف کمپنیوں کو آئوٹ سورس بھی کیا جاتا رہا ہے، اسلام آباد کے شہری علاقوں میں صفائی ستھرائی اور ٹھوس فضلے کے انتظام کی ذمہ داری بنیادی طور پر سی ڈی اے کے ملازمین انجام دیتے ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں یہ کام آئوٹ سورس کیا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ سیکٹرز آئی 10 اور آئی 11 میں صفائی ستھرائی اور ٹھوس فضلے کے انتظام کی ذمہ داری سی ڈی اے کے اپنے ملازمین انجام دے رہے ہیں جبکہ ادارہ جدید مشینری بھی حاصل کر چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو صاف ستھرا رکھنا اور ماحول کو آلودگی سے پاک بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اس حوالے سے وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے بھی واضح ہدایات دے رکھی ہیں ،اسلام آباد کے شہری اور دیہی علاقوں میں صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر بنانے اور دارالحکومت کے شایانِ شان ماحول یقینی بنانے کے لئے تیزی سے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایوان کوبتایا کہ وفاقی دارالحکومت میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نظام کو مستقل بنیادوں پر بہتر بنانے کے لئے اقدامات جاری ہیں جبکہ آئی نائن میں سالڈ ویسٹ ڈپو کی تعمیر آئندہ دو سے تین ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں ایک مقام پر بڑی مقدار میں سالڈ ویسٹ جمع ہوتا ہے جہاں سے راولپنڈی کے ساتھ معاہدے کے تحت کچرا مخصوص مقام پر منتقل کیا جاتا ہے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران بعض وجوہات کی بنا ء پر کچرے کی منتقلی نہیں ہو سکی تاہم اب روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 700 میٹرک ٹن سالڈ ویسٹ منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ اسلام آباد سے روزانہ جمع ہونے والے کچرے کی مقدار تقریبا 300 میٹرک ٹن ہے۔وزیرمملکت نے بتایا کہ آئی نائن میں سالڈ ویسٹ کے لئے مخصوص مقام پہلے ہی تیار کیا جا رہا ہے جو دو سے تین ماہ میں مکمل ہو جائے گا، اس کے بعد سالڈ ویسٹ ڈپو فعال ہو جائے گا اور موجودہ مقام پر کچرے کے جمع ہونے کا مسئلہ مستقل طور پر حل کرنے میں مدد ملے گی۔طلال چوہدری نے کہاکہ اسلام آباد کے پوش سیکٹرز بشمول ایف سکس، ایف سیون، ایف ایٹ، ایف نائن اور ایف ٹین میں سالڈ ویسٹ اٹھانے کی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں تاہم ان علاقوں کے رہائشی اس مد میں کوئی فیس ادا نہیں کرتے۔
اسلام آباد کے دیہی علاقوں خصوصاً زون تھری اور فور میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا ٹھیکہ ایک ترک کمپنی کو دیا جا چکا ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں شہری سیکٹرز کے لئے بھی شفاف طریقہ کار کے تحت قومی یا بین الاقوامی سطح کی اہل کمپنیوں کو ٹھیکے دیئے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نظام کو پائیدار بنانے کے لئے خدمات کی فراہمی کے عوض فیس وصول کرنے کا طریقہ کار بھی متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے تحت دیہی علاقوں کے لئے نسبتاً کم اور شہری سیکٹرز کے لئے زیادہ فیس مقرر کی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں پانی کی فراہمی کے لئے وصول کی جانے والی رقم انتہائی کم ہے اور اس کی ریکوری بھی محدود ہے، اس صورتحال میں شہری سہولیات کی بہتر فراہمی اور سالڈ ویسٹ کے مسئلے کے مستقل حل کے لئے موثر نظام اور مناسب فیسوں کا نفاذ ضروری ہے۔







