اسلام آباد میں عالمی معیار کا ایکسپو سینٹر، ماڈل صنعتی زون ناگزیر ہیں، صدر آئی سی سی آئی محمد زکریا اکبر ضیاء

اسلام آباد میں عالمی معیار کا ایکسپو سینٹر، ماڈل صنعتی زون ناگزیر ہیں، صدر آئی سی سی آئی محمد زکریا اکبر ضیاء

اسلام آباد۔3اکتوبر (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر محمد زکریا اکبر ضیاء نے اسلام آباد میں عالمی معیار کا ایکسپو سینٹر قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ذریعے پاکستان کی مصنوعات، برآمدی صلاحیت اور سرمایہ کاری کے مواقع کو عالمی برادری کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کو ایک جدید اور متحرک کاروباری مرکز کے طور پر ترقی دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ہفتہ کو اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی حکومت اور تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر اسلام آباد کو حقیقی معنوں میں ایک ماڈل کاروبار دوست شہر بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔ اپنی بھاری اکثریت سے کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس کے سر پر تاج ہوتا ہے، اس کی ذمہ داری بھی اتنی ہی بھاری ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کی جانب سے مجھ پر جس اعتماد اور عزت کا اظہار کیا گیا ہے وہ میرے لئے نہ صرف ایک بڑا اعزاز بلکہ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس اعتماد کو عملی کامیابیوں میں تبدیل کرنے اور کاروباری برادری کے لیے بامعنی نتائج حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میرا بنیادی مقصد تاجر و کاروباری برادری کی حقیقی معنوں میں خدمت کرنا، ان کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر آواز بلند کرنا اور آئی سی سی آئی کے کردار کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

زکریا ضیاء نے کہا کہ اسلام آباد میں ایک نئے اور جدید صنعتی علاقے کے قیام کی فوری ضرورت ہے کیونکہ موجودہ صنعتی علاقہ اپنی گنجائش پوری کر چکا ہے اور بڑھتی ہوئی کاروباری سرگرمیوں کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اور متعلقہ ادارے جدید بنیادی سہولیات، یوٹیلیٹیز اور ضروری انفراسٹرکچر سے آراستہ ایک ماڈل صنعتی علاقہ قائم کرنے کے لیے بھرپور تعاون کریں گے، جس سے صنعت کاری، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔کاروبار میں آسانی کے حوالے سے آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ چیمبر حکومت کو ایسی عملی تجاویز پیش کرے گا جن سے کاروباری اور سرمایہ کاری کے لیے حقیقی معنوں میں سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کو معیشت کی ترقی میں ایک شراکت دار سمجھا جانا چاہیے۔

انہوں نے پاکستان میں بین الاقوامی سیاحت، بالخصوص شمالی علاقہ جات کے وسیع امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس ایسے قدرتی اور خوبصورت مقامات موجود ہیں جو دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ حکومت کو دوست ممالک اور اہم سیاحتی منڈیوں کے سفارت خانوں کے ساتھ مل کر مربوط حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے اور انہیں ترغیب دینی چاہیے کہ وہ اپنے شہریوں کے سامنے پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی خوبصورتی، ثقافت، مہمان نوازی اور سیاحتی مواقع کو اجاگر کریں۔

اس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا بلکہ دور دراز علاقوں میں روزگار، کاروبار اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو محض پاکستان کا سیاسی دارالحکومت نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے کاروبار، نمائشوں، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تجارت کے ایک نمایاں مرکز کے طور پر بھی ابھرنا چاہیے۔

مزید خبریں