اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اسلام آباد گورننس اینڈ پروونشل اسٹیٹس کنونشن 2026 (کل) جمعہ 25 ستمبرکو منعقد کر رہا ہے جس میں وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے۔
اسلام آباد چیمبر کے زیر اہتمام گورننس اینڈ پروونشل اسٹیٹس کنونشن کا انعقاد (کل)ہو گا

مزید خبریں
اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اسلام آباد گورننس اینڈ پروونشل اسٹیٹس کنونشن 2026 (کل) جمعہ 25 ستمبرکو منعقد کر رہا ہے جس میں وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے۔ کنونشن میں معاشرے کے مختلف اہم طبقات کے نمائندگان شرکت کریں گے اور وفاقی دارالحکومت کے مستقبل کے انتظامی، آئینی اور حکومتی ڈھانچے کے حوالے سے جامع مشاورت کی جائے گی۔کنونشن میں کاروباری برادری، تجارتی تنظیموں، بار کونسلز، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں، پروفیشنل تنظیموں اور اسلام آباد کے شہریوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا جائے گا، جہاں وہ وفاقی دارالحکومت کو درپیش گورننس کے مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے ایک زیادہ مؤثر، نمائندہ، جوابدہ اور عوام دوست نظام کے لیے عملی تجاویز پیش کریں گے۔ سیاسی جماعتوں کے نمائندگان، متعلقہ اداروں اور مختلف شہری طبقات کے نمائندگان بھی کنونشن میں شرکت کریں گے تاکہ اسلام آباد کے مستقبل کے حوالے سے وسیع البنیاد مشاورت کو یقینی بنایا جا سکے۔جمعرات کو چیمبر ہاؤس میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا کہ 1960 میں اسلام آباد کے لیے موجودہ انتظامی نظام متعارف کرایا گیا تو وفاقی دارالحکومت ابھی ابتدائی مراحل میں تھا، تاہم آج اسلام آباد کی صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔ آبادی 25 لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے اور شہر کو انتظامی، معاشی، شہری ترقی اور عوامی سہولیات کے حوالے سے کہیں زیادہ بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گورننس میں اصلاحات کے ساتھ اسلام آباد کے لیے ایک واضح اور شفاف مالیاتی نظام بھی ضروری ہے۔ اسلام آباد مختلف ٹیکسز، فیسوں اور معاشی سرگرمیوں کے ذریعے نمایاں آمدن پیدا کرتا ہے، تاہم دارالحکومت کے مالی معاملات کے لیے ایسا واضح قانونی اور مالیاتی فارمولہ ہونا چاہیے جو اس کی آبادی، انتظامی ذمہ داریوں، عوامی خدمات اور ترقیاتی ضروریات کو مدنظر رکھے۔آئی سی سی آئی صدر نے کہا کہ اسلام آباد کے لیے مختلف گورننس ماڈلز اور قانونی تجاویز زیر بحث ہیں، تاہم ایسے کسی بھی انتظام کے حوالے سے فیصلہ کرتے وقت ان لوگوں اور اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا ضروری ہے جو اسلام آباد میں رہتے، کاروبار کرتے اور سرمایہ کاری کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کا مستقبل، اسلام آباد کو اعتماد میں لیے بغیر طے نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے واضح کیا کہ کنونشن کا مقصد تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا، ان کی آراء سننا، اتفاق اور اختلاف کے نکات کو سامنے لانا اور کسی پیشگی فیصلے کے بجائے مستقبل کے لیے قابلِ عمل سفارشات مرتب کرنا ہے۔سردار طاہر محمود نے واضح کیا کہ آئی سی سی آئی ایک غیر سیاسی پلیٹ فارم ہے اور کنونشن کا مقصد کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کرنا اور نہ ہی کسی مخصوص گورننس ماڈل کی وکالت کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز ایک میز پر بیٹھیں، ایک دوسرے کا مؤقف سنیں اور اسلام آباد کے مستقبل کی گورننس کے لیے ایک بامعنی روڈ میپ کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ یہ کنونشن کسی ایک فرد یا گروپ کی کاوش نہیں بلکہ اسلام آباد کے مختلف اسٹیک ہولڈرز کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کی اجتماعی کوشش ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ حلقوں پر زور دیا کہ وہ تعمیری انداز میں شرکت کریں اور ایسی عملی، قابلِ عمل اور متفقہ سفارشات پیش کریں جو اسلام آباد کے شہریوں کی ضروریات اور جدید وفاقی دارالحکومت کے تقاضوں سے ہم آہنگ گورننس فریم ورک کی تشکیل میں معاون ثابت ہوں۔سردار طاہر محمود نے امید ظاہر کی کہ کنونشن اسلام آباد کی گورننس کے حوالے سے ایک مسلسل اور منظم مکالمے کا نقطۂ آغاز ثابت ہوگا اور وفاقی دارالحکومت کے لیے ایسا نظام وضع کرنے کی راہ ہموار کرے گا جو عوام کی ضروریات، شہریوں کی امنگوں اور جدید دارالحکومت کے تقاضوں کو مؤثر انداز میں پورا کر سکے۔








