اعتماد میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ اور پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت میں عالمی رفتار کے مطابق آگے بڑھانے کیلئے ریگولیٹری اداروں کی مضبوطی ضروری ہے،وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ اعتماد میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ اور پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت میں عالمی رفتار کے مطابق آگے بڑھانے کے لیے ریگولیٹری اداروں کی مضبوطی ضروری ہے۔انہوں نے یہ بات جمعرات کویہاں پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے دورے کے دوران کہی۔ اس موقع پر وزیر خزانہ کو ملک کے پہلے ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری فریم …

اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ اعتماد میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ اور پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت میں عالمی رفتار کے مطابق آگے بڑھانے کے لیے ریگولیٹری اداروں کی مضبوطی ضروری ہے۔انہوں نے یہ بات جمعرات کویہاں پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے دورے کے دوران کہی۔ اس موقع پر وزیر خزانہ کو ملک کے پہلے ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری فریم ورک کی تشکیل سے متعلق اتھارٹی کی جاری پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔

پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی سینئر قیادت نے اتھارٹی کے مینڈیٹ، پالیسی سمت اور ورچوئل ایسٹس کے لیے جامع گورننس ڈھانچے کی تشکیل میں ہونے والی پیش رفت پر مبنی تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ بریفنگ میں اتھارٹی کے مرحلہ وار طریقہ کار کا احاطہ کیا گیا جس کا مقصد اس شعبے میں ریگولیشن کو پاکستان کی قومی ترجیحات کے مطابق رکھنا، صارفین کا تحفظ یقینی بنانا اور مالی استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔

وزیر خزانہ کو اتھارٹی کے مقامی اور بین الاقوامی شراکت داروں سے ہونے والی مشاورت، ریگولیٹری گائیڈ لائنز کی تیاری اور ان اقدامات سے آگاہ کیا گیا جو یہ یقینی بنانے کے لئے کیے جا رہے ہیں کہ پاکستان ورچوئل ایسٹس کے ایک واضح اور شفاف نظام کی طرف بڑھے جبکہ تمام قانونی و طریقہ کار کی پابندی بھی برقرار رہے۔وزیر خزانہ نے قیام کے بعد سے پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا اور اس اہم قومی مینڈیٹ کو آگے بڑھانے کے لیے ان کی وابستگی کو قابل تحسین قرار دیا۔

انہوں نے بروقت عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان کے اقتصادی اور مالی مفادات کے تحفظ کے لیے ریگولیٹری وضاحتیں نہایت اہم ہیں۔ وزیر خزانہ نے اپنے دفتر کو اتھارٹی کو درپیش کسی بھی انتظامی مسئلے یا طریقہ کار میں رکاوٹ کو فوری طور پر حل کرنے کی ہدایت کی اور حکومت کی جانب سے پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے کام کی مکمل سرپرستی کی توثیق کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریگولیٹری اداروں کی مضبوطی اعتماد میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ اور پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت میں عالمی رفتار کے مطابق آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے۔

پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے اس موقع پر کہا کہ یہ ایک اہم قومی مینڈیٹ ہے اور ہم اسے آغاز سے ہی پاکستان فرسٹ نقطہ نظر کے ساتھ تعمیر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اتھارٹی ذمہ دارانہ جدت، مضبوط حفاظتی اقدامات اور ریگولیٹری کلیریٹی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ وزیر خزانہ کی رہنمائی اور تعاون سے ہمارے کام کی رفتار تیز ہوگی اور پاکستان کو ارتقا پذیر ڈیجیٹل معیشت میں ذمہ دارانہ مقام دلانے میں مدد ملے گی۔

ورچوئل ایسٹس کے شعبے میں پاکستان کی عالمی سطح پر پوزیشن کو مضبوط بنانے والی ایک اہم پیش رفت یہ ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین اب ورلڈ اکنامک فورم کی ڈیجیٹل ایسٹ ریگولیشنز سٹیئرنگ کمیٹی کا حصہ بن گئے ہیں۔

اس شمولیت سے نہ صرف عالمی پالیسی مباحثوں میں پاکستان کی موجودگی مضبوط ہوئی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل ایسٹ گورننس کے عالمی مکالمے میں پاکستان کے کردار کو بڑھتی ہوئی پذیرائی مل رہی ہے۔ فریقین نے اس عزم کااعادہ کیاکہ حکومت ذمہ دارانہ جدت، ادارہ جاتی مضبوطی اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ ورچوئل ایسٹس کے حوالے سے پاکستان کا نقطہ نظر شفاف، محفوظ اور قومی قوانین اور بین الاقوامی بہترین طریقوں کے مکمل مطابق رہے۔

مزید خبریں