افغان طالبان کی سرپرستی میں فتنہ الخوارج کے دہشت گرد عزائم عالمی سطح پر بے نقاب، ڈنمارک اور روس نے مذموم عزائم سے عالمی برادری کو خبردار کر دیا

اسلام آباد۔22نومبر (اے پی پی):افغان طالبان کی سرپرستی میں فتنہ الخوارج کے دہشت گرد عزائم عالمی سطح پر بے نقاب ہو گئے ،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ڈنمارک اور روس نے فتنہ الخوارج کے مذموم عزائم سے عالمی برادری کو خبردار کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ اجلاس میں ڈنمارک اور روس نے وسطی اور جنوبی ایشیا میں فتنہ الخوارج کو سنگین خطرہ قرار دیکر پاکستانی …

اسلام آباد۔22نومبر (اے پی پی):افغان طالبان کی سرپرستی میں فتنہ الخوارج کے دہشت گرد عزائم عالمی سطح پر بے نقاب ہو گئے ،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ڈنمارک اور روس نے فتنہ الخوارج کے مذموم عزائم سے عالمی برادری کو خبردار کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ اجلاس میں ڈنمارک اور روس نے وسطی اور جنوبی ایشیا میں فتنہ الخوارج کو سنگین خطرہ قرار دیکر پاکستانی موقف پر مہر ثبت کردی۔

اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب ، واسیلی نیبینزیا نے کہا کہ افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی سے پڑوسی ممالک میں عدم استحکام کے خدشات بڑھ گئے، افغانستان سے دہشت گردی وسطی ایشیا اور اس سے آگے بھی پھیلنے کا واضح خطرہ موجود ہے۔

انہوں نے کہاکہ خراسان صوبے میں داعش تیزی سے سرگرم اور خطرناک ہو رہی ہے، افغانستان مغربی افواج کے انخلا کے بعد چھوڑے گئے ہتھیاروں کا فائدہ اٹھا رہا ہے، دہشت گرد گروہ جدید ٹیکنالوجیز استعمال کر کے ناپاک عزائم پورے کر رہے ہیں،اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دہشتگردوں سے وابستہ سینکڑوں گروہ افغانستان میں سرگرم ہیں۔

ڈنمارک کی مستقل مندوب ، کرسٹینا مارکس لاسن نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی ( فتنہ الخوارج) کو عملی اور خاطرخواہ معاونت افغان حکومت نما حکام کی جانب سے مل رہی ہے،افغانستان میں تقریباً 6 ہزار ٹی ٹی پی دہشتگرد موجود ہیں جو پاکستان پر افغان زمین سے بڑے حملوں کے ذمہ دار ہیں، افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ صرف پاکستان نہیں بلکہ خطہ کے امن و استحکام اور سلامتی کیلئے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔

 

مزید خبریں