اقوامِ متحدہ کا رکن ممالک پربین الاقوامی قانون کےاحترام پر زور

اقوام متحدہ ۔27جنوری (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتونیو گوتریش نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مکمل احترام کے عزم کی ازسرِنو تجدید کریں، کیونکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے قانون کی حکمرانی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔شنہوا کے مطابق سلامتی کونسل میں بین الاقوامی قانون کی حکمرانی سے متعلق کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریش نے کہا …

اقوام متحدہ ۔27جنوری (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتونیو گوتریش نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مکمل احترام کے عزم کی ازسرِنو تجدید کریں، کیونکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے قانون کی حکمرانی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔شنہوا کے مطابق سلامتی کونسل میں بین الاقوامی قانون کی حکمرانی سے متعلق کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریش نے کہا کہ قانون کی حکمرانی عالمی امن و سلامتی کا سنگِ بنیاد، ممالک اور خطوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کی کلید اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی روح ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 80 برسوں میں اسی نظام نے انسانیت کو تیسری عالمی جنگ سے بچانے اور بے شمار چھوٹے تنازعات میں جانی نقصان کم کرنے میں مدد دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کا چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے دیگر معاہدے ایک مضبوط اور لچکدار اجتماعی سلامتی کے نظام کی بنیاد فراہم کرتے ہیں، جو طاقت کے استعمال یا دھمکی سے روکتا ہے اور بڑے و چھوٹے تمام ممالک کو یکساں قوانین کا پابند بناتا ہے، جبکہ ریاستوں کی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کا احترام یقینی بناتا ہے۔سیکرٹر ی جنرل کے مطابق کمزور اور چھوٹے ممالک، نیز وہ ریاستیں جو تاریخی ناانصافیوں اور نوآبادیاتی ورثے کے منفی اثرات کا شکار رہی ہیں، ان کے لیے بین الاقوامی قانون ایک سہارا ہے جو مساوی سلوک، خودمختاری، وقار اور انصاف کی ضمانت دیتا ہے۔ جبکہ طاقتور ممالک کے لیے یہ ایک حد مقرر کرتا ہے کہ اختلاف اور تنازع کے دوران کیا قابلِ قبول ہے اور کیا نہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں قانون کی حکمرانی کی جگہ ’’جنگل کے قانون‘‘ نے لینا شروع کر دی ہے، جہاں بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے غیرقانونی طاقت کے استعمال، شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے، انسانی حقوق کی پامالی، غیرقانونی جوہری پروگراموں، غیرآئینی حکومتی تبدیلیوں اور انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹوں کو خطرناک رجحانات قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی خلاف ورزیاں خطرناک مثالیں قائم کرتی ہیں، جو دیگر ممالک کو بھی قوانین کے بجائے من مانی پر اکسانے کا باعث بنتی ہیں، جس سے اقوام کے درمیان بداعتمادی اور تقسیم بڑھتی ہے اور عالمی سطح پر مشترکہ حل تلاش کرنے کی صلاحیت کمزور ہوتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری کریں، تنازعات کے آغاز سے قبل انہیں حل کرنے کے لیے چارٹر میں درج طریقۂ کار سے بھرپور استفادہ کریں اور آزاد و منصفانہ عدالتی نظام کو فروغ دیں۔انہوں نے واضح کیا کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت عالمی امن و سلامتی سے متعلق فیصلوں کا اختیار صرف سلامتی کونسل کے پاس ہے، اور صرف یہی ادارہ بین الاقوامی قانون کے تحت طاقت کے استعمال کی اجازت دے سکتا ہے۔ ان کے بقول سلامتی کونسل کی ذمہ داری منفرد اور اس کی پابندی تمام رکن ممالک پر یکساں طور پر لاگو ہوتی ہے۔