نیویارک۔28نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گو تریش نےمغربی افریقی ملک گنی بساؤ میں فوجی بغاوت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملک کے آئینی نظام کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کی مذمت کی ہے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نےبیان میں کہا کہ سیکرٹری جنرل نے واضح کیا ہے کہ 23 نومبر کے عام انتخابات میں عوام کی جانب سے پُرامن …
اقوام متحدہ کا گنی بساؤ میں فوجی بغاوت پر اظہار تشویش، آئینی نظام کی فوری بحالی کا مطالبہ

مزید خبریں
نیویارک۔28نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گو تریش نےمغربی افریقی ملک گنی بساؤ میں فوجی بغاوت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملک کے آئینی نظام کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کی مذمت کی ہے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نےبیان میں کہا کہ سیکرٹری جنرل نے واضح کیا ہے کہ 23 نومبر کے عام انتخابات میں عوام کی جانب سے پُرامن طور پر دیے گئے مینڈیٹ کو نظر انداز کرنا جمہوری اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔
انہوں نے فوری اور بلا شرط آئینی نظام کی بحالی اور تمام گرفتار شدہ حکام کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ سیکرٹری جنرل نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، جمہوری اداروں اور قانون کی حکمرانی کا احترام کریں اور عوام کے فیصلے کا پاس رکھیں۔ انتونیو گو تریش نے کہا کہ تنازعات کو پُرامن، جامع مکالمے اور قانونی طریقوں کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مغربی افریقی ممالک کی اقتصادی برادری (ایکوواس)، افریقی یونین اور ویسٹ افریقن ایلڈرز فورم کی جمہوریت کے تحفظ اور استحکام کے فروغ کے لیے جاری کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔واضح رہے کہ بدھ کو گنی بساؤ کی مسلح افواج نے قومی ٹیلی ویژن پر اعلان کیا تھا کہ بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے عدم استحکام کی مبینہ کوششوں کے پیش نظر انہوں نے ریاستی اختیار سنبھال لیا ہے، جبکہ جمعرات کو سینئر فوجی افسر ہورٹا انٹا-ا نے ایک سالہ عبوری مدت کے لیے صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا۔








