اقوام متحدہ کے مشن کی افغان طالبان کی جانب سے اسماعیلی عبادت گاہیں بند کرنے اور مذہبی رسومات پر پابندیوں کی نشاندہی

اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یواین اے ایم اے)نے افغانستان میں مذہبی آزادی پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان حکام کی جانب سے شمال مشرقی صوبے بدخشان میں اسماعیلی مسلمانوں کی درجنوں عبادت گاہیں بند کر دی گئی ہیں جبکہ اہلِ تشیع کی مذہبی رسومات پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یواین اے ایم اے)نے افغانستان میں مذہبی آزادی پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان حکام کی جانب سے شمال مشرقی صوبے بدخشان میں اسماعیلی مسلمانوں کی درجنوں عبادت گاہیں بند کر دی گئی ہیں جبکہ اہلِ تشیع کی مذہبی رسومات پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔یو این اے ایم اے کی تازہ ترین سہ ماہی انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکام، جن میں وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور دیگر متعلقہ ادارے شامل ہیں، نے مذہبی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں، ان پابندیوں کے تحت صوبہ بدخشان میں اسماعیلی مسلمانوں کی کم از کم 33 جماعت خانوں کو بند کر دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ان بند کی گئی عبادت گاہوں میں سے 17 ضلع زیباک، 14 ضلع اشکاشم اور دو ضلع واخان میں واقع ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکام نے نمازیوں اور عبادت کرنے والوں کو جماعت خانوں کا استعمال بند کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ حکام نے ان عمارتوں میں محرابوں کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان مقامات کو جماعت خانوں کے بجائے مساجد کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔مزید رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کابل میں اہلِ تشیع کی ایک امام بارگاہ پر قبضہ کر کے اسے مدرسے میں تبدیل کر دیا گیاہے جبکہ اہلِ تشیع کے پیروکاروں کے اس میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اس دوران ذرائع ابلاغ پر عائد پابندیوں کے باعث ان واقعات کی کوریج بھی محدود ہے۔ فرقہ وارانہ کشیدگی پر قابو پانے کے لیے نائب وزیرِ دفاع عبد القیوم ذاکر کو خصوصی آپریشنز کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔یو این اے ایم اے نے محرم الحرام کے دوران یومِ عاشورہ کی مذہبی رسومات پر عائد پابندیوں کی بھی تفصیلات جاری کیں۔

رپورٹ کے مطابق صوبہ پروان اور صوبہ لوگر میں اہلِ تشیع کی برادریوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنی مذہبی تقریبات کو صرف مقررہ مساجد تک محدود رکھیں۔ مزید برآں یو این اے ایم اے نے تصدیق کی ہے کہ کابل میں عاشورہ کے پرچم آویزاں کرنے پر اہلِ تشیع سے تعلق رکھنے والے 45 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا ان اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ عبادت گاہوں کی بندش اور مذہبی رسومات پر پابندیاں مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہیں، فرقہ وارانہ اختلافات کو مزید گہرا کرتی ہیں اور افغانستان میں مختلف مسلم برادریوں اور مسالک کو امتیازی سلوک اور سماجی اخراج کے خطرے سے دوچار کرتی ہیں۔

 

مزید خبریں