امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے پاکستان کے جغرافیائی و تزویراتی (geo-strategic) محل وقوع اور گزشتہ آٹھ دہائیوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی معیشت پر اس کے گہرے اثرات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ ملک کے علاقائی نقطہ نظر اور پالیسی کے فیصلوں کو اس کی تاریخ، جغرافیہ اور بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول کے تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔
امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو اجاگر کیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے پاکستان کے جغرافیائی و تزویراتی (geo-strategic) محل وقوع اور گزشتہ آٹھ دہائیوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی معیشت پر اس کے گہرے اثرات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ ملک کے علاقائی نقطہ نظر اور پالیسی کے فیصلوں کو اس کی تاریخ، جغرافیہ اور بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول کے تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران، پاکستان جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے کے خطوں میں ایک مستحکم کرنے والی قوت (stabilizing force) کے طور پر ابھرا ہے۔ہفتہ کو یہاں موصولہ پریس ریلیز کے مطابق پاکستانی سفیر نےان خیالات کا اظہار یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں طلباء، فیکلٹی اور علمی برادری کے ارکان سے "بدلتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا کردار: جغرافیائی سیاست، جنگ اور ہجرت” کے موضوع پر خطاب کے دوران کیا۔
نشست کا اہتمام ‘مشرقِ وسطیٰ کی زبانوں اور ثقافتوں کے شعبے’، ‘ایشین امریکن اور ایشیائی تارکینِ وطن کے مطالعے’، ‘نسلی مطالعات (Ethnic Studies) کے شعبے’ اور ‘عرب اور فلسطینی مطالعات کے پروگرام’ کی جانب سے کیا گیا تھا۔سفیر رضوان سعید شیخ نے علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی میں پاکستان کے تاریخی کردار پر بھی گفتگو کی اور نشاندہی کی کہ مسلسل تنازعات اور جغرافیائی سیاسی رقابتوں کے پاکستان کی سلامتی، معیشت اور معاشرے پر دیرپا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔انہوں نے ذمہ دارانہ مشغولیت (responsible engagement) کے ذریعے علاقائی امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے مسلسل عزم پر زور دیا۔طلباء کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی علاقائی پالیسیوں، افغانستان، دہشت گردی، ہجرت، سرحدوں کے انتظام اور ان حالات پر بات کی جنہوں نے خطے میں پاکستان کے کردار کا تعین کیا۔
انہوں نے پاکستان کو درپیش عصری چیلنجوں کو ایک وسیع تر جغرافیائی سیاسی اور تاریخی تناظر میں سمجھنے کی اہمیت پر زور دیا۔سفیر نے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پاکستان کی کمزوری (vulnerability) کو بھی اجاگر کیا اور ملک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف عالمی جنگ میں ایک ‘فرنٹ لائن ریاست’ (frontline state) قرار دیا، خاص طور پر اس تناظر میں کہ پاکستان کو اکثر سیلابوں اور دیگر شدید موسمی واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے پاکستان کو ایک ایسی باہمت اور لچکدار قوم قرار دیا جس نے بارہا بحرانوں اور تنازعات کا سامنا کیا ہے، اور اس کے باوجود امن، استحکام اور ترقی کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھی ہیں۔انہوں نے طلباء اور ماہرینِ تعلیم کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ پاکستان کی تاریخ، عوام اور موجودہ زمینی حقائق کے ساتھ، عام رائج تصورات سے ہٹ کر، زیادہ ذاتی اور گہرا تعلق قائم کریں۔







