انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) نے یوتھ فورم فار کشمیر (وائی ایف کے) کے اشتراک سے یوتھ پالیسی ڈائیلاگ 2026 کا انعقاد کیا جس میں 100 سے زائد نوجوانوں نے شرکت کی
انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز اور یوتھ فورم فار کشمیر کے اشتراک سے یوتھ پالیسی ڈائیلاگ 2026 کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) نے یوتھ فورم فار کشمیر (وائی ایف کے) کے اشتراک سے یوتھ پالیسی ڈائیلاگ 2026 کا انعقاد کیا جس میں 100 سے زائد نوجوانوں نے شرکت کی۔
مکالمے میں جموں و کشمیر کے تنازع اور اس کے وسیع تر علاقائی و تزویراتی اثرات کا جائزہ لیا گیا۔مکالمے کا مقصد نوجوانوں کو تنازع کشمیر کے تاریخی اور قانونی پس منظر، سلامتی سے متعلق اثرات، انسانی حقوق کے پہلوئوں اور اس حوالے سے معلومات کے پھیلائو کے ماحول سے آگاہ کرنا تھا تاکہ وہ مسئلہ کشمیر کے لیے موثر آواز اٹھانے اور پالیسی سازی میں بامعنی کردار ادا کر سکیں۔مکالمے کے شرکا کو چار پالیسی کمیٹیوں میں تقسیم کیا گیا جنہیں مختلف اہم موضوعات پر سفارشات تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ان موضوعات میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اور اس کے تزویراتی اثرات، پاکستان کی انسداد دہشت گردی پالیسی میں نئی حکمت عملی اور علاقائی سلامتی کے چیلنجز، کشمیر میں ہائبرڈ وار فیئر کے معلوماتی ماحول اور علاقائی استحکام پر اثرات جبکہ تنازعات کے دوران انسانی سلامتی بالخصوص خواتین، بچوں اور آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) اور پاکستان کے باہمی تعلقات کے پہلو شامل تھے۔
ہر کمیٹی کے سربراہ نے اپنے گروپ کی پالیسی سفارشات ماہرین کے ایک پینل کے سامنے پیش کیں۔ پینل میں رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شازیہ سومرو، ایڈیشنل اٹارنی جنرل پاکستان رشیدین نواز، سینئر صحافی اور پی ٹی وی نیوز کے سابق ڈائریکٹر کرنٹ افیئرز عون عباس ساہی، ڈاکٹر آدم سعود، ڈاکٹر شبانہ فیاض، شمیم شاہل اور زمان باجوہ شامل تھے۔یوتھ پالیسی ڈائیلاگ میں بغداد میں 17 اور 18 اکتوبر 2026ء کو منعقدہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کے 52ویں اجلاس میں مسئلہ جموں و کشمیر سے متعلق منظور کی گئی قرارداد کا بھی خیرمقدم کیا گیا۔تقریب کے اختتام پر نوجوانوں نے پاکستان کو مضبوط بنانے اور مسئلہ کشمیر کے لیے ملک کے عزم کو مزید موثر اور فعال بنانے کے عہد کا اظہار کیا۔ مکالمے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ نوجوان مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آگاہی، پالیسی سازی اور موثر سفارتی و عوامی کوششوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔







