اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں انشورنس کمپنیوں نے 2025ء کے دوران موٹر، حادثات و صحت اور آگ و املاک سے متعلق دس لاکھ سے زائد کلیمز نمٹائے۔ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے اپنی انشورنس انڈسٹری اعدادو شماررپورٹ 2025 میں پہلی بار مختلف شعبوں میں ادا کیے گئے کلیمز کی تعداد بھی شائع کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق لائف انشورنس کے مجموعی کلیمز 410 …
انشورنس کمپنیوں نے 2025ء میں دس لاکھ سے زائد کلیمز نمٹائے، ایس ای سی پی

مزید خبریں
اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں انشورنس کمپنیوں نے 2025ء کے دوران موٹر، حادثات و صحت اور آگ و املاک سے متعلق دس لاکھ سے زائد کلیمز نمٹائے۔ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے اپنی انشورنس انڈسٹری اعدادو شماررپورٹ 2025 میں پہلی بار مختلف شعبوں میں ادا کیے گئے کلیمز کی تعداد بھی شائع کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق لائف انشورنس کے مجموعی کلیمز 410 ارب روپے رہے جبکہ نان لائف انشورنس کمپنیوں نے تقریباً 138 ارب روپے کے کلیمز ادا کیے۔ 2024ء میں یہ اعداد بالترتیب 380 ارب اور 92 ارب روپے تھے۔ لائف انشورنس میں وفات سے متعلق کلیمز کی مالیت 33 ارب روپے سے بڑھ کر تقریباً 37 ارب روپے ہوگئی۔نئے جاری کردہ اعداد کے مطابق لائف انشورنس کمپنیوں نے سال کے دوران وفات سے متعلق 33 ہزار سے زائد کلیمز ادا کیے۔ نان لائف کمپنیوں نے حادثات اور صحت کے سات لاکھ 20 ہزار سے زائد، موٹر انشورنس کے دو لاکھ 82 ہزار سے زائد اور آگ و املاک کے تقریباً 11 ہزار کلیمز نمٹائے۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ کلیمز کی ادائیگی انشورنس کمپنیوں کی کارکردگی جانچنے کا ایک اہم پیمانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلیمز کی مالیت کے ساتھ ان کی تعداد شائع کرنے سے احتساب بڑھے گا، پالیسی ہولڈرز کا اعتماد مضبوط ہوگا اور انشورنس شعبے کی پائیدار ترقی میں مدد ملے گی۔ رپورٹ کے مطابق انشورنس صنعت کے مجموعی اثاثے نو فیصد سے زائد اضافے کے بعد 4.1 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے جبکہ مجموعی تحریر شدہ پریمیم 15 فیصد بڑھ کر 778 ارب روپے ہوگیا۔
لائف انشورنس کے پریمیم میں 14 فیصد اور نان لائف انشورنس کے پریمیم میں 16 فیصد اضافہ ہوا۔نجی شعبے کی لائف انشورنس کمپنیوں میں ہیلتھ انشورنس کا پریمیم 49 فیصد بڑھ کر 30.4 ارب روپے اور ٹرم لائف انشورنس کا پریمیم تقریباً 37 فیصد اضافے کے ساتھ 19.7 ارب روپے سے زیادہ ہوگیا۔ نان لائف شعبے میں موٹر انشورنس کا پریمیم تقریباً 35 فیصد بڑھ کر 78.5 ارب روپے سے زائد جبکہ حادثات اور صحت کی انشورنس کا پریمیم تقریباً 42 فیصد بڑھ کر 35.7 ارب روپے سے زائد ہوگیا۔
ڈیجیٹل ذرائع سے حاصل ہونے والا پریمیم 71 فیصد اضافے کے بعد تقریباً 6.8 ارب روپے رہا۔ تکافل کا حصہ لائف انشورنس مارکیٹ میں 16 فیصد اور نان لائف انشورنس مارکیٹ میں 15 فیصد رہا۔مکمل رپورٹ ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔







